سب کو ڈرائیں گے تو معاشی پہیہ کیسے چلے گا: چیئرمین نیب

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کا مقصد پورے محلے کو تنگ کرنا نہیں ہے بلکہ ایک چور کو پکڑنا ہے۔

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر لاہور میں 4 دسمبر 2023 کو منعقدہ تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیب  لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد خطاب کر رہے ہیں (پی ٹی وی سکین گریب)

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے ’نیب‘ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ ان کے ادارے کا مقصد مہذب انداز میں بدعنوانی کے مسئلے کا خاتمہ ہے نا کہ کسی کو ڈرانا۔

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر لاہور میں پیر کو منعقدہ تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ’اگر سب کو ڈرانا شروع کر دیں گے تو اس ملک کی معیشت کا پہیہ کیسے آگے چلے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ  ’ہماری کوشش ہو گی کہ ایک چور کو پکڑنے کے لیے پورے محلے کو تنگ نہ کریں، ہم نے صرف ایک چور کو پکڑنا ہے پورے محلے کو تنگ نہیں کرنا، یہ ہماری فلاسفی ہے۔‘

ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں اور کاروباری حلقوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے نیب کے سخت قوانین کے سبب نا صرف کاروباری برداری بلکہ سرکاری افسر بھی خوف کا شکار ہیں۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ  ’کاروباری حضرات کو یقین دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ  نیب آپ کو تنگ نہیں کرے گی، آپ کھل کر ملک کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہیں نیب آپ کی معاونت کرے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے سرکاری ملازمین کو درپیش مشکلات پر کہا کہ ’سرکاری ملازمین کو بھی دوبارہ یقین دہانی کرنا چاہتا ہوں کہ ہم سب مل کر چلیں گے۔ ہم بڑی راز داری کے ساتھ کام کریں گے۔‘

بدعنوانی کا پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جاتا ہے اور چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔ ’ہمارے اشاریوں کے مطابق کرپشن میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے جو طویل سفر کا آغاز ہے۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ ’ایک واحد ادارہ یا فرد واحد اس ملک کو کرپشن سے آزاد نہیں کر سکتا، جب تک کہ پورا معاشرہ متحد نہ ہو۔ کرپشن بہت بڑا ناسور ہے اور بہت بڑی بیماری ہے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے کہا کہ ’اگر نیب کی وجہ سے ہمارے دفاتر، ہمارے معاشرے میں میں خوف ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نیب اپنا کام نہیں کر رہا اور ہم اپنے کام میں سرخرو نہیں ہوئے۔ آج کے بعد سمجھیں کہ خوف وہراس کی کیفیت دور ہو چکی ہے۔ سب ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر اپنا کام کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ نیب میں آنے والے سائلین کی آسانی اور خود ادارے میں کام کے طریقہ کار میں جدت کے ذریعے شکایت کو جلد حل پر کام جاری ہے۔ ’ہم یہ بھی کوشش کر رہے کہ ملزم کو ملزم نہ کہا جائے بلکہ جوابدہندہ کہا جائے۔ جب وہ بعد میں بری ہوجاتا ہے تو ذہن پر بوجھ رہتا ہے کہ ہم نے کسی کی عزت اچھالی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان