ایران پر امریکی حملے کا حصہ بن سکتے ہیں: برطانیہ

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے ہم صورتحال کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں، اگر سعودی عرب یا امریکہ ہمیں مزید کردار ادا کرنے کو کہتے ہیں تو ہم اس بارے میں مدد کرنے کا سوچ سکتے ہیں

برطانیہ آرامکو حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتا ہے کیونکہ اس کے امکانات کافی زیادہ ہیں (اے ایف پی)

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نےایران پر سعودی تیل تنصیبات پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی مدد کے لیے فوجی کارروائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔

بورس جانسن کے مطابق اس بات کا ’قوی امکان ہے‘ کہ سعودی تیل کی پیداوار کو نصف کردینے اور جنگ کے خطرے کو بڑھا دینے والے ان حملوں کے پیچھے ایران تھا۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر ’ایرانی ساختہ کروز میزائل کی باقیات‘ دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا حوثی باغیوں کا دعوی ’غیر حقیقی‘ دکھائی دیتا ہے۔

 بورس جانسن نے کہا کہ ابھی تک انہوں نے اس پر ردعمل کا فیصلہ نہیں کیا لیکن انہوں نے اس امریکی تجویز کی جانب اشارہ کیا کہ ’سعودی عرب کے دفاع کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں‘۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس تمام صورتحال کو بہت قریب سے اور بہت غور سے دیکھ رہے ہیں، اگر سعودی عرب یا امریکہ ہمیں مزید کردار ادا کرنے کو کہتے ہیں تو ہم اس بارے میں مدد کرنے کا سوچ سکتے ہیں‘۔

ابھی تک برطانیہ نے 14 ستمبر کو ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دینے کے ٹرمپ کے الزامات کو دہرایا نہیں تھا۔

 صدر ٹرمپ نے اس بارے میں کہا تھا امریکہ کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے ’لاکڈ اینڈ لوڈڈ ‘ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیو یارک جاتے ہوئے دوران سفر بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ آرامکو حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتا ہے کیونکہ اس کے امکانات کافی زیادہ ہیں‘۔

’ہم محسوس کرتے ہیں کہ ان حملوں میں ڈرون اور کروز میزائلوں کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم ایک عالمی ردعمل کیسے منظم کرتے ہیں۔ آگے کی حکمت عملی کیا ہو گی، اس بارے میں ہم اپنے امریکی اور یورپی دوستوں سے مشاورت کریں گے تاکہ ردعمل کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ ردعمل کا مقصد ’خلیج کے علاقے میں کشیدگی میں کمی‘ لانا ہوگا گو کہ وہ ریاض کی مدد کے لیے فوجی کارروائی میں مدد کی پیشکش کر چکے ہیں۔

 اپنے ابتدائی جارحانہ ردعمل کے بعد صدر ٹرمپ سعودی دباؤ کے باوجود ایران کو سزا نہ دینے پر تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ اس بات کا واضح اعلان کر چکے ہیں کہ ایسی کسی بھی فوجی کارروائی میں سعودی عرب کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا اور سعودی عرب کی ایما پر کی جانے والی کارروائی کے لیے انہیں رقم ادا کرنی ہوگی۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ’سعودی عرب میں ہونے والے واقعے پر پوری دنیا کو ایک ردعمل پر متفق کرنا ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کیا کہ یہ کارروائی ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنا بھی ہو سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک متفقہ ردعمل دینے کا معاملہ ہے اور ہم ایسا ہی کریں گے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ حسن روحانی سے نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے دوران قید کاٹنے والی نازنین زاغری ریٹکلیف کے بارے میں بھی احتجاج کریں گے۔

’ایران کو نہ صرف نازنین کو رہا کرنا ہوگا بلکہ ان باقی لوگوں کو بھی رہا کرنا ہوگا جنہیں ہمارے خیال میں تہران میں غیر قانونی اور ناجائز طور پر قید میں رکھا جا رہا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ