’امپورٹڈ عہدے دار پاکستانی کرکٹرز کے مسائل نہیں جانتے‘

سابق سپنرعبدالقادر اور سابق اوپنر عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ کے ڈومیسٹک ڈھانچے میں تبدیلیاں مسترد کر دیں۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان(تصویر پی سی بی)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہفتے کو ڈومیسٹک کرکٹ کا نیا ڈھانچہ متعارف کرایا ہے، جس کے مطابق فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کر کے چھ صوبائی ٹیمیں بنائی جائیں گی۔

اس حوالے سے لاہور میں منعقدہ تقریب میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی، چیف ایگزیکٹو وسیم خان اورڈائریکٹرڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید موجود تھے۔

نئے ڈھانچے کے مطابق 16 ریجنز کو چھ ایسوسی ایشنز میں ضم کردیا گیا ہے۔ تاہم، سابق ٹیسٹ کھلاڑی عبدالقادر کہتے ہیں کہ پی سی بی میں امپورٹڈ عہدے داران پاکستان میں کھلاڑیوں کو درپیش مسائل سے آگاہ نہیں۔

’گلی محلوں سے کھیل کر سٹار بننے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر اندازکر کے کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانا ناممکن ہے۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کے بعد ایک ملاقات میں جب وزیر اعظم نے سینیئر کھلاڑیوں انضمام الحق، وسیم اکرم،رمیض راجہ، ذاکر خان، جاوید میاں داد و دیگر کی موجودگی میں کہا وہ ڈیپارٹمینٹل کرکٹ ٹیمیں ختم کرنا چاہتے ہیں تو سب خاموش رہے لیکن میں نے کہا یہ غریب اور چھوٹےعلاقوں کے کھلاڑیوں سے زیادتی ہو گی اور سلیکشن پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے لہٰذا آپ ایسا نہ کریں۔

عبدالقادر نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان کا مشورہ نہیں مانا اور چیئرمین پی سی بی اور دیگرعہدے داروں کے مشورے پر ڈومیسٹک سٹرکچر تبدیل کردیا جس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔

ان کے خیال میں 16 علاقائی ٹیمیں ختم کر کے ملک بھر سے صوبائی سطح پر صرف چھ ٹیمیں بنانے سے ہزاروں کھلاڑی اے کلاس کرکٹ سے بھی محروم ہو جائیں گے اور کلب کرکٹ بھی ختم ہو جائے گی۔

’کھیلوں کی بنیاد پر ڈپارٹمنٹس میں نوکریاں نہ ملنے پر کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔‘

انہوں نے بتایا پی سی بی میں صرف نجم سیٹھی کو ہٹا کر احسان مانی کو لایا گیا جبکہ باقی پوری انتظامیہ وہی پرانی ہے جس کے پاس کرکٹ کی بہتری کا کوئی نیا تصور نہیں بلکہ پہلے سے موجود نظام کو بھی خراب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے سوال کیا بورڈ حکام مصباح الحق کو ہیڈ کوچ جبکہ وقار یونس کوبولنگ کوچ بنانا چاہتے ہیں، وہ تو پہلے بھی ٹیم کے ساتھ موجود رہے اب نیا کیا کریں گے؟

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے پی سی بی کی نئی ڈومیسٹک سٹرکچرنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نچلی سطح پرکرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

’عمران خان سمیت ہم سب کھلاڑی موجودہ سٹرکچر کے تحت ہی قومی ٹیم میں منتخب ہوئے اور دنیا کی بہترین ٹیم بن کر رہے۔‘

انہوں نے کہا نچلی سطح پر ٹیمیں ختم کرنے سے ٹیلنٹ تباہ ہو گا اور یہ اقدام ہاکی کی طرح کرکٹ کے کھیل کو بھی شدید متاثر کرے گا۔

نیا سٹرکچر کیسا ہے؟

پاکستان میں کرکٹ کے نئے ڈومیسٹک سٹرکچر کے تحت سب سے اوپر چھ ریجن بنائے گئے ہیں۔

سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن میں کراچی، حیدرآباد اور لاڑکانہ کے ریجن شامل ہیں۔ بلوچستان کرکٹ ایسوسی ایشن میں ڈیرہ مراد جمالی اور کوئٹہ شامل ہیں۔

جنوبی پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن میں ملتان اور بہاولپور کے ریجنز جبکہ وسطی پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن میں فیصل آباد، سیالکوٹ اور لاہور شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح خیبرپختونخوا کرکٹ ایسوسی ایشن میں پشاور، فاٹا اورایبٹ آباد اور شمالی کرکٹ ایسوسی ایشن میں اسلام آباد، راولپنڈی اور آزاد جموں و کشمیر کے ریجنز شامل ہیں۔

پی سی بی کے مطابق، تین مختلف درجات میں تقسیم ڈومیسٹک سٹرکچر نئے اور باصلاحیت کرکٹروں کو نمایاں پہچان دے گی۔

پہلے درجے میں 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے سکول اور کلب کرکٹ کا انعقاد کریں گی۔ اس کے بعد ہر سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن اپنی اپنی کرکٹ ٹیمیں تیار کرے گی۔

دوسرے درجے میں سٹی کرکٹ ٹیمیں اپنی متعلقہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے تحت انٹرا سٹی مقابلوں میں شرکت کریں گی۔

تیسرے درجے میں انٹراسٹی کرکٹ مقابلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو متعلقہ کرکٹ ایسوسی ایشن میں شامل کیا جائے گا اور ہر کرکٹ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کو سالانہ ڈومیسٹک کنٹریکٹ دے گی۔

چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔ ملک بھر میں قائم چھ ہائی پرفارمنس مراکز کھلاڑیوں کو معیاری کرکٹ، طرز زندگی اور کھیل میں جدت رکھنےوالے تمام ہنر سکھانے میں مدد دیں گے۔یہ کھلاڑی سیزن میں ایسوسی ایشن کے لیے فرسٹ کلاس، نان فرسٹ کلاس، لسٹ اے اورٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گے۔

یہ کھلاڑی پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کاحصہ نہیں ہوں گے۔ ان 32 ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے علاوہ بھی کرکٹ ایسوسی ایشن کسی اور کھلاڑی کو فی میچ معاوضہ دے کرٹیم میں شامل کرسکتی ہے۔

ڈومیسٹک کنٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ماہانہ 50 ہزار روپے معاوضہ ملے گا۔ ایک سیزن میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والا ایک کھلاڑی میچ فیس، الاؤنسز اور انعامی رقوم کی مد میں 20 سے 25 لاکھ روپے معاوضہ وصول کرے گا جس کی تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ نیا ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر سابق کھلاڑیوں اور کوالیفائیڈ کوچز کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔

ہر کرکٹ ایسوسی ایشن کو انتظامی امور نمٹانے کے ساتھ ساتھ ٹیم منیجمنٹ تشکیل دینا ہوگی۔ ٹیم منیجمنٹ میں ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ، بولنگ کوچ، فیلڈنگ کوچ، ٹرینر، فزیوتھراپسٹ اور ویڈیو اینالسٹ شامل ہوں گے۔

تمام معاون سٹاف متعلقہ ایسوسی ایشن کی فرسٹ الیون، سیکنڈ الیون، انڈر 13، انڈر 16، انڈر 19 اور ہائی پرفارمنس سینٹر کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائے گا۔

ہر کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ تین سلیکٹرز بھی کام کریں گے۔ فرسٹ کلاس اور نان فرسٹ کلاس ٹورنامنٹس کے بیک وقت جاری رہنے سے ہر ایسوسی ایشن کو بہترین الیون کا انتخاب کرنے میں مدد ملے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ