بھارت میں موبائل ایپ کے ذریعے ’گئو سیوا‘ کی تیاری

ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت گائے سے عقیدت کو21 ویں صدی کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک ہائی ٹیک حل متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

گائے کی ذمہ داری اٹھانا کوئی سستا کام نہیں ہے۔ ایک گائے کی تمام عمر دیکھ بھال کا خرچہ تین لاکھ بھارتی روپے بنتا ہے (اے ایف پی)

بھارت میں اکثریت ہندو آبادی گائے کو ہمیشہ سے مقدس جانور تصور کرتی رہی ہے تاہم اس کی ایک ریاست گائے سے عقیدت کو 21 ویں صدی کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

مدھیہ پردیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست ایک ایسی موبائل ایپ اور ویب سائٹ لانچ کرنے جا رہی ہے، جس کے ذریعے کوئی بھی شخص ترک کی گئی گائیوں کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے ان کو اپنے گھر لا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’ون سٹاپ شاپ‘ کے ذریعے لوگ گائے کے پیشاب اور گوبر سے بنی مصنوعات بھی خرید سکیں گے۔

واضح رہے کہ ہندو دھرم میں گائے کے پیشاب کو مقدس تصور کیا جاتا ہے اور لوگ اس کو عقیدت یا علاج کے طور استعمال کرتے ہیں۔

گائیوں کی ذمہ داری اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے ’گئو شالہ‘ یا گائیوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔ 

تاہم گائے کی ذمہ داری اٹھانا کوئی سستا کام نہیں ہے۔ ایک گائے کی تمام عمر دیکھ بھال کا خرچہ تین لاکھ بھارتی روپے بنتا ہے۔

پناہ گاہوں میں مقیم گائیوں کے لیے چندہ اور تحائف دینا بھی بھارت میں عام روایت ہے۔ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ گائے کی سیوا کرنے سے ان پر قسمت کی دیوی مہربان ہو جاتی ہے۔ اس لیے بھارت کے کئی مقامی اخبارات میں ایسے اشتہارات دیکھے جا سکتے ہیں جن میں گئو شالوں کے لیے چندے کی اپیل کی جاتی ہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے کاروبار اور سمندر پار بھارتیوں کی مدد سے گائیوں کی پناہ گاہوں کے لیے کئی کامیاب سکمیوں کے اجرا کے بعد اب مدھیہ پردیش میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کو گائیوں کی ذمہ داری اٹھانے کی ترغیب دی جائے گی۔

گائے کے تحفظ کی پُر تشدد مہم ’گئو رکھشک‘ اور ان مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے والے ریاستی قوانین میں سختی کے بعد بھارت بھر میں سڑکوں پر آوارہ گھومنے والی گائیوں کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت کا کہنا ہے کہ صرف مدھیہ پردیش میں سات لاکھ ایسی گائیں ہیں جن کو دودھ کی بندش کے بعد ان کے مالکان نے ترک کردیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دے کر کانگریس پارٹی نے حکومت بنائی تھی، جس نے رواں سال کے آغاز میں ریاست میں گائیوں کے لیے ایک ہزار نئی پناہ گاہوں کے لیے فنڈز دینے کا وعدہ کیا تھا۔

کانگریس نے اُس وقت کہا تھا کہ ہماری جماعت کو بھی گائیوں کی اتنی ہی پرواہ ہے جتنی کسی اور کو۔ نئی حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بی جے پی اپنے 15 سالہ دورِ اقتدار کے دوران ریاست میں ایک بھی نئی گئو شالہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔

ریاستی وزیر لکھن سنگھ یادو نے کہا ہے کہ نئی ویب سائٹ اور موبائل ایپ سے نئی پناہ گاہوں کے قیام کے لیے فنڈز کی کمی کے مسٔلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے ’ہندوستان ٹائمز‘ کو بتایا: ’ریاست میں بہت سارے لوگ گائے کی پوجا کرتے ہیں اور وہ گائیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں لہذا ان لوگوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے ہم ہائی ٹیک حل متعارف کرانے جا رہے ہیں۔‘

ریاستی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ویب سائٹ اور ایپ کو لانچ کر دیا جائے گا۔

اس سکیم کے ذریعے 15 دن سے لے کر زندگی بھر کے لیے گائے کی ذمہ داری اٹھائی سکتی ہے۔ کم آمدنی والے افراد گائیوں کو درکار مخصوص اشیا جن میں تازہ سبز چارے اور ادویات سے لے کر پنکھے تک بھی شامل ہیں، خرید کر عطیہ کر سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ گائیوں کے لیے بنائی گئی پہلی سرکاری ویب سائٹ ہے لیکن مدھیہ پردیش پہلی ریاست نہیں ہے جہاں بے سہارا گائیوں کی بہبود کے لیے ’تخلیقی حل‘ تلاش کیے جا رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ایک لاکھ لاوارث گائیوں کو حقیقی طور پر اپنانے کی سکیم شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت کوئی بھی رفاہی شہری جو گائے کو اپنے گھر میں لے کر جائے گا، اسے ماہانہ 900 روپے کا وظیفہ ادا کیا جائے گا تاکہ اس سے گائے کی دیکھ بھال کی جاسکے۔

جنوری میں راجستھان میں کانگریس حکومت نے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے مواقع پر گائیوں کی (مالی طور پر) مدد والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سکیم تجویز کی تھی تاہم بعد میں اس پالیسی کو اُس وقت ختم کردیا گیا تھا جب یہ بات سامنے آئی کہ بی جے پی کی سابقہ حکومت پہلے ہی ایسی سکیم تجویز کر چکی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا