انڈپینڈنٹ اردو الیکشن کوریج: خیبر سے کراچی تک اہم خبروں کو اجاگر کیا گیا

انڈپینڈنٹ اردو کی الیکشن کوریج میں شامل اہم خبروں کا احاطہ جن کے ذریعے اہم مسائل اور معلومات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

دائیں سے بائیں انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ قرۃالعین شیرازی فاطمہ علی اور ارشد چوہدری جنہوں نے بالترتیب پشاور اسلام آباد اور لاہور سمیت پورے پاکستان سے کوریج میں حصہ لیا (سکرین گریب: انڈپینڈنٹ اردو)

امریکی صدر جیمز بیوکینن سے منسوب ایک قول ہے کہ ’مجھے جمہوریت کا شور پسند ہے۔‘ پاکستان میں بھی آج انتخابات ہو رہے ہیں جس سے پہلے ملک میں کافی شور شرابہ رہا۔

2019 میں برطانوی نیوز ویب سائٹ دی انڈپینڈنٹ کی اردو سروس کے آغاز کے بعد پاکستان کے یہ پہلے عام انتخابات ہیں، جس میں انڈپینڈنٹ اردو نے خیبر سے کراچی تک صارفین کے لیے اہم خبروں کے ساتھ ساتھ دلچسپ فیچرز اور ویڈیوز پیش کیں۔

ذیل میں انڈپینڈنٹ اردو کی الیکشن کوریج سے کچھ اہم خبریں یہ رہیں۔

منفرد امیدوار

پاکستانی معاشرے میں خواتین کا عام نشستوں پر الیکشن لڑنا عام نہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے ایسی ہی خواتین پر توجہ مرکوز کی جو عام نشتسوں پر مرد حریفوں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

قبائلی علاقے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل سے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 94 پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر بصیرت شینواری کھڑی ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’سیاسی سرگرمیوں کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہوں تو بچے سسرال میں چھوڑ دیتی ہوں، لیکن گھر میں بطور ایم پی اے نہیں بلکہ شینواری گاؤں کی باقی خواتین کی طرح رہتی ہوں۔‘

دو بچوں کی ماں بصیرت 2018 میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کی مخصوص نشست پر صوبائی اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔

ہندو برادری کی ڈاکٹر سویرا پرکاش پہلی خاتون ہیں جو بونیر سے صوبائی جنرل نشست پی کے 25 پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہیں پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دیا۔

خواجہ سرا نایاب علی اسلام آباد کی نشست این اے 46 اور 47 سے آزاد امیدوار ہیں۔ ان کا انتخابی نشان ہری مرچ ہے اور انہیں معاشرے سے عزت اور قبولیت کی توقع ہے۔

خواتین، مذہبی اقلیتیں اور قیدی

انڈپینڈنٹ اردو نے پسے ہوئے طبقات کی الیکشن میں نمائندگی پر بھی خصوصی رپورٹس شائع کیں۔

ملک میں خواتین کو ووٹ دینے کے حق یقینی بنانے کے قوانین موجود ہیں لیکن بعض علاقوں میں وہ کسی نہ کسی وجہ سے ووٹ کاسٹ کرنے سے رہ جاتی ہیں۔

صرف بلوچستان میں تقریباً آٹھ لاکھ بالغ خواتین کے پاس شناختی کارڈ نہیں۔ یہ خواتین چاہ کر بھی الیکشن میں ووٹ کا حق استعمال نہیں کر پائیں گی۔

اسی طرح ملک کے کئی علاقوں میں مرد حضرات خواتین کو ووٹ ڈالنے سے زبردستی محروم رکھتے ہیں۔

اسلام آباد سے 200 کلو میٹر دور ڈھرنال گاؤں میں نصف صدی پہلے ایک پولنگ سٹیشن پر معمولی جھگڑے کو بنیاد بنا کر علاقے کے بزرگوں نے فیصلہ کر دیا کہ آئندہ خواتین ووٹ ہی نہیں ڈالیں گی۔

جیلوں میں قید پاکستانی شہری بھی ووٹ کا حق رکھتے ہیں اور الیکشن ایکٹ 2017 قیدیوں کو بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے، تاہم طریقہ کار پیچیدہ ہونے کی وجہ سے 2018 میں ایک بھی قیدی اپنا ووٹ نہیں ڈال سکا۔

پاکستان میں موجود مذہبی اقلیتوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا اصول لاگو نہیں۔ یعنی کسی بھی حلقے میں موجود مذہبی اقلیتیں جنرل امیدوار کو ہی ووٹ ڈال سکتی ہیں۔

صوبوں اور وفاق میں اقلیتوں کو مخصوص نشستوں پر نمائندگی دی جاتی ہے لیکن ان نشستوں پر کون آئے گا اس کا فیصلہ سیاسی جماعتیں کرتی ہیں نہ کہ اقلیتی برادری۔

ایسے میں بلوچستان کے ضلع تربت کی ہندو برادری چاہتی ہے کہ ان کے لیے جداگانہ انتخاب کا اصول بحال ہونا چاہیے۔

بلوچستان میں سکھ برادری کے کم و بیش 1500 خاندانوں کو گلہ ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے دور (70 کی دہائی) کے بعد سے انہیں صوبے کی مقننہ میں نمائندگی نہیں دی گئی۔

اہم ہلکے اور دلچسپ انتخابی مقابلے

آج ملک کے کئی حلقوں میں دلچسپ مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ انڈپینڈٹ اردو کے نمائندوں نے ایسے حلقوں کا دورہ کرتے ہوئے سیاسی جوش خروش کو رپورٹ کیا۔

ریحانہ ڈار بمقابلہ خواجہ آصف

مریم نواز کا حلقہ جہاں تجاوزات کی بھرمار ہے۔

عمران خان کا آبائی حلقہ

لاہور میں پیپلز پارٹی کا جیالا جو بھٹو خاندان کی تیسری نسل کو ووٹ ڈے گا۔

بلوچستان اسمبلی کا حلقہ جہاں پر باپ بیٹا آمنے سامنے ہیں۔

خصوصی سیریز

انڈپینڈنٹ اردو نے الیکشن 2024 کے لیے دو خصوصی سیریز بھی پیش کیں۔

’منزل اسلام آباد‘ میں اہم سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز نشر کیے گئے۔

بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا انٹرویو

پرویز الہٰی کی زوجہ قیصرہ الہٰی کا انٹرویو

ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا انٹرویو

اسی سیریز میں انڈپینڈٹ اردو سے منسلک سینیئر صحافی اور مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید نے تجزیہ کاروں اور صحافیوں سے دو نشستیں کیں جن میں الیکشن اور اس کے بعد کی ممکنہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

’الیکشن ریل ریل‘ میں انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندوں نے پشاور سے کراچی تک ریل میں سفر کیا اور اہم شہروں اور ٹرین میں موجود شہریوں کا ’الیکشنی ماحول‘ رپورٹ کرنے کی کاوش کی۔

ریپ سانگ

الیکشن 2024 میں قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کو ’بلے‘ کا نشان الاٹ نہ ہو سکا۔ اس لیے تحریک انصاف کے آزاد رہنماؤں کو طرح طرح کے انتخابی نشان الاٹ ہو گئے۔

ان انتخابی نشانوں پر ایک نوجوان ریپر نے انڈپینڈنٹ اردو کے لیے خصوصی ریپ سانگ بھی گایا۔

ووٹ کیسے ڈالیں؟

انڈپینڈنٹ اردو نے ووٹ ڈالنے کے طریقے کار پر ناظرین کے رہنمائی کے لیے بھی خصوصی مواد شائع کیا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین