عدلیہ کی بدحالی کے اسباب

قانون کے مطابق بلاتفریق عدل و انصاف جس معاشرے میں ہو رہا ہو اس معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیاں پنپتی ہیں۔ ہم ماضی کی گئی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ہر ادارہ اپنی حدود و قیود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے تو ملک ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ سکتا ہے۔

ہمارے جمہوری مملکت کے تین ستون جس زبوں حالی کا شکار ہیں اہل دانش و بصیرت خوب خوب آگاہی رکھتے ہیں کہ چوتھے ستون عدلیہ کی بدحالی کے اسباب وہی ہیں جنھوں نے انتظامیہ کو کام چور اور بدعنوان، مقننہ کو بازیچہ اطفال اور صحافت کو زیربار اور روبہ زوال کر رکھا ہے۔

شومئی قسمت سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک سوائے حامد خان کے کسی بھی دانشور یا وکیل نے عدلیہ کی بدحالی کے اسباب پر قلم نہیں اٹھایا۔ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس عبدالرشید نے آزاد عدلیہ کی بنیاد رکھی اور اسے درست سمت فراہم کی مگر چیف جسٹس محمد منیر نے ’نظریہ ضرورت‘ ایجاد کرکے عدلیہ کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ چیف جسٹس کارنیلس نے مشکلات کے باوجود عدلیہ کا وقار بحال کیا۔

پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں نیک نام منصفین انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جنھوں نے کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا مگر ان کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ نیک نام منصفین کو دوران ملازمت ہی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا۔ اگر کوئی اپنی مدت ملازمت پوری کر جاتا تو ازاں بعد اسے کسی ٹربیونل کا سربراہ بنا کر اس پر غصہ اتارا جاتا۔

جسٹس ایس اے رحمن 1968ء میں چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب سے ریٹائرڈ ہوتے ہیں وہ نیک نام منصف ہوتے ہیں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اگر تلہ سازش کیس کے ذمہ داروں کو تعین کرنے کے لیے سابق وفاقی وزیر قانون و ممتاز وکیل ایس ایم ظفر کی وساطت سے انھیں ٹریبونل کی سربراہی کرنے کی درخواست کی جاتی ہے وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ انتہائی پیچیدہ اور نازک سیاسی معاملہ ہے بہتر ہے کہ جج صاحبان ڈھاکہ ہائی کورٹ سے لیے جائیں اس پر ظفر صاحب دلیل پیش کرتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان اگر اسپیشل ٹریبونل کے چئرمین ہوں گے تو اس کے وقار و اعتبار میں اضافہ ہو گا۔ جسٹس صاحب نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے سربراہی قبول کرتے ہیں۔

جسٹس ایس اے رحمان مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں ڈھاکہ جاتے ہیں اور کئی روز قیام کرتے ہیں۔ 1968ء میں ایوب خان اپنی دس سالہ ترقی کا جشن منایا عوام کے اندر شدید ردعمل ہوتا ہے۔ اگر تلہ سازش کیس کے مرکزی کرداروں تک پہنچا نہیں جاتا کہ 17 فروری 1969ء کو اگر تلہ سازش کیس کے ملزم سارجنٹ کے ملزم ظہور الحق کو فرار ہونے کی کوشش پر گولی مار دی جاتی ہے۔

جسٹس ایس اے رحمان ڈھاکہ ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوتے ہیں ریسٹ ہاؤس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے اور جج صاحب کو قمیض، پاجامے اور چپل میں جان بچانے کے لیے ملازمین کے کوارٹر میں پناہ لینا پڑی۔ اس حادثہ کے بعد پورا منظرنامہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ’حوالہ الطاف حسین قریشی کی کتاب ملاقاتیں کیا کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منصفین جب کسی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں تو پھر وہ اپنے فرائض کماحقہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ انسان فطری طور پر لالچی ہوتا ہے دوران ملازمت یا ملازمت کے بعد اعلیٰ پوسٹ پر تعنیاتی بھی ذہن کے کسی گوشے میں اٹکی ہوتی ہے۔

جسٹس منیر جب ایوب خان کے وزیر قانون بنے وہی جسٹس منیر جنھوں نے بطور چیف جسٹس نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور ایوب خان کے مارشل لاء کے حق میں فیصلہ سنایا۔ ایوب خاں نے اپنا شخصی آئین نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے جسٹس منیر سے اس کی آئین میں بنیاد اور جواز کے متعلق پوچھا تو اس پر جسٹس منیر نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ موچی گیٹ لاہور میں ایک جلسہ کریں پھر اسی طرح قصہ خوانی بازار پشاور اور ایک جلسہ پلٹن میدان ڈھاکہ میں کریں اور شرکاء سے ہاتھ کھڑا کروا کر اس آئین کی منظوری لے لیں اور کہا جا سکے گا کہ عوامی ریفرنڈم نے اس آئین کی توثیق کر دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایوب خاں جیسا ڈکٹیٹر بھی اس تجویز پر زوردار قہقہہ بلند کئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ وہ ذہنیت تھی جس سے نظریہ ضرورت نے جنم لیا اور آئینی جادوگر شریف الدین پیرزادہ نے ضیاء الحق سے لے کر پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کا حق سپریم کورٹ سے دلوایا۔ ممتاز قانون دان حامد خان اپنی کتاب ‘A history of judiciary in Pakistan‘ میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں منصفین کس طرح استعمال ہوتے رہے۔ 

مصنف نے بھٹو قتل کیس کے بارے میں پس پردہ محرکات بےنقاب کیے ہیں کہ کس طرح عدلیہ پر دباؤ ڈال کر اسے مفلوج کیا گیا۔ جسٹس انوار الحق اور جسٹس مولوی مشتاق نے دباﺅ قبول کیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے سینئیر ججوں کی حق تلفی کرتے ہوئے چیف جسٹس بننے کے لیے آصف زرداری کی کار کا دروازہ کھولا اور اس کے گھٹنوں کو چھوا۔ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے نہ صرف جنرل مشرف کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا بلکہ اسے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔

یہ وہ منصف تھے جو فیصلے پوچھ کر کرتے تھے۔ جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ میں مداخلت کا ذکر کیا تو انھیں مقام عبرت بنا دیا گیا۔ جسٹس فائز عیسی کا انجام بھی شوکت صدیقی سے مختلف نہیں ہو گا۔ جو جج آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں انھیں یا تو تبدیل کر دیا جاتا یا پھر انجام بنا دیا جاتا ہے۔

آئین اور قانون کے مطابق بلاتفریق عدل و انصاف جس معاشرے میں ہو رہا ہو اس معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیاں پنپتی ہیں۔ ہم ماضی کی گئی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ہر ادارہ اپنی حدود و قیود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے تو ہمارا ملک ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ