مانسہرہ میں نواز شریف کو ہرانے والے شہزادہ گشتاسپ کون ہیں؟

شہزادہ گشتاسپ خان نے الیکشن کمیشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق این اے 15 میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے نواز شریف کو تقریباً 25 ہزار ووٹ سے شکست دے دی ہے۔

شہزادہ گشتاسپ خان ملکی سیاست میں ایک جانی پہچانی شخصیت تو نہیں ہیں لیکن انہیں علاقے کی بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے (یاسر شہزاد)

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں این اے 15 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدوار شہزادہ گشتاسپ خان نے مسلم لیگ ن کے سربراہ اور تین بار وزیراعظم بننے والے میاں محمد نواز شریف کو عام انتخابات میں شکست دے دی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو مانسہرہ کے حلقے سے ہونے والی شکست میڈیا کی خبروں کی زینت بنی۔ اسے ایک تاریخی شکست قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عام انتخابات میں عمومی طور پر طاقتور امیدواروں کے نتائج اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ 

شہزادہ گشتاسپ خان نے الیکشن کمیشن کے غیر حتمی، سرکاری نتائج کے مطابق ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے نواز شریف کو تقریباً 25 ہزار ووٹ سے شکست دے دی ہے۔ 

شہزادہ گشتاسپ خان کے بارے میں شاید ہی انتخابات سے پہلے کسی نے تفصیلات اکھٹی کرنے کی کوشش کی ہو کیونکہ ملکی سیاست میں وہ ایک جانی پہچانی شخصیت تو نہیں ہیں لیکن علاقے کی بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

گشتاسپ خان کون ہیں؟

شہزادہ گشتاسپ خان مانسہرہ کی ایک سیاسی شخصیت ہارون خان باچا کے بیٹے ہیں۔ 1988 سے شہزادہ گشتاسپ علاقے کی سیاست میں سرگرم ہیں اور انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

انہوں نے پہلی مرتبہ مانسہرہ سے 1988 کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 

اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ جونیجو کے ٹکٹ پر انہوں نے 1993 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ 

شہزادہ گشتاسپ خان نے 1997 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا تھا اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار عاشق رضا سواتی نے ان کو شکست دی تھی۔ 

اس کے بعد وہ آزاد حیثیت سے 2002 کے انتخابات میں امیدوار تھے، جہاں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے امیدواران مختلف حلقوں میں انتخابات جیتتے رہے تھے، لیکن شہزادہ گشتاسپ نے ایم ایم اے کے امیدوار کو شکست دے دی تھی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد میں 2002 میں بنائی گئی صوبائی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ق کا ساتھ دے کر وہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے تھے۔

2002 کے انتخابات سے پہلے وہ مانسہرہ میں پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں نائب ناظم تھے اور انتخابات جیتنے کے بعد نائب ناظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اسی طرح 2008 اور 2013 میں انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوئے تھے اور اس کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ 

پی ٹی آئی سے اختلافات 

شہزادہ گشتاسپ خان نے 2013 کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی لیکن 2018 کے عام انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا، جس پر انہوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ 33 ہزار سے زائد ووٹ لے کر ہار گئے تھے۔ 

اس کے بعد پارٹی پالیسی سے اختلافات کے بعد 2020 میں انہوں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے ان کے ایک بیان کے مطابق: ’میں پارٹی کا ابتدائی دنوں سے ورکر ہوں لیکن مجھے فیصلہ سازی میں توجہ نہیں دی جاتی۔‘ 

دی نیوز میں شائع ایک خبر کے مطابق شہزادہ گشتاسپ خان نے اس وقت پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے بتایا تھا کہ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ پی ٹی آئی جیسی جماعت فیصلہ سازی میں اضلاع کی قیادت کو اہمیت نہیں دے گی۔ 

شہزادہ گشتاسپ خان نے کچھ عرصہ آزاد حیثیت میں رہ کر 2021 میں جمیعت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کی۔ 

مانسہرہ کے مقامی صحافی یاسر شہزاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’شہزادہ گشتاسپ خان پی ٹی آئی کے ٹکٹ ملنے تک جمیعت علمائے اسلام میں تھے لیکن اچانک انہیں پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ دیا گیا۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ گشتاسپ خان کا تعلق علاقے کے بااثر زمیندار خاندان سے ہے، جن کی بہت زیادہ زمینیں ہیں اور ان کے والد بھی ایک سیاسی شخصیت تھے۔

یاسر نے بتایا: ’شہزادہ گشتاسپ 2008 اور 2013 میں ہار چکے تھے اور ابھی 2024 کے عام انتخابات سے قبل ان کو جے یو آئی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا تو پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ دیا گیا۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست