برطانوی وزیر اعظم کا بریگزٹ نہ ہونے پر جلد الیکشن کرانے کا اعلان

بورس جانسن دارالعوام میں بریگزٹ کی حمایت میں ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کی صورت میں 14 اکتوبر کو قبل ازوقت عام انتخابات کا اعلان کردیں گے۔

وزیراعظم بورس جانس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کے مطالبات پورے نہیں کریں گے (اے ایف پی)

برطانیہ میں اعلیٰ سرکاری حکام نے منگل کو کہا کہ وزیراعظم بورس جانسن دارالعوام میں بریگزٹ کی حمایت میں ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کی صورت میں قبل ازوقت عام انتخابات کا اعلان کردیں گے جو 14 اکتوبر کو ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو یقین ہے کہ الیکشن کی قرارداد دارالعوام میں دوتہائی اکثریت حاصل کر لے گی، جوقانون کے مطابق قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے ضروری ہے۔

وزرا آج منگل کی شام قرارداد ایوان میں پیش کریں گے لیکن اس پر رائے شماری بدھ کو صرف اس صورت ہوگی اگر ارکان پارلیمنٹ کل دارالعوام کی کارروائی کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے تاکہ 31 اکتوبر کو معاہدے کے بغیر بریگزٹ کا راستہ روکا جا سکے۔

10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں اپنے دفتر کے باہر بریگزٹ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے نعروں کے شور میں بورس جانسن نے زور دیا کہ وہ قبل از وقت انتخابات نہیں چاہتے۔

10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ذرائع نے کہا وزیراعظم کے اقدام کا مقصد اس موقعے کو اجاگر کرنا ہے جو ارکان پارلیمنٹ کو منگل کو ووٹ دینے کے موقعے پرملے گا۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ وزیراعظم کی حمایت نہ کرنے والے کسی بھی ٹوری رکن کو نامزدگی سے محروم کر دیا جائے گا اور وہ پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

یہ ڈرامائی صورت حال اس وقت سامنے آئی جب لیبر، لبرل ڈیموکریٹس،حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں اور ٹوری پارٹی کے نو ڈیل بریگزٹ کے مخالف باغی اتحاد نے ایک مسودہ قانون شائع کیا جس کے تحت وزیراعظم کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ بریگزٹ پر مذاکرات میں جنوری کے آخر تک توسیع کی درخواست کریں۔

دارالعوام میں لیبر پارٹی کی بریگزٹ کمیٹی کے چیئرمین ہلیری بین اور سابق ٹوری وزیر السٹیئر برٹ کے نام سے جاری کیے گئے مسودہِ قانون کی شرائط کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن صرف اس صورت بریگزٹ میں توسیع سے بچ سکیں گے کہ وہ بیلجیئم سے معاہدہ کرلیں یا 19 اکتوبر تک برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے نو ڈیل بریگزٹ کے لیے حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

مسودہ قانون میں بریگزٹ کے حامی ارکان پارلیمنٹ کے غصے کے جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یورپی یونین نے بریگزٹ کی 31 جنوری کی نئی مجوزہ ڈیڈ لائن مسترد کردی تو وزیراعظم کو اپوزیشن کی ترجیحی تاریخ’لازمی‘قبول کرنے پڑے گی بشرط یہ کہ دارالعوام اس تاریخ کو مسترد نہ کردے۔

باغی اتحاد کے قریبی ذرائع نے کہا مسودہ قانون وزیراعظم بورس جانسن کو وقت دینے کے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بریگزٹ معاہدہ اور اس کی توثیق کے لیے صحیح معنوں میں کوشش کرسکیں۔

مسوہ قانون میں کافی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اس کی شرائط کی پابندی کے انکار کی صورت میں اکتوبر کے آخری ہفتوں میں قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔

معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے اخراج کے مخالف برطانوی ارکان پارلیمنٹ موسم گرما کی پارلیمانی تعطیلات کے اختتام پر منگل کو ہنگامی طورپر قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ دارالعوام کے اگلے دن کے ایجنڈے کوکنٹرول میں لے کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قانون منظور کروایا جا سکے، اس سے پہلے کہ وزیراعظم بورس جانسن اگلے ہفتے پارلیمنٹ کو معطل کردیں۔

وزیراعظم بورس جانس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کے مطالبات پورے نہیں کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ایسے’حالات نہیں‘جن کے تحت وہ بیلجیئم حکومت سے بریگزٹ کو ہیلووین کے بعد تک ملتوی کرنے کا کہیں۔

ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے یہ بتانے سے تو انکار کردیا کہ آیا ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے اپنے منصوبے ناکام بنائے جانے کی صورت میں وزیراعظم بورس جانسن خاموش ہو جائیں گے، لیکن کہا:’وہ برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے بریگزٹ میں توسیع کا کہنے کے لیے برسلز نہیں جائیں گے۔یہ واضح ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔‘

’وہ ای میل کے ذریعے بھی ایسا نہیں کریں گے۔ وہ فون کال بھی نہیں کریں گے۔ٹیکسٹ میسیج بھی نہیں ہوگا اورنہ ہی ٹویٹ کیا جائے گا۔وزیراعظم کی سوچ بہت واضح ہے ہم 31 اکتوبر تک یورپی یونین چھوڑ رہے ہیں۔ ایسا ہی ہوگا اوروزیراعظم اس عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔‘

برطانوی حکام نے کہا کہ 14 اکتوبر کو عام انتخابات کی تاریخ اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ جیتنے والا 17 اکتوبر کو یورپی یونین سربراہ اجلاس میں شرکت کر سکے جس کے بارے میں وزیراعظم بورس جانسن کو امید ہے کہ یورپی یونین سے اخراج کا نیا معاہدہ ہو جائے گا جس کے تحت دو ہفتے بعد میں متوازن اخراج ممکن ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی مذاکراتی ٹیم بیلجیئم سے بات چیت جاری رکھے گی اور کسی بھی انتخابی مہم کے دوران معاہدے کے بغیر بریگزٹ کی تیاریاں ہوتی رہیں گی۔

ان برطانوی حکام نے بریگزٹ پارٹی کے ساتھ کسی انتخابی معاہدے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔بریگزٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژنے واضح کر دیا ہے کہ وہ ٹوری پارٹی کے خلاف امیدوار کھڑے کریں گے۔انہوں نے کہا:’ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں۔شفاف بریگزٹ کا وقت آ چکا ہے۔‘

وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بریگزٹ معاہدے کے امکانات میں’اضافہ‘ہو رہا ہے لیکن سرکاری حکام نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رہنما واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس وقت تک کوئی کردار ادا نہیں کریں جب تک کہ انہیں یقین نہ ہو کہ پارلیمنٹ معاہدے کے بغیر بریگزٹ کو کو مسترد نہیں کر دے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ میں انتخابات کے لیے وزیراعظم آفس کی انتخابات کے لیے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کی امیدوں میں اس وقت اضافہ ہو گیا تھا لیبرپارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے دن کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کی حمائت کریں گے۔

سالفورڈ میں لیبر پارٹی کی ریلی سے خطاب میں جیریمی کوربن نے کہا:’الیکشن کی صورت میں مجھے خوشی ہوگی۔میں اس کے لیے تیار ہوں۔آپ تیار ہیں۔ہم تیار ہیں۔ہم اس پیغام کو پھیلائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم جیتیں گے۔‘

لیکن لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے جیریمی کوربن پر زور دیا ہے کہ وہ اس ’ہاتھی کے جال‘میں مت پھنسیں جو الیکشن کی شکل میں بریگزٹ کے حامیوں نے بچھایا ہے۔انہوں نے پیش گوئی کہ اس جال کی بدولت ٹوری پارٹی’آرام‘کے ساتھ جیت جائے گی۔

وزیراعظم بورس جانسن نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں کابینہ کے بلا شیڈول اجلاس کے بعد اپنے بیان میں انتخابی منصوبے کا ذکر نہیں کیا لیکن کہا کہ معاہدے کے امکانات بڑھ رہے ہیں کیونکہ اب یورپی یونین کے رہنماؤں کو پتہ چل گیا ہے کہ برطانیہ ہیلووین کے موقعے پر بریگزٹ کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا’جو ہوگا دیکھا جائے گا۔‘

بورس جانسن نے خبردارکیا ہے کہ دارالعوام میں بریگزٹ میں مزید تاخیر کے حق میں ووٹ’برطانیہ کے مؤقف کو کمزور کر دے گا اور مزید مذاکرات بالکل ناممکن ہو جائیں گے۔‘

انہوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر’جیریمی کوربن کی بے تکی تاخیر‘کے خلاف ووٹ دیں۔انہوں نے کہا:’میں سب کو بتا دینا چاہتا ہوں۔ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے جس کے تحت میں بیلجیئم کو بریگزٹ میں تاخیر کے لیے کہوں۔کوئی اگر مگر نہیں۔ہم 31 اکتوبر کو یورپی یونین چھوڑ رہے ہیں۔‘

اعلیٰ ٹوری قیادت پر مشتمل نام نہاد’گوک وارڈ سکواڈ‘کے قریبی ذرائع نے نوڈیل بریگزٹ کی مخالفت کی ہے اور کہا:’وزیراعظم کے لیے ایسے ساتھیوں پر انگلی اٹھانا آسان ہے جو پارٹی قیادت کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ایسے ساتھی جنہوں نے تین مرتبہ معاہدے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اس وقت انہوں نے جیریمی کوربن کے ساتھ مل کر ووٹ ڈالا جس سے برطانوی تاریخ میں حکومت کو پارلیمانی محاذ پر دو سب سے بڑی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘

’الیکشن کے لیے وزیراعظم سے جو بن پڑے وہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ آخری مقصد ہے جو وہ چاہتے ہیں۔‘

سکاٹ لینڈ کی سینیئر وزیر نکولا سٹرجن نے کہا:’(یہ)بات صاف ہے کہ بورس جانسن کے پاس معاہدے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔اگرکل ارکان پارلیمنٹ نے توجہ نہ دی تو وہ 31 اکتوبر کو برطانیہ کو معاہدے کے بغیر بریگزٹ کے خطرناک راستے پر لے جائیں گے۔انہیں ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہونا چاہیئے۔‘

بریگزٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کے لیے عوامی مہم کی ممتاز حامی اور لیبر پارٹی کی رہنما ڈیم مارگریٹ بیکٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کے اقدامات سے ان کا’خوف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں پارلیمنٹ یا ملک میں بریگزٹ کے لیے اکثریت کی حمائت حاصل نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا’اب وہ ٹوری پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن میں امیدوار نامزد نہ کرنے کی دھمکی دے کر،قبل از وقت الیکشن کا اشارہ کرکے حتیٰ کہ ساتھیوں کو یہ کہنے کی اجازت دے کر کہ اگر ارکان پارلیمنٹ نے مسودہ قانون منظور کیا تو اس پرعمل سے انکار کرکے اس کی خلاف وزری کریں گے،بریگزٹ کو پارلیمنٹ سے غیرجمہوری انداز میں منطور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ