’ہم یہیں رہیں گے جب تک درد دھندلے نہیں ہوتے‘: بمباری میں غزہ سے صحافیوں کا پیغام

جہاں فلسطینی شہری شدید اسرائیلی جارحیت کی زد میں ہیں، وہیں غزہ میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے حوصلے بھی پست ہو رہے ہیں۔

(سکرین گریب)

غزہ میں یکم دسمبر کو عارضی سیز فائر کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر سے غزہ پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

غزہ میں موجود کئی صحافیوں نے ہفتے کو سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والی کہانیاں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے دنیا ’ان تمام مظالم‘ کو دور سے دیکھ تو رہی ہے مگر کچھ بھی کرنے میں ناکام ہے۔

اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر حملوں کو دنیا تک پہنچانے والے ان صحافیوں کو اب اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ وہ بھی جلد اسرائیلی طیاروں کی بمباری یا ٹینکوں کی گولہ باری کا نشانہ بننے والے ہیں۔

ان صحافیوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں اسرائیلی بمباری اور جارحیت کے باوجود ان کے حوصلے بلند دکھائی دے رہے ہیں۔

ویڈیوز میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم تب تک یہیں رہیں گے جب تک درد دھندلے نہیں ہو جاتے۔ ہم تب تک یہیں رہیں گے جب تک نغمے سریلے نہیں ہو جاتے۔‘

انہی صحافیوں میں سے غزہ کے ایک 24 سالہ صحافی معتز عزیزہ ہیں جو اسرائیلی حملوں کے آغاز سے مسلسل رپورٹنگ کر رہی ہیں۔

معتز نے تین دسمبر کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’یہ اب زندگی اور موت کی جنگ ہے، میں جو کر سکتا تھا میں نے کیا، اب ہم اسرائیلی ٹینکوں میں گھر چکے ہیں۔‘

ان کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں جہاں اسرائیل کے تازہ حملوں میں ہونے والی تباہی دیکھی جا سکتی ہیں وہیں اسرائیلی ٹینکوں سے ہونے والی بمباری کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔

فلسطینی فلم ساز بيسان عوده نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’مجھے اب زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں جیسی مجھے اس نسل کشی کے آغاز میں تھی، اور مجھے یقین ہے کہ میں اگلے چند ہفتوں یا شاید دنوں میں مر جاؤں گی۔

’میں کئی دنوں سے شدید وائرل انفیکشن کی وجہ سے اٹھ بھی نہیں پائی ہوں، میں ایسے ڈراؤنے خوابوں سے دوچار ہوں جو حقیقت سے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ میں حقیقت اور خواب میں فرق نہیں کر پا رہی‘

انہوں نے اپنی طویل پوسٹ میں دنیا کو ایک پیغام دیتے ہوئے لکھا، ’ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں آپ بےقصور نہیں، آپ بطور حکومت اور انسان اسرائیل کے میرے لوگوں کے خاتمے کی حمایت کر رہے ہیں۔

’ہم آپ کو معاف نہیں کریں گے، انسانیت آپ کو معاف نہیں کرے گی، ہم نہیں بھولیں گے، ہم مر بھی جائیں، تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔‘ اس میں بھی انہوں نے اپنے دوستوں کو امید نہ چھوڑنے کا پیغام بھی دیا۔

ایک اور نوجوان صحافی نے انسٹاگرام پر ’آخری پیغام‘ کے کیپشن سے اپنی امید کے ختم ہونے کا پیغام دیتے ہوئے لکھا ’ہم ان لوگوں کو معاف نہیں کریں گے جو سچ بولنے کے قابل تھے اور خاموش رہے۔ دنیا نے ہم پر ثابت کیا کہ یہ منافق ہے، لیکن ہماری دنیا دوسرے مقام پر ہو گی، جہاں ہمارے خالق کی طرف سے زیادہ انصاف پسند، محفوظ اور زیادہ یقین دہانی ہو گی۔‘

غزہ کی رپورٹنگ کرنے والی الجزیرہ کی خاتون صحافی خوالہ الخلیدی نے بھی اسرائیلی حملوں میں اپنا گھر گنوا دیا۔ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے انہیں دور بھیجنے کے بعد اب بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

34 سالہ صحافی اپنے بہت سے ساتھیوں کی طرح عملی طور پر الاقصیٰ شہدا ہسپتال میں رہتی ہیں، جو ایک عارضی بیورو بن گیا ہے کیونکہ یہ ہسپتال ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں انٹرنیٹ کام کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل