باڈی شیمنگ کا نشانہ زیادہ کون بنتا ہے؟

ہمارے ملک میں باڈی شیمنگ کتنی عام ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک آن لائن سروے منعقد کروایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناسور ہمارے ہاں کتنا عام ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے۔

ہمارے ملک میں باڈی شیمنگ کتنی عام ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک آن لائن سروے منعقد کروایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناسور ہمارے ہاں کتنا عام اور اس کی نوعیت کیا ہے۔

فیس بک کے ذریعے کروائے جانے والے اس سروے میں جن لوگوں نے حصہ لیا ان کی بڑی تعداد مردوں پر مشتمل تھی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے ہمارے ہاں فیس بک زیادہ تر مرد حضرات ہی استعمال کرتے ہیں۔

تاہم 53 فیصد لوگوں نے بتایا زیادہ ترعورتوں کو اس مسئلے سے واسطہ پڑتا ہے، جب کہ 40 فیصد کے مطابق دونوں کا حصہ برابر ہے۔ صرف سات فیصد کا خیال تھا مرد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

یہ سروے سائنسی تو نہیں کہلایا جا سکتا لیکن اس سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کے اندر باڈی شیمنگ کے بارے میں شعور بڑھتا جا رہا ہے۔

سروے میں حصہ لینے والوں کی بہت بڑی تعداد، یعنی 70 فیصد نے کہا انہیں زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر باڈی شیمنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور دلچسپ بات یہ پتہ چلی کہ زیادہ تر باڈی شیمنگ خود گھر والے ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ سروے میں حصہ لینے والے تقریباً 50 فیصد لوگوں نے بتایا انہیں رشتہ داروں ہی کے ہاتھوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر دوست (25 فیصد) اور ہم جماعت (11 فیصد) تھے۔

اس کے علاوہ 12 فیصد لوگوں نے بتایا انہیں اجنبیوں کی طرف سے باڈی شیمنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

باڈی شیمنگ کتنا بڑا مسئلہ ہے اور اس سے متاثر شخص کی نفسیات کس حد تک متاثر ہوتی ہے، سروے کے 97 فیصد شرکا کا خیال تھا باڈی شیمنگ بڑی حد تک یا کسی حد تک انسان کی نفسیات پر اثر ڈالتی ہے۔

کس عمر کے لوگ باڈی شیمنگ کا شکار ہوتے ہیں؟

سروے کے 77 فیصد شرکا کے مطابق جوانی اور نوجوانی عمر کے حصے ہیں، جہاں باڈی شیمنگ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل