’طالبان کے خلاف ایسی طاقت استعمال کریں گے جو کبھی نہیں کی‘

میں جوہری طاقت کی تو بات ہی نہیں کر رہا۔ ان کے ساتھ جو ہوگا وہ انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا، امریکی صدر کا نائن الیون حملوں کے 18 برس مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب

امریکی صدر کا  کہنا تھا کہ  انہوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر طالبان کے ساتھ خفیہ امن مذاکرات منسوخ کرکے افغانستان میں امریکی فوج کو حملے کا حکم دیا۔  (اے ایف پی)

افغان طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کے محض چند روز بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے خلاف ایسی طاقت استعمال کی جائے گی، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائن الیون حملوں کے 18 برس مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’گذشتہ چار روز میں امریکی فورسز نے (افغانستان میں) ہمارے دشمن کو اتنی کاری ضرب لگائی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں لگائی گئی اور ایسا مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر طالبان کے ساتھ خفیہ امن مذاکرات منسوخ کرکے افغانستان میں امریکی فوج کو حملے کا حکم دیا۔ مذاکرات اُس حملے کے جواب میں ختم کیے گئے جس میں گذشتہ ہفتے ایک امریکی فوجی مارا گیا تھا۔

اس سے قبل پیر کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’چار روز میں ہم نے دشمن پر اس طرح سے ضرب لگائی ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں ایسا نہیں ہوا۔‘

اس وقت افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 14 ہزار کے قریب ہے جبکہ 2010 میں یہ تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

اپنے حالیہ خطاب میں ٹرمپ نے طالبان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ’اگر کسی وجہ سے انہوں نے ہمارے ملک پر دوبارہ حملہ کیا تو ہم ان کا پیچھا کریں گے اور ایسی طاقت استعمال کی جائے گی جو ہم نے پہلے کبھی استعمال نہیں کی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میں جوہری طاقت کی تو بات ہی نہیں کر رہا۔ ان کے ساتھ جو ہوگا وہ انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔‘

گذشتہ ہفتے کے آخر تک طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے توقعات بڑھ رہی تھیں، جس کے تحت امریکہ کو افغانستان سے اپنی فوجوں کا انخلا کرنا تھا اور اس کے بدلے طالبان نے شدت پسند گروہوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی کی ضمانت پیش کی تھی۔

تاہم اتوار کو اچانک ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے ہیں، جس پر سیاسی مبصرین حیران رہ گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’کیمپ ڈیوڈ میں ہماری ملاقات تقریباً طے ہو چکی تھی۔ اس ملاقات کا خیال بھی میرا تھا اور اس کو میں نے ہی منسوخ کیا۔‘

 ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ مجوزہ ملاقات اتنی خفیہ تھی کہ میں نے کسی اور سے اس حوالے سے تبادلہ خیال نہیں کیا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ