پی پی پی اور ن لیگ کا ’سیاسی تعاون پر اتفاق‘

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیئر نائب صدر لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے حمایت یافتہ 50 آزاد امیدوار فارم 45 پر ہزاروں ووٹوں کے فرق سے جیت رہے ہیں۔

شہباز شریف نے 11 فروری، 2024 کو لاہور میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات کی (سکرین گریب/ ن لیگ)

آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے بارہویں عام انتخابات کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی صورت حال واضح ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

 سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ایسے میں ملک کے مجموعی سیاسی و سکیورٹی حالات پر انڈپینڈنٹ اردو کی لائیو اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے۔


پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 50 آزاد امیدوار فارم 45 پر ہزاروں ووٹوں کے فرق سے جیت رہے ہیں: لطیف کھوسہ

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے حمایت یافتہ 50 آزاد امیدوار فارم 45 پر ہزاروں ووٹوں کے فرق سے جیت رہے ہیں۔

انہوں نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ان کے پاس پریزائیڈنگ اور پولنگ افسران کے دستخط اور سٹیمپ شدہ سرکاری دستاویز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ان 50 نشستوں کو واپس حاصل کرے گی جس کے بعد خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کو شامل کرنے سے پارٹی کی سیٹوں کی تعداد 170 کے قریب ہوجائے گی۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ 170 سیٹیں مل گئیں تو پی ٹی آئی خود حکومت بنا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت مخلوط حکومت بنانے کی بجائے خوشی خوشی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔

’پارٹی بانی عمران خان کے ووٹ سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار پی ٹی آئی کے ضابطہ اخلاق کی پاسداری کے ذمہ دار ہیں۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ بطور جماعت پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگائی گئی اور یہ قانون اور آئین کے مطابق موجود ہے۔


پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اتوار کو سیاسی تعاون پر اصولی اتفاق کیا ہے۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے وفد کے ہمراہ لاہور میں پی پی پی پی کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی۔

دونوں جماعتوں کے مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات میں ملک کی مجموعی صورت حال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں جماعتوں نے موجودہ صورت حال پر مشاورت کی اور تجاویز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ملک کو سیاسی استحکام سے ہم کنار کرنے کے لیے سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔

پی پی پی کی قیادت نے ن لیگ کی تجاویز کو سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں سامنے رکھنے کا بتایا۔

ن لیگ کے وفد میں اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، ملک احمد خان، مریم اورنگزیب اور شزا فاطمہ شامل تھیں۔


انتخابات کے نتائج گواہی دیتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوئے: نگران وزیر اطلاعات

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری پوری کی اور انتخابات کے نتائج گواہی دیتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوئے۔

انہوں نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں مزید کہا کہ انتخابات کے روز موبائل سروس کی معطلی سے متعلق وزارت داخلہ وضاحت کر چکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لیے شہریوں کی زندگی زیادہ اہم تھی۔ شہریوں، پولنگ سٹاف، پولنگ سٹیشنوں کو خطرات لاحق تھے، شہریوں کی نقل و حمل کو محفوظ بنانا ہمارے لیے ضروری تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کے عمل اور الیکشن کی تاریخ پر ہمیشہ تنازعات رہے، 2018 اور 2013 کے انتخابات پر بھی تنازعات تھے۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد میں ہر ممکن سہولت فراہم کی۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت انتقال اقتدار کا طریقہ کار موجود ہے، انتخابات کے سرکاری نتائج متعلقہ اسمبلیوں تک پہنچیں گے تو موجودہ سپیکرز اسمبلیوں کا اجلاس بلائیں گے، وزیراعظم اور وزرا اعلیٰ جب حلف اٹھائیں گے تو نگران حکومتیں تحلیل ہو جائیں گی۔


آزاد امیدوار رابطے میں ہیں اور وہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے: بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ لاہور سے پی ٹی آئی کے عہدے دار اور آزاد امیدوار وسیم قادر کی ن لیگ میں شمولیت کے معاملے کو پارٹی دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے جیو سے گفتگو میں کہا کہ ماضی میں وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاست دانوں کو عوام نے انتخابات میں یکسر مسترد کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ باقی آزاد امیدوار ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صرف ان کے ساتھ رہیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پارٹی نے جیتنے والے آزاد امیدواروں کو حلف لینے یا اپنی نشستوں سے استعفیٰ دینے کے لیے نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مرکز، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنانے کی ہدایت کی ہے۔

’ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ہم اسمبلیوں سے باہر رہیں یا بیٹھیں۔ ہمیں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر وہاں کے تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔‘


پی ٹی آئی لاہور کے جنرل سیکریٹری اور نو منتخب آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل

لاہور سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) - لاہور کے جنرل سیکریٹری وسیم قادر اتوار کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔

ن لیگ نے ایک بیان میں بتایا کہ وسیم قادر نے آج مریم نواز شریف سے ملاقات میں نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق وسیم قادر نے کہا کہ وہ حلقے کے عوام اور دوستوں کی مشاورت سے ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔

اس موقعے پر مریم نواز نے وسیم قادر کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور مبارک باد دی۔

خیال رہے کہ وسیم قادر نے این اے - 121 میں ن لیگ کے روحیل اصغر کو ہرایا تھا۔


ن لیگ سے حکومت سازی پر کوئی بات نہیں ہوئی: ایم کیو ایم

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن سے حکومت سازی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی اور اس حوالے سے معاہدوں کے بارے میں خبر درست نہیں۔

لاہور میں میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے سمیت جمہوری، سیاسی اور مالی استحکام پر بات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات نے چیلنجنگ صورت حال پیدا کر دی۔ سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھنا ہو گا۔ تمام سیاسی قوتیں اور ادارے مل کر ملک کو بحران سے نکالیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بننے کے بعد اس میں ایم کیو ایم کا کیا حصہ ہو گا یہ آگے چل کر دیکھیں گے۔ ’ہم نے اقتدار کے بغیر بھی عوام کی خدمت کر کے دکھایا۔‘

’ جمہوریت اور ملک کی خاطر سیاسی نقصان برداشت کیا جائے۔ معاملہ اقتدار کا نہیں پاکستانی عوام کے اختیار اور جمہوریت کے استحکام کا ہے۔‘


الیکشن کمیشن میں امیدواروں کی درخواستوں پر سماعت

الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے مختلف حلقوں میں نتائج پر امیدواروں کے تخفظات اور درخواستوں پر سماعت کی۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے – 48 کے نتائج میں مبینہ تبدیلی کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے راجہ خرم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آر اوز کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔

آزاد امیدوار عامر مغل نے فارم 47 اور شعیب شاہین نے این اے - 46 کے فارم 47 کو چیلنج کیا تھا، اس پر الیکشن کمیشن نے این اے - 46 اور 47 کے آر اوز کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔

این اے – 15 مانسہرہ کے نتائج میں مبینہ تبدیلی کے خلاف نواز شریف کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے آر او کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا۔


’کسی ایک جماعت کے پاس حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد مرکز میں حکومت بنانے کا فیصلہ کرے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے لاہور میں اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری خواہش ہے کہ ایسا مضبوط اتحاد بنے جس میں مختلف صوبوں، قومیتیوں اور مختلف اکائیوں کی نمائندگی ہو تاکہ وفاق بھی مضبوط ہو اور پاکستان ترقی کا سفر شروع کرے۔‘

’کسی بھی ایک جماعت کے پاس اس وقت حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے اس لیے شراکتی اور اتحادی حکومت قائم ہوگی۔‘

پنجاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’پنجاب کی حد تک تو پارٹی نے بلا شک شبہے کے یہ اختیار قائد پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف کو سونپا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نواز شریف وزیر اعلیٰ نامزد کریں گے کیونکہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ بنانا مسلم لیگ ن کا حق ہے۔


ایم کیوایم قائدین کے ساتھ سیاسی تعاون پر اصولی اتفاق ہوگیا: مسلم لیگ ن

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کے درمیان مل کر چلنے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے۔

اتوار کو مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفد کی جاتی امرا میں ملاقات ہوئی جس میں طے ہوا کہ ’ملک اور قوم کے مفاد کے لیے مل کر چلا جائے گا اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم میں بنیادی نکات طے پاگئے ہیں۔‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے محمد نوازشریف اور ایم کیوایم کی طرف سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی قیادت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف، مریم نواز، اسحاق ڈار، احسن اقبال، رانا ثنااللہ، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب، رانا مشہود بھی ملاقات میں شریک تھے۔

ایم کیوایم وفد میں گورنر سندھ کامران ٹسوری، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال شامل تھے۔

دونوں جماعتوں کے قائدین میں مشاورت کا سلسلہ تقریبا ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔

ملاقات میں صورتحال پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور تجاویز کا تبادلہ ہوا۔

دونوں جماعتوں کے رہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورت حال اور اب تک ہونے والے رابطوں کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا۔


عام انتخابات 2024: قومی اسمبلی کے نتائج مکمل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2024 کے قومی اسمبلی کے غیر حتمی سرکاری نتائج جاری کر دیے۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں نے 101 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن 75 نشستوں اور پیپلز پارٹی 54 سیٹس پر کامیاب ہوئی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے 17 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ نے تین اور جمعیت علمائے اسلام نے چار نشستیں حاصل کی ہیں۔

استحکام پاکستان دو، مجلس وحدت المسلین ایک، بلوچستان نیشنل پارٹی دو، مسلم لیگ ضیا، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی ایک ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہیں۔


الیکشن کے نتائج پر اعتراض ہے تو الیکشن ٹربیونل جائیں: عظمیٰ بخاری

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس کو الیکشن کے نتائج پر اعتراض ہے اسے الیکشن ٹربیونل میں جانا چاہیے۔

ان کا کہنا کہا کہ سلمان اکرم راجا نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے، جو ایک رٹ پٹیشن کے ساتھ لاہور ہائی کورٹ تشریف لے گئے جہاں سے انہیں سٹے دے دیا گیا ہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا ’رٹ پٹیشن سے سٹے آرڈر لینے کو میں نہیں سمجھتی کہ اسے جسٹفائی کیا جانا چاہیے۔‘

ن لیگی رہنما نے کہا قانون کے مطابق الیکشن ٹربیونل وہ فورم ہے جہاں اپنے اعتراضات جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ تمام لوگ الیکشن ٹربیونل میں جائیں۔ وہاں امیدوار کو ہر صورت ثبوت دینے پڑتے ہیں۔

میری گزارش ہے کہ اگر ہر اداراہ اپنے اپنے دائرے میں رہ کر اپنی اپنی ذمہ داری پورے کرے تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔

ان کا کہنا تھا سب اپنے اپنے مینڈٹ کی بات کر رہے ہیں، کوئی ن لیگ کے منڈیٹ کے احترام کی بات کیوں نہیں کرتا۔

انتخابات والے دن موبائل سروس سکیورٹی کی وجہ سے بند تھی، لیکن وائی فائی موجود تھا۔ اس دوران پی ٹی آئی اپنے وٹس ایپ گروپ کے ذریعے پھیلا رہی تھی کہ ہم یہاں بھی جیت گئے وہاں بھی جیت گئے۔


حکومت سازی کے معاملے پر ن لیگ اور ایم کیو ایم کی ملاقات

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مشاورت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی ایک ٹویٹ کے مطابق اتوار کو متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کا وفد ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں رائیونڈ میں مسلم لیگ ن کے قائدین سے ملاقات کرے گا۔

نامہ نگار فاطمہ علی کے مطابق اتوار کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی ایک ملاقات بھی متوقع ہے لیکن اس ملاقات کے حوالے سے اب تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ وہ کب ہو گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ اور پی ایم ایل این کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے کچھ آزاد امیدواروں کے ویڈیو بیان بھی جاری کیے گئے جنہوں نے اپنی جیت کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

 ان میں  قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 253 کوہلو سے آزاد امیدوار میاں محمد خان بگٹی شامل ہیں۔

میاں محمد خان بگٹی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا اور کہا کہ انہیں ’پی ایم ایل این کا ٹکٹ نہیں ملا تھا لیک اب آزاد جیت کر مسلم لیگ ن میں شامل ہو رہا ہوں۔‘

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 54 راولپنڈی سے آزاد امیدوار بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پارٹی میں شمولیت  کا اعلان کیا۔

انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ سیٹ پہلے بھی نواز شریف کی تھی اب بھی انہی کی ہے اور میں پہلے بھی مسلم لیگی تھا اب بھی مسلم لیگی ہی ہوں۔‘

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 48 اسلام آباد سے جیتنے والے آزاد امیدوار راجہ خرم شہزاد نے بھی قائد مسلم لیگ ن پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ انتخابات میں مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار تھے۔ حلقے کے ووٹرز اور سپورٹرز سے مشاورت کے بعد وہ مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر رہے ہیں۔

اسی طرح حلقہ 189 سے جیتنے والے آزاد امیدوار سردار شمشیر مزاری نے کہا کہ انہوں نے اپنے دوستوں سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 240 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار محمد سہیل نے بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔


حکومت سازی کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ملاقات آج متوقع

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے لیے مشاورت آج متوقع ہے۔

ہفتے کو مسلم لیگ ن کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ اتحادی حکومت بنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اسی سلسلے میں نواز شریف کی دعوت پر ایم کیو ایم کا وفد بھی لاہور پہنچ چکا ہے۔

گذشتہ روز ہی مسلم لیگ ن کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر مشاورت کی۔

پارٹی نے ایکس پر بتایا کہ اس حوالے سے لاہور میں شہباز شریف کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، ملک محمد احمد خان،  سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڑ اور خواجہ عمران نذیر شریک تھے۔

شہباز شریف نے اجلاس کو مختلف جماعتوں سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے، نیز حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کے لیے ایک ہونا ہو گا۔

جبکہ دوسری جانب گذشتہ روز ہی پاکستان تحریک انصاف نے مختلف پارٹی رہنماؤں کو الیکشن میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں سے رابطوں کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔

پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا ہفتے کو ورچوئل اجلاس ہوا جس میں مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ’واضح اکثریت‘ کے باعث حکومت سازی کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔

پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا ’حکومت سازی کے لیے نو منتخب اراکین قومی اسمبلی سے باضابطہ روابط کی ذمہ داری بیرسٹر عمیر خان نیازی کو دی گئی ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا جبکہ میاں اسلم اقبال بالترتیب خیبر پختونخوا اور پنجاب میں نومنتخب اراکین صوبائی اسمبلی سے رابطے کریں گے۔‘

حکومت سازی کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیڑ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں جیت کر آنے والے آزاد امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں۔

گذشتہ رات نجی ٹی وی ’ڈان نیوز‘ کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت 100 آزاد امیدوار ہیں، وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ اتحاد ہو جاتا ہے تو مسلم لیگ ن اس حوالے سے کوئی زور اور جبر نہیں دکھائے گی۔


ن لیگ کا حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر غور

پاکستان مسلم لیگ ن نے آج حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر مشاورت کی۔

پارٹی نے ایکس پر بتایا کہ اس حوالے سے لاہور میں شہباز شریف کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، ملک محمد احمد خان،  سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڑ اور خواجہ عمران نذیر شریک تھے۔

شہباز شریف نے اجلاس کو مختلف جماعتوں سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے، نیز حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کے لیے ایک ہونا ہو گا۔


پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس 

پاکستان تحریک انصاف نے مختلف پارٹی رہنماؤں کو الیکشن میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں سے رابطوں کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔

پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا ہفتے کو ورچوئل اجلاس ہوا جس میں مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ’واضح اکثریت‘ کے باعث حکومت سازی کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔
 
پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا ’حکومت سازی کے لیے نو منتخب اراکین قومی اسمبلی سے باضابطہ روابط کی ذمہ داری بیرسٹر عمیر خان نیازی کو دی گئی ہے۔‘
 
بیان کے مطابق: ’علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا جبکہ میاں اسلم اقبال بالترتیب خیبر پختونخوا اور پنجاب میں نومنتخب اراکین صوبائی اسمبلی سے رابطے کریں گے۔‘

حکومت بنانے کے لیے پی پی، ایم کیو ایم سے بات شروع ہو گئی: ن لیگ

پاکستان مسلم لیگ ن کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت بنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے اور بات چیت شروع ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ ’مسلم لیگ ن اس عمل سے ’دیگر جماعتوں‘ کو خارج نہیں کرے گی کیوں کہ وہ ’سیاسی حقیقت‘ ہیں۔


حکومت بنانے کے لیے کسی جماعت سے باضابطہ بات نہیں ہوئی: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کی پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ممکنہ اتحاد کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

ہفتے کو جیو نیوز کے ساتھ گفتگو میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے والد آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات ہے؟ تو بلاول بھٹو نے جواب میں کہا کہ ’میں ایسی کسی ملاقات کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ جب تمام نتائج ہمارے سامنے آئیں گے تو ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ دوسروں کے ساتھ بات کر سکیں۔‘

انہوں نے تسلیم کیا پیپلز پارٹی اکیلی حکومت نہیں بنا سکتی اور بتایا کہ پی ٹی آئی کے کسی بھی آزاد امیدوار نے اب تک ان سے یا پیپلز پارٹی کے کسی رہنما سے رابطہ نہیں کیا۔

’ہم کچھ آزاد ارکان سے رابطے میں ہیں لیکن پی ٹی آئی سے اب تک کسی آزاد امیدوار نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔‘

سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بغیر وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں حکومتیں نہیں بن سکتیں۔ تمام صوبوں میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کون بنا رہا ہے؟

’ہمیں نہ تو پورے نمبرز کا علم ہے اور نہ ہی آزاد امیدواروں نے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ کوئی بھی حکومت سیاسی زہریلے پن کو دور کیے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر تمام جماعتوں کے درمیان سیاسی اتفاق رائے پیدا ہوجائے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

’ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مجھے وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کیا ہے لیکن اگر ہمیں اس فیصلے کو تبدیل کرنا ہے تو ایک اور اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ ہم فیصلہ کریں گے کہ کس طرح آگے بڑھنا ہے؟‘


بلوچستان: انتخابی نتائج میں تاخیر اور مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج

صوبہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج میں مبینہ دھاندلی اور تاخیر پر صوبے کے متعدد شہروں میں احتجاجی دھرنوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ احتجاجی دھرنے انتخابی افسران، ریٹرننگ افسران اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے سامنے دیے جا رہے ہیں۔

صحافی عامر باجوئی کے مطابق بلوچستان میں حلقہ 252 موسٰی خیل کم بارکھان، لورالائی، دکی 253 سبی، این اے 255 جعفر آباد، این اے 256 خضدار، 259 گوادر، حلقہ این اے 261 مستونگ کم قلات، کم سوراب اور مستونگ سمیت صوبائی حلقوں میں انتخابی نتائج میں تاخیر اور مبینہ ردوبدل کے خلاف سیاسی پارٹیوں کی جانب احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے سی پیک روڈ بلاک کیا گیا ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفس کے سامنے دھرنا دیا گیا جہاں خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔


جماعت اسلامی تیسرے یا چوتھے درجے کی قومی جماعت بن کر ابھری: سراج الحق

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں ان کی جماعت تیسرے یا چوتھے درجے کی قومی جماعت بن کر ابھری ہے۔

ہفتے کو لاہور میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم نے قومی اسمبلی میں نمبرز نہیں دکھائے لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنا انقلابی پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے۔‘

سراج الحق کے بقول: ’ہمیں پہلے سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور ہم آگے کی طرف بڑھے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی مسائل کا واحد حل ہر سطح پر اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔


الیکشن کمیشن کا تین حلقوں کے کچھ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی کے حلقے این 88 خوشاب، سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 18 گھوٹکی ایک اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے کوہاٹ ایک کے بعض پولنگ سٹیشنوں پر 15 فروری کو دوبارہ پولنگ کا حکم دے دیا۔

الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق ان حلقوں میں پولنگ مٹیریل چھینا یا ضائع کر دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان حلقوں کے انتخابی نتائج کا اعلان 15 فروری کو پولنگ مکمل ہونے کے بعد ہو گا۔

’این اے 88 خوشاب دو کے انتخابی حلقے میں 26 پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ مواد کو ریٹرننگ افسر کے دفتر میں ہجوم کے ہاتھوں جلائے جانے کی وجہ سے ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔‘

اسی طرح الیکشن کمیشن نے پی ایس 18 گھوٹکی ایک میں نامعلوم افراد کی جانب سے دو پولنگ سٹیشنوں کا مٹیریل چھین لینے کے بعد وہاں دوبارہ پولنگ کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے پی کے کوہاٹ ایک کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر ’دہشت گردوں کے ہاتھوں‘ انتخابی مواد کی تباہی کے بعد یہاں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔

الیکشن کمیشن نے این اے 242 کراچی کے ایک پولنگ سٹیشن پر توڑ پھوڑ کی شکایت ملنے پر ریجنل الیکشن کمشنر کو واقعے کی تحقیقات کر کے تین دن میں رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔


پی ٹی آئی وفاق میں حکومت بنائے گی: بیرسٹر گوہر علی خان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت وفاق میں حکومت بنائے گی جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہے۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف کی فتح ’غلامی نامنظور‘ کے نام ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی اکثریت ہے اور صدر انہیں ہی حکومت بنانے کے لیے دعوت دیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ قوم کو اس فتح پر مبارک باد دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی مان چکا ہے کہ پی ٹی آئی کی 170 سیٹوں سے برتری ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں وہ دو تہائی اکثریت حاصل کرچکے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی جماعت نے پنجاب میں بھی کامیابی حاصل کی اور اب صوبے کو ’عوامی وزیر اعلیٰ‘  ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ رات 12 بجے سے پہلے تمام روکے گئے نتائج کا اعلان کیا جائے۔ ’اگر ایسا نہ ہوا تو کل آر او دفاتر کے سامنے احتجاج ہوگا۔‘

انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گذشتہ رات کے بیان پر کہا کہ وہ ’قبل از وقت‘ بیان کی مذمت کرتے ہیں۔

اس سے قبل تحریک انصاف نے ایکس پر پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی مصنوعی ذہانت سے تیار آواز میں ایک ویڈیو جاری کی۔

جس میں انہوں نے کہا کہ لوگ خوشیاں منائیں اور نوافل ادا کریں کیونکہ ’ہم نے الیکشن دو تہائی سے جیت لیا ہے۔‘


الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ہوتیں تو انتخابی نتائج میں تاخیر سے بچ سکتے تھے: صدر علویٰ

پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) ہوتیں تو انتخابی نتائج میں تاخیر سے بچا جا سکتا تھا۔

صدر علویٰ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے دور حکومت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر بھرپور زور دیا تھا ۔ صدر کا کہنا تھا کہ ’الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے لیے ہماری طویل جدوجہد کو یاد کریں۔‘

صدر کے مطابق: ’ای وی ایم میں کاغذ کے بیلٹ پیپر تھے جن کی گنتی الگ طور پر ہاتھ سے کی جا سکتی ہے (جیسا کہ آج کیا جا رہا ہے) لیکن اس میں ہر ووٹ بٹن کا ایک سادہ الیکٹرانک کیلکولیٹر/ کاؤنٹر بھی تھا۔

’پولنگ ختم ہونے کے بعد پانچ منٹ کے اندر ہر امیدوار کے تمام ووٹ دستیاب ہوتے جنہیں پرنٹ کیا جا سکتا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر محنت جس میں صرف صدر ہاؤس میں ہونے والے 50 سے زیادہ اجلاس بھی شامل ہیں ’بے کار‘ ثابت ہوئی۔


عام انتخابات: ’آر او کے دفتر میں شفافیت پرسمجھوتا ہوا‘، فافن رپورٹ

آٹھ فروری 2024 کو ملک بھر میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے ابتدائی مشاہدہ رپورٹ جاری کر دی۔

نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق ہفتے کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’عام انتخابات کے دوران فافن نے ملک بھر میں 5664 مبصرین تعینات کیے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مبصرین کو ریٹرننگ افسر (آر او) دفاتر میں جانے نہیں دیا گیا اور 28 فیصد پولنگ سٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران نے مبصرین کو فارم 45 کی کاپی نہیں دی۔‘

مشاہدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پولنگ سٹیشنز پر شفافیت قائم رہی تاہم ریٹرننگ افسر (آر او) کے دفتر میں شفافیت کو لے کر سمجھوتا ہوا۔‘

 فافن رپورٹ کے مطابق: ’ملک میں ووٹر ٹرن آوٹ 48 فیصد رہا۔ جبکہ گذشتہ مرتبہ کی طرح 16 لاکھ بیلٹ پیپرز ہی مسترد ہوئے۔‘

مشاہدہ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’25 حلقوں میں مسترد ووٹوں کا مارجن جیت کے مارجن سے زیادہ تھا جبکہ انتخابات میں ریکارڈ امیدوار تھے۔‘

فافن کی چئیرپرسن مسرت قدیم نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ’آٹھ فروری کو ملک میں پانچ کروڑ سے زیادہ ووٹرز نے ووٹ ڈالا۔‘

مسرت قدیم نے کہا ’دو سال سے جاری افراتفری کے بعد ملک میں انتخابات ہوئے۔ دہشت گردی اور یکساں مواقع نہ ملنے کی شکایات کے باوجود سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کے باوجود انتخابی مشق کو منعقد کیا جو قابل ستائش ہے، یہ ملک کی سب سے بڑی مشق تھی۔ ابتدائی نتائج کی تیاری اور نتائج کے اعلان نے منظم الیکشن کو overshadow کیا ہے۔‘

مسرت قدیم نے مزید کہا کہ ’انتخابات سے ملک میں بے یقینی کا دور ختم ہو گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام کو یقینی بنائیں۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے نتائج پر تحفظات کو جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘


انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی: رہنما تحریک انصاف

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے۔

پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین تیمور سلیم جھگڑا، شاندانہ گلزار اور کامران خان بنگش نے کہا کہ ان کے حلقوں میں دھاندلی کے ذریعے مخالف امیدواروں کو جتوایا گیا۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ ہمارے حلقوں میں آر اوز اور فارم 45 غائب کر دیے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے پشاور میں تمام 18 حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن راتوں رات تاریخی دھاندلی کے ذریعے کچھ حلقوں میں ان کے مخالف امیداروں کو فتح دلوائی گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ خیبر پخونخوا میں اس سے بدتر دھاندلی کبھی نہیں کی گئی۔

کامران خان بنگش نے اس موقع پر کہا کہ میرے حلقے میں مخالف امیدوار طارق اعوان، جو چھٹے نمبر پر تھے، کو بدترین دھاندلی کے ذریعے جتوایا گیا۔

شاندانہ گلزار نے اس موقع پر کہا کہ بدترین پابندیوں کے باوجود عوام کے عزم اور ولولے نے پہلی بار پری پول رگنگ کو شکست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عوام کی عدالت میں جیت چکے ہیں۔


عام انتخابات: پاکستان کو ’افراتفری اور تفریق‘ سے آگے بڑھنا ہو گا، آرمی چیف

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے آٹھ فروری کے عام انتخابات کے بعد ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان کو افراتفری اور تفریق کی سیاست سے آگے بڑھنا ہو گا۔‘

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا کہ ’قوم کو مستحکم ہاتھوں اور مداوے کی ضرورت ہے تاکہ وہ افراتفری اور تفریق کی سیاست سے آگے بڑھ سکے جو 25 کروڑ کے ایک ترقی پسند ملک کے لیے مناسب نہیں ہے۔‘

جمعرات آٹھ فروری کو پاکستان میں عام انتخابات کے دوران پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد پاکستان فوج نے ایک بیان میں پرامن اور تشدد سے پاک انعقاد پر قوم کو مبارک باد پیش کی تھی۔

راولپنڈی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے انتخابی عمل کے دوران، سول طاقت کی مدد سے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

’تقریباً 6000 انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر ایک لاکھ 37 ہزار فوجی اہلکاروں اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کے ساتھ عوام کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا گیا۔‘

’51 بزدلانہ دہشت گرد حملوں کے باوجود، جن میں زیادہ تر کے پی اور بلوچستان میں تھے، جن کا مقصد انتخابی عمل میں خلل ڈالنا تھا، افواج پرعزم رہیں اور پورے پاکستان میں امن اور سلامتی کو مؤثر طریقے سے یقینی بنایا۔‘

پاکستان فوج کے جاری شدہ بیان کے مطابق ان حملوں میں 12 افراد (جن میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 10 اہلکار بھی شامل ہیں) جان سے گئے اور 39 زخمی ہوئے۔


پی ٹی آئی نے الیکشن دو تہائی اکثریت سے جیت لیا: عمران خان کا اے آئی پیغام

پاکستان تحریک انصاف نے ایکس پر پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی مصنوعی ذہانت سے تیار آواز میں ایک ویڈیو جاری کی ہے۔

ویڈیو میں عمران خان نے کہا کہ لوگوں نے کل ووٹ دے کر حقیقی آزادی کی بنیاد رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن 2024 جیتنے پر لوگوں کو مبارک باد دیتے ہیں۔

’مجھے آپ پر بھروسہ تھا کہ آپ ووٹ دینے نکلیں گے، آپ نے میرے بھروسے کا مان رکھا اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکل کر سب کو حیران کر دیا۔‘

عمران خان نے نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں 30 نشستیں پیچھے ہونے کے باوجود وکٹری سپیچ کر ڈالی، جسے کوئی نہیں مانے گا۔

پی ٹی آئی کے بانی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ آزاد ذرائع کے مطابق دھاندلی شروع ہونے سے قبل وہ قومی اسمبلی پر 150 نشستوں پر جیت رہے تھے اور اس وقت فارم 45 کے ڈیٹا کے مطابق وہ 170 نشستوں سے زائد پر جیت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ خوشیاں منائیں اور نوافل ادا کریں کیونکہ ’ہم نے الیکشن دو تہائی سے جیت لیا ہے۔‘

 

اتحادی حکومت بنانے کے لیے شہباز شریف کو رابطوں کی ذمہ داری دے دی: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے جمعے کو لاہور میں پارٹی کارکنان سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے اتحادی حکومت بنانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کی ذمہ داری شہباز شریف کو سونپی ہے۔

’شہباز شریف سے کہا ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ایجنڈا خوش حال پاکستان ہے۔ الیکشن جیتنے والی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو دعوت دیتے ہیں کہ مل کر حکومت بنائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن جیتنے والی تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بار بار الیکشن نہیں ہو سکتے، ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے، سب کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’خوشی ہوتی اگر ہمیں پورا مینڈیٹ ملتا۔ یہ میری نہیں سب کی ذمہ داری ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ سب مل کر ملک کی کشتی کو بھنور سے نکالیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت عام انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ ’مرکز ہی نہیں پنجاب میں بھی ہماری اکثریت ہے، مکمل نتائج نہیں آئے تھے اس لیے کل بات نہیں کی۔‘

’صرف مسلم لیگ ن کا پاکستان نہیں، یہ سب کا ہے۔ ملک میں استحکام لانے کے لیے کم ازکم 10 سال چاہییں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لیے تمام ادارے مثبت کردار ادا کریں، سیاست دان، پارلیمنٹ، افواج پاکستان، میڈیا سب مل کر مثبت کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں  کی آنکھوں میں خوشی کی لہر اور چمک دیکھ رہا ہوں۔ اس ملک میں ایک روشن تبدیلی آنی چاہیے۔ روشنیاں پھر لوٹ آئیں گی، بے امنی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔


مرکز، دو صوبوں میں حکومتیں بنائیں گے: پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کہا کہ وہ پنجاب، مرکز اور خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد تینوں جگہ پر حکومتیں بنانے جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کے پی میں انہیں نمایاں اکثریت حاصل ہے اور پنجاب میں بھی ابھی تک وہ آگے ہیں۔ ’اس وقت ہم تین حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کل رات تک پی ٹی آئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی اکثریتی نشتوں پر لیڈ کر رہی تھی لیکن اچانک رات بارہ بجے کے بعد انتخابی نتائج آنا بند ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج میں ’ردوبدل‘ کے خلاف ٹریبونلز اور عدالتوں میں جانے کا آپشن موجود ہے۔



نواز شریف نے این اے 15 کا نتیجہ چیلنج کر دیا

نواز شریف نے مانسہرہ این اے 15 میں ہارنے کے بعد حلقے کے انتخابی نتائج کو چیلنج کر دیا۔

ان کے وکیل نے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی جس کے مطابق حلقے کے 125 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج مکمل نہیں ہوئے اور آر او نے بقیہ پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کے بغیر فارم 47 جاری کر دیا۔

درخواست کے مطابق نواز شریف نامکمل فارم 47  پر ہارے اور انہیں فارم 47 پر تحفظات ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ موسم کی خرابی اور مواصلات کی عدم فراہمی کی وجہ سے 125 پولنگ سٹیشنوں سے نتائج نہیں پہنچ سکے۔


 



ٹی ایل پی کا ’بدترین دھاندلی‘ کے خلاف کل ملک گیر ریلیوں کا اعلان

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے عام انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے ہفتے کو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالے کا اعلان کر دیا۔

ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ جہاں ہارے ہیں اس کو کھولے دل سے تسلیم کرتے ہیں لیکن جہاں وہ جیت رہے تھے ان حلقوں میں ہار کیسے قبول کریں؟

انہوں نے الیکشن کے نتائج کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ’نااہلی‘ سب کے سامنے ہے۔

سعد رضوی کے مطابق تحریک لبیک کافی سیٹوں پر مارجن میں تھی، ان کے ووٹ بینک پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ’کئی ایسے حلقے ہیں جن کے فارم45 دیے نہیں گئے لیکن ان کے نتائج جاری ہو گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا دل و دماغ ’اتنی بدترین دھاندلی‘ کو قبول نہیں کر پا رہا۔


شانگلہ: پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں تصادم، دو افراد جان سے گئے

خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پولیس نے بتایا کہ جمعے کو انتخابی نتائج کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں اور پولیس میں تصادم کے نتیجے میں دو افراد جان سے گئے۔ تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پولیس کی سیدھی فائرنگ سے چار لوگ مارے گئے۔

تصادم شانگلہ کے الپوری پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا، جہاں کے پولیس اہلکار اسلام خان نے بتایا کہ سرکاری گاڑی میں بیلٹ باکسز کو ریٹرننگ افسر کے دفتر متنقل کیا جا رہا تھا جب پی ٹی آئی کارکنان نے گاڑی کو آگ لگا دی۔

انہوں نے بتایا کہ ’گاڑی کو آگ لگانے کے بعد کارکنان نے فائرنگ کی جس سے دو کارکنان جان سے گئے۔‘

تاہم پی ٹی آئی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ پولیس کی سیدھی فائرنگ سے چار لوگ جان سے گئے۔

شانگلہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 11 سے غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیر مقام کامیاب ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق کارکن نتیجے آنے کے بعد مشتعل تھے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔



الیکشن نتائج کو رات گئے تبدیل کرنے کے الزام مسترد کرتے ہیں: وزیر داخلہ

نگران وفاقی وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے جمعے کو عام انتخابات کے نتائج کو رات گئے تبدیل کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری نیت میں کھوٹ ہوتا تو الیکشن کے یہ نتائج نہ ہوتے۔‘

اسلام آباد میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ساتھ پریس کانفرنس میں گوہر اعجاز نے الیکشن کے انعقاد کو ’کڑا امتحان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بند کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا، ’ایسا قوم کے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو علم تھا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بندش پر تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہترین انداز میں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ سے ایک دن پہلے دو بم دھماکوں میں 28 لوگوں کی جان گئی۔’ہمیں انٹیلی جنس رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ دونوں حملے خود کش نہیں تھے، دونوں حملے ڈیٹونیٹر ڈیوائس سے کیے گئے۔‘

گوہر اعجاز کے مطابق: ’ہم ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے پولنگ سٹیشنوں کو کیسے محفوظ بنا سکتے تھے، ہمارے لیے ہر صورت میں انسانی جانوں کی حفاظت اہم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لوگوں نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دیا، قوم آج جو رزلٹ دیکھ رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے، اس الیکشن میں کروڑوں لوگوں نے ووٹ ڈالا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ہمارے لیے پولنگ کے عملے کی حفاظت بھی ضروری تھی، چیف الیکشن کمشنر نے ان چیلنجز کے باوجود رات کے دو بجے پریس کانفرنس کی۔‘

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ تمام اداروں نے مل کر کامیاب الیکشن کا انعقاد کیا۔ ’پولنگ سٹیشنوں پر حملوں کی رپورٹس تھیں۔ سکیورٹی صورتِ حال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس بلایا گیا۔ چھ لاکھ سے زیادہ افواج پاکستان نے عوام کی حفاظت کی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ تمام خطرات کے باوجود ہم نے الیکشن کا انعقاد اچھے ماحول میں کرایا، اُمید ہے الیکشن کے بعد بننے والی حکومت عوام کا سوچے گی۔

نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نگران حکومت نے وعدے کے مطابق انتخابات کروائے، انتہائی اہم حالات میں انتخابات ہوئے۔


مردان کی تاریخ میں پہلی بار ایک سیاسی جماعت تمام سیٹوں پر کامیاب

صحافی عبدالستار کے مطابق عام انتخابات 2024 میں مردان ضلع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاسی پارٹی تمام آٹھ صوبائی اسمبلی اور تین قومی اسمبلی کی سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے۔

آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نتائج کے مطابق میں مردان کے قومی اسمبلی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار این اے 21 سے مجاہد خان ،این اے 22 سے عاطف خان جبکہ این اے 23 سے علی محمد خان کامیاب ہوگئے۔

اسی طرح صوبائی اسمبلی کی آٹھ سیٹوں پر بھی پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواران کامیاب ہوگئے ہیں۔ جس میں حلقہ پی کے54 سے زرشاد خان، پی کے 55 سے سابق ایم پی اے طفیل انجم، پی کے 56 سے سابق ایم پی اے امیرفرزند، پی کے 57 سے سابق ایم پی اے ظاہرشاہ طورو، پی کے 58 سے سابق ایم پی اے عبدالسلام، پی کے 59 سے طارق محمود آریانی، پی کے 60 سے سابق ایم پی اے افتخار مشوانی اور حلقہ پی کے 61 سے احتشام علی منتخب ہوگئے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 22 پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار عاطف خان نے اے این پی کے قام مقام صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کو بڑے مارجن سے شکست دی۔


صوبہ خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کے جیتنے کی امید تھی لیکن اس بڑی تعداد میں جیتیں گے یہ امید نہیں تھی۔ نامہ نگار اظہار اللہ نے صوبے میں انتخابی نتائج کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

 


اسلام آباد: انتخابی نتیجے کے خلاف پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شعیب شاہین کا آر او کے دفتر کے باہر دھرنا

 


انتخابات 2024: الیکشن کمیشن اسلام آباد سے نتائج کی تازہ صورت حال سے آگاہ کر رہی ہیں۔



 


الیکشن نتائج: پنجاب میں ن لیگ، سندھ میں پی پی پی، خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار آگے

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں کے کچھ حلقوں کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور سندھ اسمبلی میں بالترتیب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اور پی پی پی آگے ہیں، جبکہ پنجاب میں ن لیگ کا غلبہ ہے۔


’سوات کے گاؤں میں پہلی مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی پی ٹی آئی کے ہاتھوں ہار‘

خیبرپختونخوا این سی آر سی کی رکن نادیہ بی بی نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ سوات میں ان کے گاؤں میں پہلی مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی پی ٹی آئی کے ہاتھوں ہار گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پانچ سال قبل تحریک انصاف پورے سوات میں کامیاب ہوئی تھی لیکن ان کے علاقے میں اے این پی ہی فاتح رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر خاتون ووٹر نے کہا کہ وہ صحت کارڈ کو ووٹ دی رہی ہے۔


ن لیگ میدان سے بھاگنے والی جماعت نہیں: مریم اورنگزیب

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی مضبوط ہے اور انتخابات میں کامیاب ہو گی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ابھی تمام حلقوں کے 10 سے 15 فیصد رزلٹ آئے ہیں لہٰذا کسی پارٹی کی جیت یا ہار کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کا اپنا الیکشن سیل ہے جہاں ایک طریقہ کار کے مطابق فارم 45 حاصل کرکے نتائج فائنل کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ میدان سے بھاگنے والی جماعت نہیں، وہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے، انشا اللہ فتح ان کی جماعت کی ہو گی۔



الیکشن کمیشن نے جمعرات کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے پونے دس گھنٹے بعد پہلے دو انتخابی حلقوں کے نتائج کا اعلان کر دیا۔

الیکشن کمیشن حکام کے اعلان کردہ غیر حتمی، غیر سرکار نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا کے دو صوبائی حلقوں میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

اعلان کے مطابق پی کے 76 پشاور 5 سے آزاد امیدوار سمیع اللہ خان 18888 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

اسی طرح حلقہ پی کے 6 سوات 4 سے آزاد امیدوار فضل حکیم خان 25330 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

جمعے کی صبح ساڑھے چار بجے تک خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار حلقوں کے نتائج سامنے آئے ہیں۔


اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں کے لیے قائم ریٹرننگ افسر آفس میں میڈیا اور امیدواروں کے نمائندگان کے لیے بند کر دیا گیا۔


ریٹرننگ افسران آدھے گھنٹے میں تمام نتائج کا اعلان کریں ورنہ کارروائی ہو گی: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے جمعے کو تمام صوبائی الیکشن کمشنرز اور ریٹرننگ افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اگلے آدھے گھنٹے میں تمام نتائج کا اعلان کریں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کا یہ بیان پولنگ ختم ہونے کے نو گھنٹوں بعد بھی کسی ایک حلقے کا نتیجہ سامنے نہ آنے پر آیا ہے۔

بیان میں مختلف میڈیا چینلز پر الیکشن کمیشن کے ذرائع سے نتائج کے بارے میں جو بیانات چلائے جا رہے ہیں وہ الیکشن کمیشن نے جاری نہیں کیے۔

نتائج کے اعلان میں تاخیر پر پی پی پی کے بلاول بھٹو زرداری اور پی ٹی آئی اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔


امریکہ کو پاکستان میں ’اظہار رائے کی آزادی محدود کرنے کے اقدامات پر تشویش‘

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اسے پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تشویش ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ تشویش خاص طور پر فون اور انٹرنیٹ تک رسائی سے متعلق ہے، جب ملک میں عام انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے۔

نگران حکومت نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر آٹھ فروری کو الیکشن کے موقعے پر پاکستان بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی تھیں۔

پولنگ ختم ہونے کے بعد وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ سروسز جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں اور جلد ہی مکمل بحال ہو جائیں گی۔


امریکہ کو پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے: کانگریس کے رکن گریگ کیسر

امریکی کانگریس کے رکن گریگ کیسر نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ موبائل فون سروس کی بندش اور دیگر آمرانہ طرز عمل کے بغیر اپنے رہنماؤں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ ’امریکہ کو پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ ہم جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے کام کرنے والے کسی بھی شخص کی حمایت نہیں کریں گے۔‘


انتخابی نتائج انتہائی سست روی کا شکار ہیں: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔

انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد امید وار جن کی انہوں نے حمایت کی وہ اچھا پرفارم کر رہےہیں، ’دیکھتے ہیں حتمی نتیجہ کیا رہتا ہے۔‘


نتائج میں تاخیر، نواز شریف لاہور میں اپنے دفتر سے چلے گئے

عام انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد ابھی تک کسی حلقے کا مکمل نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد آج شام لاہور میں پارٹی کے مرکزی دفتر پہنچے۔ ان کے ہمراہ شہباز شریف، مریم نواز اور دیگر رہنما بھی تھے۔

نامہ نگار ارشد چوہدری کے مطابق اس موقعے پر نواز شریف کی صدارت میں ن لیگی رہنماؤں کی غیر رسمی مشاورت ہوئی اور نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج میں تاخیر کے پیش نظر نواز شریف دفتر سے روانہ ہو گئے۔


ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں: پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بیان میں ’بانی چیئرمین عمران خان کی اپیل پر انتخابی عمل میں بڑی تعداد میں شرکت پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔‘

پارٹی کے چیف آرگنائزر عمر ایوب خان اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے مشترکہ بیان میں کہا ’انتخابی عمل میں تاریخ کی بدترین ریاستی مداخلت اور قبل از انتخابات دھاندلی کے باوجود بانی چیئرمین عمران خان نے دستور، قانون اور جمہوریت پر اپنےغیرمتزلزل ایمان کا اظہار کر کے پاکستان کو نئی راہ دکھلائی۔‘

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ملک بھر خصوصاً کراچی میں متعدد حلقوں کے پولنگ سٹیشنز پر انتخابی عمل تاخیر سے شروع ہوا یا مسلسل روک ٹوک کا شکار رہا۔‘

دونوں کا کہنا تھا کہ ’بدترین قبل از انتخابات دھاندلی اور بے شمار رکاوٹوں کے باوجود‘ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے عمران خان اور ان کے حقیقی آزادی کے ایجنڈے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

عمر ایوب اور بیرسٹر علی ظفر نے ابتدائی نتائج کو نہایت حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کثیر نشستوں پر واضح برتری کے ساتھ آگے ہیں۔

’ابتدائی نتائج میں عمران خان کے امیدواروں کی کامیابی کے قوی امکانات کے بعد نتائج کو تشویش ناک سست روی کا شکار کیا جا رہا ہے۔‘

بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ’عوام کے مینڈیٹ کو بند کمروں کی سازش کا نشانہ بنانے یا اس میں غیرقانونی چھیڑ چھاڑ کے نتائج نہایت منفی اور مہلک نتائج مرتب ہوں گے۔‘

دونوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ ’انتخابی نتائج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مکروہ عمل میں سہول تکاری کی بجائے نتائج کا بلاتاخیر اجرا یقینی بنائے۔‘




لاہور میں ن لیگ کا مشاورتی اجلاس شروع

پاکستان میں جمعرات کے روز عام انتخابات کا عمل مکمل ہونے اور نتائج کی آمد کے آغاز کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ماڈل ٹاؤن ہیڈکوارٹرز لاہور میں اہم اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف گنتی کے عمل کے آغاز کے بعد اپنے بھائی اور پارٹی کے صدر شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن دفتر پہنچے جس کے بعد ان کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس کا آغاز ہوا۔

اجلاس میں انتخابی نتائج آنے کے بعد کی صورت حال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔


موبائل، انٹرنیٹ سروسز جزوی بحال

پاکستان کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ آج پولنگ ختم ہونے کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں اور جلد ہی پورے ملک میں سروسز مکمل بحال ہو جائیں گی۔

حکومت نے آج صبح بتایا تھا کہ سکیورٹی صورت حال کی بنا پر موبائل سروس بند کر دی گئی ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس بحال کرنے کا دعوی کیا ہے، لیکن اس کے برعکس اکثر شہروں میں عوام موبائل فون سروسز سے اب بھی محروم ہیں۔

پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں پولنگ سٹیشنوں پر عوام کی قطاریں دیکھی گئیں، جن کا کہنا تھا کہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہوا اور انہیں اپنے ووٹوں کی تفصیلات معلوم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جن علاقوں میں موبائل فون سروس بحال ہو گئی ہے ان میں راول پنڈی ڈویژن، پشاور، ٹیکسلا، گوجر خان، چکری، بکھر، سرگودھا، لورا لائی اور جھل مگسی شامل ہیں۔

سندھ کے مختلف شہروں میں بھی موبائل فون سروس جزوی بحال ہوئی ہے۔ تاہم کراچی اور پنجاب کے متعدد شہروں میں اب تک موبائل فون کے سگنل  شروع نہیں ہوئے۔



بلوچستان: انتخابات کے دن شدت پسندی کے ’35 واقعات‘ پیش آئے

بلوچستان میں عام انتخابات کے دن شدت پسندی کے 35 واقعات پیش آئے، جن کی تصدیق انتظامیہ نے بھی کی۔

صحافی اعظم الفت کے مطابق بلوچستان میں الیکشن کے دن ہینڈ گرینیڈز، آر پی جی راکٹ اور فائرنگ کے 35 واقعات پیش آئے۔

ان واقعات میں دو لیویز اہلکار، دو بچوں سمیت پانچ افراد جان سے گئے اور 17 زخمی ہوئے۔

خاران میں لینڈ مائینز حملے میں دو لیویز اہلکار جان سے گئے اور سات زخمی ہوئے ۔ زخمیوں کو فرسٹ ایڈ کے بعد کوئٹہ بھیجا گیا۔


کراچی کے کئی پولنگ سٹیشنوں میں بے ضابطگیاں جاری ہیں: نعیم الرحمٰن

جماعت اسلامی کراچی کے صدر نعیم الرحمٰن نے سوشل میڈیا میں ایک پیغام میں پولنگ کے بعد بے ضابطگیوں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ متعدد علاقوں میں بیلٹ باکس غائب ہیں۔


’دوپہر کے بعد ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہوا‘: خیبر پختونخوا میں پولنگ کے بعد کا احوال


نگران وزیر اعظم کاکڑ ’صاف، شفاف‘ انتخابات کے انعقاد پر قوم کے مشکور

نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے جمعرات کو عام انتخابات کے کامیابی سے انعقاد پرعوام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ایکس میں ایک پیغام پر الیکشن کمیشن، نگران صوبائی حکومتوں، مسلح افواج، پولیس، الیکشن سٹاف اور دیگر کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ووٹروں کا بڑی تعداد میں باہر نکل کر ووٹ ڈالنا اس بات کی نشانی ہے کہ عوام پاکستان کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے چند واقعات کے باوجود صف اور شفاف انتخابات کا انعقاد قابلِ داد ہے۔


پولنگ کا عمل مقررہ وقت پر شام 5 بجے ختم ہو جائے گا: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل مقررہ وقت پانچ بجے پر ختم ہو جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ تمام پولنگ سٹیشنز کے دروازے شام پانچ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ البتہ جو لوگ پولنگ سٹیشن کے احاطے یا حدود  میں پہلے سے موجود ہیں وہ مقررہ وقت کے بعد بھی ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔


خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد واقعات، آٹھ اموات

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد واقعات میں مجموعی طور پر کم از کم آٹھ افراد جان سے چلے گئے۔

ووٹنگ شروع ہونے کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث ملک بھر موبائل سروسز عارضی طور پر معطل ہیں جبکہ سڑکوں اور پولنگ سٹیشنوں پر ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

پولنگ کے دن خیبرپختونخوا کے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے علاوہ بلوچستان کے مکران ڈویژن میں بھی پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

خیبر پختونخوا کے آئی جی رؤف قیصرانی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ صوبے کے دہشت گردی سے متاثرہ شہر ڈیرہ اسماعیل خان ضلع کے کلاچی کے علاقے میں پولیس وین کو بم دھماکے اور فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔

صوبے کے ایک اور شہر ٹانک میں ایک شخص اس وقت جان سے گیا جب مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

شمالی وزیرستان سے امیدوار محسن داوڑ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ان کے حلقے کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر مقامی ’طالبان‘ نے قبضہ کر لیا ہے جو پولنگ عملے اور مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے رہے تھے۔

الیکشن کمیشن یا سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب صحافی عزیز الرحمان صباون کے مطابق آٹھ فروری کو اب بلوچستان بھر میں تین افراد کی اموات اور 12 کے زخمی ہونے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع کوہلو میں قائم لیویز کنٹرول روم کے مطابق سفید نامی جگہ پر پی بی 9 کوہلو کے آزاد امیدوار میر لیاقت مری کے قافلے کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں میر لیاقت مری کے بھائی میر مصطفیٰ سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔

خاران میں قائم لیویز کنٹرول کے مطابق خاران شہر سے 30 کلومیٹر دور لجے کے مقام پر لیویز کی گاڑی  سڑک کنارے بچھائی گئی آئی ای ڈی کا نشانہ بنی جس میں سپیشل برانچ پولیس کے سب انسپکٹر راشد علی اور لیویز اہلکار غلام حیدر چل بسے جبکہ لیویز کے رسالدار میجر حاجی خدا بخش، سپاہی جلال شاہ، سیف اللہ، زین اور عمران اور عبدالسلام نامی اہلکار زخمی ہوگئے، جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

لیویز حکام کے مطابق زیارت کی تحصیل سنجاوی کے پی بی 7 کے پولنگ سٹیشن میں دو گروہوں میں تصادم اور فائرنگ سے پی ٹی آئی کا ایک کارکن جمیل احمد چل بسا اور تین افراد زخمی ہوگئے۔

اسی طرح ضلع پنجگور اور تربت کے تین مختلف پولنگ سٹیشنوں پر فائرنگ اور دستی بم حملوں کے ساتھ گوادر میں بھی سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی مصدقہ اطلاعات ہیں، تاہم ابھی تک نہ ہی سکیورٹی اہلکار اور نہ ہی حکومتی اہلکاروں نے اس حوالے سے کوئی بیان دیا ہے۔


’لوگ خوف زدہ ہیں‘: بلوچستان میں پانچ ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل جاری

 

55 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 45 حل کیں: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مطابق صبح پولنگ کے آغاز سے اب تک 55 شکایات موصول ہوچکی ہیں اور جن میں سے 45 کو حل کر لیا گیا۔

ای سی پی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ شکایات موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 10 پر کام جاری ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ شکایات نارمل نوعیت کی ہیں جن میں زیادہ تر کارکنوں کی آپس میں گرما گرمی، لڑائی جھگڑے شامل ہیں جن کو موقعے پر قابو کر لیا گیا اور پولنگ جاری کرا دی گئی

ای سی پی نے کہا کہ اس وقت تمام پولنگ سٹیشنز میں پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔


’خوش ہیں کہ ملک بھر کی طرح ہمیں بھی ووٹ کا حق ملا ہے‘

پشاور سے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق پاکستان کے قبائلی اضلاع کے رہائشی ان علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ملک بھر کی طرح عام انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد وہاں ضمنی انتخابات کا انعقاد تو ہو چکا ہے لیکن مجموعی طور پر ایک ہی دن پاکستان کے ساتھ انتخابات پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں۔

ضلع خیبر کے حلقہ این اے 27 میں انتخابی عمل جاری ہے اور وہاں بڑی تعداد شہری ووٹ ڈال رہے ہیں۔

تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے پولنگ سٹیشنوں کے باہر انتخابی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں موجود سیاسی کارکن ووٹرز کو آگاہی دینے میں مصروف ہیں۔

پولنگ سٹیشن میں موجود اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے وسیم شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے اور تمام تر عمل ٹھیک چل رہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ‘ہم اس امید سے ووٹ دینے آئے ہیں کہ ہمارے قبائلی اضلاع کے مسائل حل  ہو سکیں۔ پرانے اراکین اسمبلی نے کچھ نہیں کیا ہے اور اب ہم نئے امیدواران کا انتخاب کریں گے۔’

پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر سکیورٹی کے انتخابات کیے گئے ہیں اور ووٹرز کا شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد پولنگ سٹیشن کے اندر جانے دیا رہا ہے۔‘

ضلع خیبر کی طرح تمام قبائلی اضلاع میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ تاہم باجوڑ کے حلقہ این اے آٹھ پر انتخابات آزاد امیدوار ریحان زیب کے قتل کے بعد ملتوی کر دیے گئے ہیں۔


بے یقینی کا خاتمہ، بالآخر الیکشن ہو گئے


’مخلوط حکومت کی بات مت کریں، عوام ایک جماعت کو اکثریتی ووٹ دے: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ نواز کے بانی نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام ایک جماعت کو اکثریتی ووٹ دیں تاکہ مخلوط اور کمزور حکومت سے بچا جا سکے۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے عوام پر زور دیا کہ وہ گھروں سے نکلیں اور بہتر مستقبل کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

ممکنہ مخلوط حکومت کے قیام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے کہا کہ ’خدارا مخلوط حکومت کی بات مت کریں۔ پائیدار ترقی اور مضبوط فیصلوں کے لیے ایک جماعت کا اکثریتی حکومت بنانا ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد عوام کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونا ہے اور ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو گا۔

نواز شریف نے کہا کہ ’بدتمیزی اور بدتہذیبی کے کلچر کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔‘

نواز شریف نے کہا کہ بڑی قربانیوں کے بعد آج (الیکشن) کا دن دیکھ رہے ہیں، مریم اور حمزہ نے جیلیں کاٹی ہیں۔


کراچی: موبائل سروسز بند، الیکشن کمیشن کی ایپ تک رسائی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات


’اس شاخ کو نہیں کاٹنا چاہیے جس شاخ پر سب بیٹھے ہیں، کراچی وہ شاخ ہے:‘ کراچی میں فاروق ستار کا ووٹ دینے کے بعد پیغام


انتخابات 2024 کی نگرانی: الیکشن کمیشن کے مانیٹرنگ کنٹرول سینٹر کے مناظر

 


انٹرنیٹ کی فوری بحالی کے لیے جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن کو خط

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی پاکستان نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی عارضی بندش کے سبب شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔

جماعت اسلامی کراچی الیکشن سیل کے نگراں راجہ عارف سلطان نے جمعرات کو موبائل سروس کی بحالی کے حوالے سے صوبائی الیکشن کمشنر شریف اللہ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے دھاندلی کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر نیٹ اور موبائل سروس بحال کی جائے۔

خط میں جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ ’موبائل سروس بند کرنے کا عمل کسی گہری سازش کا عندیہ دے رہا ہے اور اس کی وجہ سے دھاندلی کرنا انتہائی آسان ہوگا۔‘

جماعت اسلامی نے خط میں کہا ہے کہ ’ابھی تک عملہ مکمل طور پر پولنگ سٹیشنوں تک نہیں پہنچا جن سے اب تو رابطہ بھی ممکن نہیں۔ پولنگ سٹیشنوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جہاں ابھی تک پولنگ شروع نہیں ہو سکی۔‘

دوسری جانب پی ٹی آئی کے الیکشن رابطہ سیل سندھ کے انچارج بیریسٹر علی طاہر نے الیکشن کمیشن کو لکھے جانے والے خط میں کہا ہے کہ ’انٹرنیٹ سروس معطل ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، انٹرنیٹ سروس معطل کر کے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔‘

خط میں کہا گیا ہے کہ ’فری اینڈ فیئر الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے اور فوری طور پر ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے الیکشن کمیشن لاہور میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کے خلاف پٹیشن جمع کرا دی ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے دن انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورکس کی بندش پر تشویش ہے۔

شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ’آج الیکشن کا دن ہے، آج موبائل اور انٹرنیٹ بند کرنا جمہوریت اور انتخابی عمل کی نفی کرے گا۔ الیکشن کے دن پر رابطہ لازم ہوتا ہے، پارٹی اور امیدوار کو پولینگ ایجنٹس سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔‘

شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی کے وکلا اس معاملے پر عدالت میں بھی پٹیشن جمع کرائیں گے۔


’اس وقت ووٹ کاسٹ کریں، باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں‘: لاہور میں ووٹنگ کا عمل جاری


الیکشن کمیشن کی دو نجی ٹی وی چینلز کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تنبیہ کی ہدایت

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی واضح ہدایات کے باوجود دو نجی ٹی وی چینلز جیو نیوز اور آے آر وائی نیوز کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر اس نے نگراں ادارے کو تنبیہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کو ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سات فروری 2024 کو رات گئے سیاسی رہنماؤں کے براہ راست انٹرویوز اور سیاسی بیانات نشر کرنے پر کمیشن نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ان دونوں چینلز کو الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 اور کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ برائے قومی میڈیا کی مسلسل خلاف ورزی پر تنبیح  کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پیمرا کو بھجوائے گئے ایک خط میں کمیشن نے اس حوالے سے حالیہ دنوں میں پیمرا کو بھجوائے گئے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں نیوز چنیلز کی جانب سے انتخابات کے شفاف اور آزادانہ انعقاد کے لیے الیکٹرانک میڈیا پر عائد ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔

الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے کو ہدایت کی کہ اس قسم کی مزید خلاف ورزیوں پر متعلقہ چینلز کے خلاف کارروائی کی جائے جس میں ان چینلز کی نشریات کو بند کرنے اور خلاف ورزی کے مرتکب چینلز کے خلاف زیر دفعہ 10 الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت کارروائی بھی شامل ہے۔

الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 اور کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ برائے قومی میڈیا کے تحت چھ فروری 2024 کی شب 12 بجے کے بعد سے الیکشن مہم، اشتہارات و دیگر تحریری مواد کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تشہر پر پابندی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بعض چینلز اس پابندی کی مسلسل خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں جو کہ الیکشنز ایکٹ اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے اور الیکشن کمیشن خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔


انتخابات 2024: اسلام آباد میں پولنگ جاری، امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع


12ویں عام انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں پولنگ کا آغاز صبح آٹھ بجے ہو گیا ہے جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی جبکہ وزارت داخلہ نے سکیورٹی خدشات کے باعث موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کو جمعرات کو جاری کیے جانے والے بیان میں وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امن وامان کی صورتحال کو قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

’اس لیے ملک بھر میں موبائل سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

پاکستان کی تقریباً 25 کروڑ کی آبادی کا نصف یعنی 12 کروڑ، 85 لاکھ 85 ہزار ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر ہیں اور آج جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں اپنی مرضی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

انتخابات میں قومی اسمبلی کی 265 اور چار صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر 855 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایک روز قبل ہی بلوچستان کے ضلع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیداروں کے دفاتر کے باہر بم دھماکے کیے گئے، جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

اس سے قبل بھی حالیہ دنوں میں ملک کے بیشتر علاقوں خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات ہوئے ہیں، جن میں عام شہریوں سمیت متعدد سکیورٹی اہلکاروں کی بھی جانیں گئیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی کاررائیوں میں کئی عسکریت پسندوں بھی مارے گئے۔

ملک میں عام انتخابات کے لیے دو لاکھ 77 ہزار فوجی افسران و اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ ان کے ساتھ رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی سکیورٹی پر مامور ہیں۔


مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنا ووٹ کہاں کہاں ڈالا؟

پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے سلسلے میں پولنگ جاری ہے اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔

جمعرات کی صبح مسلملیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے مری کے حلقہ این اے 51 میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لاہور کے حلقہ این اے 128 میں ووٹ کاسٹ کیا۔

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کراچی کے علاقے چنیسر گوٹھ کمیونیٹی ہال گورنمنٹ اسکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے کراچی کے حلقہ این اے 244 میں اپنا ووٹ پی آئی بی کالونی میں کاسٹ کردیا۔


پشاور: مردوں اور خواتین کے پولنگ سٹینشز میں ووٹنگ کا عمل جاری

خیبر پختونخوا میں ووٹنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے اور انڈپینڈنٹ اردو نے جن پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا وہاں باہر اور اندر پولیس کے اہلکار تعینات ہے جبکہ پولنگ سٹیشن کی حدود میں فوج کے جوان موجود نہیں ہیں۔

انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی پولنگ کیمپس میں ووٹرز کی تفصیلات چیک کرنے میں مسئلہ درپیش آرہا ہے۔

ایک ووٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مجھے اپنے بلاک اور پولنگ سٹیشن کا پتہ نہیں ہے لیکن انٹرنیٹ موجود نہیں ہے تو میں چیک نہیں کر سکتا ہوں۔‘

مردوں کے پولنگ سٹیشنز کی طرح خواتین پولنگ سٹیشنز میں بھی حق رائے دہی استعمال کرنے کا عمل جاری ہے اور پولنگ سٹیشنز میں خواتین کا رش دیکھنے کو ملا۔


ہمارا نظام انٹرنیٹ پر منحصر نہیں: چیف الیکشن کمشنر

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا جمعرات کو کہنا ہے کہ ’انتخابات کے حوالے سے ہمارا نظام انٹرنیٹ پر منحصر نہیں ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے ہماری تیاریوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ یا ٹیلی فون سروس الیکشن کمیشن کے اختیار سے باہر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق: ’سکیورٹی صورت حال کا جائزہ ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کا کام ہے۔ ہم وزارت داخلہ کو موبائل سروس کھولنے کا نہیں کہیں گے۔‘


اسلام آباد، سندھ اور پنجاب میں سکیورٹی کے انتظامات مکمل مانیٹرنگ جاری

پاکستان رینجرز سندھ کا کہنا ہے کہ فوج اور سندھ پولیس نے سکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

جمعرات کو جاری کیے جانے والے بیان میں سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ تمام اہم مقامات پر نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔

بیان کے پورے صوبے میں رینجرز کے 10 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جس میں سے چھ ہزار اہلکار کراچی اور چار ہزار اہلکار اندرون سندھ فرائض سر انجام دیں گے۔

کراچی میں کوئیک رسپانس فورس کے440 دستے تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اندرون سندھ 392 دستے تعینات ہوں گے۔

دوسری جانب پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے پرامن، شفاف اور محفوظ انعقاد کے لیے فورس چوکس ہے اور لاہور سمیت صوبہ پنجاب میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

آئی جی پنجاب عثمان انور نے جمعرات کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ آر پی اوز، ڈی پی اوز، سی ٹی اوز، سینئر افسران تمام تر انتظامات کا خود جائزہ لیں گے۔

آئی جی پنجاب کے مطابق ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ اہلکار انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر تعینات ہیں جبکہ اضافی  نفری، ڈولفن فورس، کوئیک رسپانس سمیت دیگر ٹیمیں بھی تعینات ہیں۔

ان کے مطابق انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کے لیے 32 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں میں حساس پولنگ سٹیشنز کا ڈیٹا مرتب کر لیا ہے جن میں سے اسلام آباد کے تین حلقوں میں 78 پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ ان 78 حساس پولنگ سٹیشنز کو تین کیٹگریز میں شامل کیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 17 حساس پولنگ سٹیشنز کیٹگری اے میں شامل ہیں جبکہ 28 کیٹگری بی اور 33 حساس پولنگ سٹیشنز کیٹگری سی میں شامل ہیں۔

اسلام آباد کے تینوں حلقوں میں 158 پولنگ سٹیشنز مشترکہ طور پر قائم ہوں گے جبکہ سپیشل برانچ نے حساس پولنگ سٹیشنز کی رپورٹ سکیورٹی پلان کے لیے پولیس کو ارسال کر دی ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست