کرفیو کے بعد مودی کا اصل امتحان ہوگا: پاکستانی وزیر داخلہ

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت تو جاری رکھے گا لیکن انہیں مسلح جدوجہد کے لیے کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔

ایف ای ٹی ایف کے اقدامات پاکستان کے مفاد میں ہیں: وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ(روئٹرز)

پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو ختم ہونے پر ہی کشمیریوں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اصل  امتحان شروع ہوگا۔ 

پیر کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے مختلف سوالوں کے جواب کچھ یوں دیے۔

کشمیر کی صورتحال:

اعجاز شاہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر کہا جموں اور لداخ میں مسلم آبادی کم ہے لہذا وہاں لاک ڈاؤن اتنا سخت نہیں جبکہ مسلم اکثریتی کشمیر میں سخت پابندیاں اور لاک ڈاؤن ہے۔

عالمی برادری کو مسئلہِ کشمیر پر ردعمل دکھانا ہو گا۔ ابھی خطے میں کرفیو نافذ ہے، جس کے ختم ہونے کے بعد ہی مودی اور کشمیری عوام کا امتحان شروع ہوگا۔ اُس وقت حالات کا اندازہ ہو گا۔ ’جتنا وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کاز کے لیے کام کیا اتنا کسی رہنما نے نہیں کیا۔‘

کیا پاکستان مجاہدین کی مدد کرے گا؟

’پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت تو جاری رکھے گا لیکن انہیں مسلح جدوجہد کے لیے کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں علیحدگی پسندی کا رجحان تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔‘

ایف اے ٹی ایف:

انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف کے اقدامات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ ’دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا ایک علاقے میں کسی ایک وار لارڈ کی رٹ ہو اور کسی دوسرے علاقے میں کسی دوسرے کی۔‘

انہوں نے بتایا ایف اے ٹی ایف کے کچھ اقدامات پاکستان کے لیے فائدہ مند ہیں لیکن بھارت کوشش کر رہا ہے ایف اے ٹی ایف کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دے سکے۔

کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی:

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو قونصلر رسائی دینے کے معاملے پر انہوں نے کہا یہ قدم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا اور مودی حکومت کے پانچ اگست کے اقدامات کی وجہ سے اس فیصلے کو بدل نہیں سکتے۔

’ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر کام کرنا ہے جو دیانت دار ہے۔ اگر ہم کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے اپنا فیصلہ بدل لیتے تو ہم میں اور مودی میں کوئی فرق نہیں رہ جانا تھا۔‘

حکومت کی نواز شریف، آصف علی زرداری سے ڈیل ہو رہی ہے؟

مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما آصف علی زرداری سے حکومتی ڈیل کی قیاس آرئیوں پر اعجاز شاہ نے کہا پلی بارگین نیب کے قوانین میں شامل ہے۔

’اگر نواز شریف یا آصف علی زرداری کوئی ڈیل کر رہے ہیں تو نیب سے ہی کر رہے ہوں گے۔ وزارت داخلہ جوعمومی طور پر ایسی ڈیلز کا حصہ ہوتی ہے اس ڈیل میں شامل نہیں۔‘

سعودی عرب سے قیدیوں کی واپسی:

جب ان سوال کیا گیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے بعد حکومت ان کی وطن واپسی کو کیسے یقینی بنا رہی ہے تو ان کا کہنا تھا ایسے قیدیوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

’یہ ایک مشکل عمل ہے۔ اپنی تمام جمع پونجھی سمیت ملک چھوڑنے والے افراد قید ختم ہونے کے بعد پاکستان واپس آنے پر کم ہی راضی ہوتے ہیں۔‘

کالعدم تنظیموں کے خلاف اقدامات:

وزیر داخلہ کا کہنا تھا پاکستان اس حوالے سے پہلے ہی کافی اقدامات لے چکا ہے اور ضرورت پڑی تو مزید اقدامات بھی لیں گے۔

میڈیا کا کردار: 
پاکستان میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے اعجاز شاہ نے کہا امریکہ کے دو اخبارنیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ دنیا چلا رہے ہیں۔ان کی خبروں کا اثر پوری دنیا پر ہوتا ہے۔

’پاکستانی میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کم سے کم منشیات کے معاملے پر تو پاکستانی میڈیا کو کھل کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ رپوٹنگ کرنا کوئی مشکل کام نہیں، یہ میں بھی کر سکتا ہوں۔ میڈیا کو ملک اور قوم کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘

افغان امن عمل:

افغانستان امن عمل کے حوالے سے کیے گئے اس سوال پر کہ کیا مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ امریکی ایما پر کیا تاکہ افغانستان سے توجہ ہٹائی جا سکے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اعجاز شاہ کا کہنا تھا درحقیقت ایسا نہیں کیونکہ ایسا کرنا افغانستان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔ ’بیرونی خطرات ہمیشہ ہی پاکستان قوم کو متحد اور طاقتور بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان