ہاتھوں سے محروم کشمیری کرکٹر، جن سے ٹندولکر بھی متاثر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے 34 سالہ کرکٹر عامر حسین لون دونوں ہاتھوں سے محروم ہیں، لیکن منفرد انداز میں کرکٹ کھیل کر خود کو منوا رہے ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے 34 سالہ کرکٹر عامر حسین لون دونوں ہاتھوں سے محروم ہیں، لیکن منفرد انداز میں کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے لوگ ان کے ہمت و حوصلے کی داد دیتے ہیں۔

ضلع اننت ناگ کے گاؤں واگہامہ سے تعلق رکھنے والے عامر آٹھ سال کے تھے، جب گھر کی آری مل میں ایک حادثے کہ وجہ سے اپنے دونوں بازو کھو بیٹھے۔

بچپن سے ہی عامر کو کرکٹ کا شوق تھا اور بازو کھونے کے بعد ان کے لیے یہ ایک چیلنج تھا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اب وہ دوسروں کے لیے ایک مثال ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے پیروں سے بولنگ کرنا، کندھے اور گردن کے درمیان بلا پکڑنا ایک جدوجہد ہے، لیکن عامر یہ سب کرتے ہیں۔ جب وہ دن میں پریکٹس کے لیے باہر آتے ہیں تو علاقے کے درجنوں لڑکے ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی بولنگ کا انتظار کرتا ہے۔

عامر کے ساتھ ہونے والے اس حادثے سے صرف انہیں ہی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ان کے پورے گھرانے کو سختیاں برداشت کرنی پڑیں اور انہوں نے آری مل اور دیگر جائیداد کو عامر کے علاج کی خاطر فروخت کردیا۔

آخر کار مسلسل محنت سے عامر ایک پیشہ ور کرکٹر بن گئے اور کئی ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں اپنا لوہا منوایا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں عامر نے بتایا: ’میں نے کرکٹ کا سفر ڈگری کالج سے شروع کیا اور پھر نئی دہلی میں کھیلنے کا موقع ملا، وہاں لوگوں نے میرے منفرد انداز کو دیکھ کر میری حوصلہ افزائی کی۔ میری بولنگ اور فیلڈنگ ہمیشہ اچھی رہی، اس لیے مجھے 2017 میں بین الاقوامی میچ کھیلنے کا موقع ملا۔‘

عامر جموں و کشمیر کی پیرا کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں، جو انڈین ریاستوں میں میچز کھیلتی ہے۔

حال ہی میں انڈیا کے سابق لیجنڈ کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے عامر سے ملاقات میں انہیں سراہا اور انہیں اپنے دستخط کے ساتھ ایک بلے کا تحفہ بھی دیا، جس پر لکھا تھا: ’عامر اصل ہیرو، لوگوں کو اسی طرح متاثر کرتے رہیں۔‘

عامر کھیلنے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے کے لوگوں کو متاثر بھی کر رہے ہیں اور اپنے دوستوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جنون اہم ہے اور جنون کے دم پر ہی ناممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ