کشمیر میں عسکری تحریک: متحدہ جہاد کونسل کا پاکستان سے اسلحے کا تقاضا

کشمیری عسکری تنظیموں کے ایک اتحاد کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا ہے بے تحاشا پابندیوں کے باعث وہ اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے قابل نہیں لہذا پاکستان یا تو ان کو عسکری مدد دے یا پھر اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرے۔

سید صلاح الدین نے پاکستانی حکام کا نام لیے بغیر پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے جواب میں ہونے والی سیاسی اور سفارتی کوششوں کو غیر اطمینان بخش قرار دےدیا ہے۔ (اے ایف پی)

جموں و کشمیر کی لگ بھگ ایک درجن عسکری تنظیموں کے اتحاد 'متحدہ جہاد کونسل' نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح جدوجہد کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں اتوار کو عوامی اجتماع سے خطاب میں سید صلاح الدین نے کہا 'بے تحاشہ پابندیوں کے باعث ہم اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے قابل نہیں۔ پاکستان یا تو ہماری عسکری مدد کرے یا پھر اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرے تاکہ ہمارے نوجوان کئی دہائیوں سے جاری اپنی جدوجہد آگے بڑھا سکیں۔'

سید صلاح الدین نے پاکستانی حکام کا نام لیے بغیر پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے جواب میں ہونے والی سیاسی اور سفارتی کوششوں کو غیر اطمینان بخش قرار دیا۔

انہوں نے کہا 'ہندوستان نے کشمیر کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم متعلقہ حکام کی سیاسی و سفارتی کوششوں سے مطمئن نہیں۔'

سید صلاح الدین کے مطابق جموں وکشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے، ہندوستان اسے دو طرفہ معاملہ تسلیم کرنے کے باوجود یک طرفہ طور پر اپنے زیر انتظام جموں وکشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کر چکا ہے، اقوام متحدہ کشمیر میں اپنا امن مشن بھیجے۔

انہوں نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

تاہم، پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور انہیں مسلح جدوجہد کے لیے کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ ’برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں علیحدگی پسندی کا رجحان تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سید صلاح الدین کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اور مواصلاتی بندش کو لگ بھگ ایک ماہ ہو چکا ہے اور سکیورٹی حکام کی جانب سے کشمیری نوجوانوں پر تشدد اور گرفتاریوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

سید صلاح الدین کون ہیں؟

جون 2017 میں امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے گئے اہم کشمیری عسکری رہنما سید صلاح الدین کا اصل نام سید یوسف شاہ ہے اور وہ فروری 1948 میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام میں پیدا ہوئے۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ ہونے کے علاوہ وہ معروف کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سینیئر رہنما ہیں۔

حزب المجاہدین سمیت 'متحدہ جہاد کونسل' میں شامل دوسری کئی تنظیمیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت میں شامل رہی ہیں۔

عسکری تحریک میں شامل ہونے سے قبل سید صلاح الدین ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی طور پر بھی کافی سرگرم رہے اور 1987 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔ تاہم متنازع نتائج کی وجہ سے سیاست چھوڑ کر عسکریت پسندی اختیار کر لی۔

1996 میں لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے والے سید صلاح الدین کو 14 عسکری تنظیموں کے اتحاد 'متحدہ جہاد کونسل' کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

سید صلاح الدین اپنی مادری زبان کشمیری کے علاوہ اردو اور انگریزی پر بھی مہارت رکھتے ہیں اور انگریزی زبان میں شاعری بھی کرتے رہے ہیں۔

2017 میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہِ امریکہ کے دوران واشنگٹن نے حزب المجاہدین پر پابندی عائد کی اور سید صلاح الدین کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا