ڈراما سیریز ’کریشنگ عید:‘ سعودی معاشرے کا گلوبل تصور

نیٹ فلکس پر سعودی اور پاکستانی کرداروں پر مبنی سیریز ’کریشنگ عید‘ کو پاکستانی ناظرین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

کریشنگ عید مزاح مزاح ہی میں بہت سے معاشرتی رویوں کا پردہ چاک کر دیتی ہے (کانٹینٹ زلا)

زندگی کا پہلا مرد اگر ساتھی ہو تو عورت کو زندگی جینا اور گزارنے کا فرق سمجھ آ جاتا ہے۔ دوسرا مرد اگر دوست بن کر سوچے تو معاشرہ خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

سعودی عرب کے بدلتے قوانین کے ساتھ ساتھ ان کا میڈیا بھی تروتازہ سیریز نیٹ فلیکس پہ لے کے آ رہا ہے۔ سماج جتنا وسعت بھرا ہو گا زندگی اور کہانی میں بھی اتنے ہی رنگ ابھریں گے۔

’کریشنگ عید‘ ہمارے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس کا ہیرو پاکستانی ہے اور ہیروئن سعودی ہے۔ کہانی کا یہ ثقافتی مزاج پرانے رنگوں پہ غالب آ گیا ہے۔

پوری دنیا کو چھوڑ کر پاکستانی ہیرو کو لکھنا جہاں سیریز میں ثقافتوں کو دکھا رہا ہے وہاں پاکستان اور سعودی عرب کا نیا گلوبل تصور بھی پیش کر رہا ہے۔

پہلے ہم کہانی کی بات کرتے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے رازان بچپن سے ہی ایک ذہین اور منفرد لڑکی دکھائی گئی ہے۔ رازان سعودیہ سے برطانیہ پڑھنے جاتی ہے اور وہیں اس کی دوستی سمیر سے ہو جاتی ہے جس کے والدین 70 کی دہائی میں برطانیہ جا بسے تھے۔

سمیر صحافی ہے اور کئی ممالک میں کام کر چکا ہے اور اپنے والدین کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ اتنا عرصہ باہر رہ کر اسی کی طرح روایتی سوچ کے مالک نہیں ہوں گے اور شادی تو کوئی مسئلہ ہی نہیں وہ جہاں کہے گا اس مڈل ایج میں مان جائیں گے۔

لیکن جب شادی والا واقعہ ہونے لگتا ہے تو اسے پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ اس کے والدین روایتی پاکستانی ہیں جن کو اپنے بیٹے کے لیے روایتی پاکستانی لڑکی چاہیے۔

یہ بات اس کو بھی حیران کر دیتی ہے اور رازان کو بھی۔

دوسری کہانی ہے سیریز کی ہیروئن رازان کی۔ رازان پرانی سعودی تہذیب میں ایک روایتی زندگی گزار چکی ہے۔ اس کی شادی ماں نے خالہ کے بیٹے سے کم عمری میں کروا دی جس سے ایک بیٹی لامر پیدا ہوئی۔ بیٹی کی وجہ سے رازان مجبور تھی کہ اسے یہ رشتہ نبھانا ہے لیکن اس کا شوہر ایک بہت روایتی اور جابر قسم کا انسان تھا۔ ایک دن تو وہ اس کا سر گاڑی کے شیشے سے ٹکرا دیتا ہے کہ اس نے شیشے سے باہر کیوں دیکھا۔

رازان اس دور میں سعودی تہذیب کے مطابق عبایا پہنتی تھی۔ اس نے اس شادی اور تہذیب میں ڈھلنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے شوہر کے حاکمانہ رویے کو برداشت نہ کر سکی۔ سات سال بعد طلاق لے لی اور اپنے والد سے ضد کر کے برطانیہ پڑھنے چلی گئی۔ وہ ایک خودمختار اور با اعتماد عورت بننا چاہتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نے ماضی میں بھی محسوس کیا کہ ماں اس کی نسبت بھائی کو زیادہ چاہتی ہے پھر اس نے سسرال میں بھی مشکل زندگی گزاری۔ اس کا باپ اسے پیار کرتا تھا وہ مان گیا۔ وہ بدلتے حالات کو بھی سمجھ رہا تھا اور بیٹی کے جذبات کو بھی بھانپ گیا تھا۔

اس کی بیٹی لامر بھی وہیں پلی بڑھی تھی۔ اب وہ 15 سال کی ہو چکی تھی۔ اس کو رازان اور سمیر کی دوستی کا علم بھی تھا اور خوش بھی تھی کہ اس کی ماں شادی کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔

ایک دن رازان سینیما میں سمیر سے شادی کے بارے میں پوچھتی ہے۔ وہ دو انگوٹھیاں لے کر آتی ہے۔ ایک اسے دیتی ہے کہ وہ پہنا دے، ایک وہ سمیر کو خود پہنا دیتی ہے۔

پرپوز کرتے ہوئے جذبات میں ایک جملہ کہتی ہے، ’تم بہت اچھے ہو ، کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ تم مرد ہو ہی نہیں، مطلب مثبت انداز میں کہہ رہی ہوں۔‘

لیکن چونکہ دونوں دوست ہیں لہٰذا سمیر اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ایک عورت شادی کی بات کرتے ہوئے اگر ایسا کہہ رہی ہے تو اس کے کہنے کا مطلب ہے، ’تم بہت مختلف انسان ہو۔‘

سمیر کو بھی اس دوستی والی شادی پہ کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ اس تعلق میں سب سے اچھی بات آسانی ہے۔

سمیر کا خیال ہے کہ وہ تو آزاد ماحول کا آزاد باشندہ ہے مگر رازان روایتی ماحول سے آئی ہے اس لیے روایت کے مطابق اسے سعودی عرب جا کے اس کے والدین سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگنا چاہے۔

رمضان کا مہینہ ہے اور سعودی قوانین سمیت اب ساری کہانی شگفتہ ماحول میں آگے بڑھتی ہے۔ رازان سعودی عرب آتی ہے۔ گھر والے بہت خوش ہیں۔

 اس کے بھائی سفیان کی طلاق ہو چکی ہے۔ اس کی بیوی بھی ایک سخت گیر عورت تھی وہ بچہ لے کر اسے الگ ہو گئی۔ سفیان کو اس صدمے سے پینک اٹیک سے بھی گزرنا پڑا۔ رازان کی ماں بھی سخت مزاج خاتون ہیں لیکن اس کا باپ اتنا ہی نرم مزاج انسان ہے۔

جو عورتیں بہت قید و بند میں رہتی ہیں سخت مزاج ہو ہی جاتی ہیں۔

سمیر بھی سعودیہ کی فلائٹ لیتا ہے اور سنیپ چیٹ سے نقشہ نکال کر رازان کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ ایک صحافی ہے اس لیے پروفیشنل ہنر مندی بہت جگہ اس کے کام آتی ہے جیسے وہ کسی اچانک ہونے والے واقعے پہ جذباتی نہیں ہوتا بلکہ اس میں سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے۔

رازان کے والد اس کو فرنیچر والا سمجھ کے گھر کے اندر لے آتے ہیں۔ یوں سمیر آخر کار رازان کا کولیگ بن کر ایک گیسٹ روم میں ٹھہرا لیا جاتا ہے۔

رازان کے گھر میں ملازم پاکستانی ہے اور اس کا نام بھی سفیان ہے، اس لیے اسے سب گھر میں عبد العزیز کے نام سے بلاتے ہیں۔

رازان کا بھائی بھی اپنے باپ کی طرح روایتی مرد نہیں ہے، اس لیے وہ سمیر کے حوالے سے کوئی بہت بڑا مسئلہ کھڑا نہیں کرتا، لیکن جب گھر والوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں تو سمیر کا پاکستانی ہونا ایک سوال بن جاتا ہے۔ اس کا باپ اور بھائی تو یہ گولی نگل جاتے ہیں مگر ماں کے لیے بہت دشوار ہے۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ یہ شادی نہ ہو۔ رازان کی ماں سمیر کو ایک موٹی رقم بھی ملازم کے ہاتھ بھیجتی ہے کہ وہ پیسے لے کر ان کی جان چھوڑ دے۔

یہی حال سمیر کے گھر میں ہوتا ہے۔ اس کے والدین ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ یہ شادی نہ ہو۔ اس کے والد رازان کو فون کر کے بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی ایک طلاق یافتہ اور بچی کی ماں سے نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایک کنواری پاکستانی لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں۔

چار اقساط کی سیریز میں تمام ڈرامائی سین آتے ہیں جو دو روایات سے جڑی معاشرتوں میں ممکن ہو سکتے ہیں لیکن سیریز چونکہ بنیادی طور پہ مزاحیہ انداز میں لکھی گئی ہے اس لیے اس درد کو ہضم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس سیریز کی اہم بات یہ ہے کہ ایک طرف سعودی عرب کی وسعت قلبی دکھائی گئی ہے اور اس کی تمام روایت پسندی کے برعکس رازان کے والد اور بھائی بہت غیر روایتی مرد دکھائے گئے ہیں۔ سفیان آخر میں رازان کے پہلے شوہر سے کہتا ہے کہ تم طلاق کا الزام میری بہن کو مت دو اور اپنی بیٹی کو ایک مکمل انسان سمجھو۔ وہ اب ایک جوان بچی ہے اور اپنے ماموں کی طرح ہنس مکھ بھی ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے اس ایک سین کے لیے یہ سیریز لکھی گئی ہو۔

یہ ایک بھائی کا بہت فراخ دل رویہ ہے بلکہ سعودیہ عرب کا ایک روشن چہرہ ہے۔

زندگی کا پہلا مرد اگر ساتھی ہو تو عورت کو زندگی جینا اور گزارنا کا فرق سمجھ آ جاتا ہے۔ رازان اپنے والد کی وجہ سے زندگی جینا سیکھی ہے۔

دوسرا مرد اگر دوست بن کر سوچے تو معاشرہ خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔ رازان اپنے بھائی کی دوستی کی وجہ سے اتنی مشکلات کے بعد مسکرا اٹھتی ہے۔ سفیان اپنی بھانجی کا بھی دوست جیسا ماموں بنتا ہے۔

گھر میں ایسے دوست مل جائیں تو لڑکیوں کو گھر سے بھاگنا نہیں پڑتا بلکہ خوشیاں ان کے گھر خود دستک دیتی ہیں۔

سعودی عرب کا رمضان، سعودی عرب کی عید اور عید کی تیاریاں رمضان میں افطار کے رنگ، عبادت اور روز شب کی مصروفیات سے عرب تہذیب کے رنگ سکرین پہ ایک تازگی کا احساس دیتے ہیں جس کا ہم تصور اس طرح نہیں کر سکتے، جو تصور بنتا ہے یہ وہ عکس نہیں ہے۔

یہ زندگی کی کہانی ہے جو رشتوں سے بنتی ہے۔

ہمارے یہاں رمضان میں جو ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں ان میں رمضان اور عید کے تہوار کو منانے سے زیادہ رشتوں کے مسائل کو ہی موضوع بنایا جاتا ہے جب کہ یہاں تہوار کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

دو مصنیفین نورا ابو شوشہ اور علی عطاس نے سیریز لکھی ہے اور ہدایات علی عطاس کی ہیں۔ تین زبانوں میں کہانی لکھی گئی ہے عربی، انگریزی اور اردو۔ بنیادی زبان عربی ہی ہے۔

مکالمے بہت سادہ اور رواں ہیں۔ مڈل ایسٹ ٹی وی شوز سعودیہ کی جاندار کاوش ہے جو بہت داد وصول کر رہی ہے۔

راحت فتح علی کا گیت ’سانسوں کی مالا پہ‘ سن کرپاکستانی دل یک دم دھڑک اٹھتا ہے۔

ہم اس سیریزکو پاک عرب دوستی کی ایک مثال بھی کہہ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ