چند خبریں سیاق و سباق سے ہٹ کر

اور سیاق و سباق سے ہٹ کر سب سے آخری خبر کہ اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں چند نئے کمروں کی صفائی جاری ہے۔ نئے مہمانوں کی آمد آمد ہے۔ ایک نیب بیچارا کہاں کہاں سر کھپائے؟

وزیر اعظم ہاوس کی چوتھی منزل کی کیا خبریں ہیں؟ شاید اس کی صفائی ستھرائی کے مسائل ہیں، یا شاید کمرے کم پڑ گئے ہیں۔(اے ایف پی)

وزیر اعظم ہاوس کی چوتھی منزل کی کیا خبریں ہیں؟ شاید اس کی صفائی ستھرائی کے مسائل ہیں، یا شاید کمرے کم پڑ گئے ہیں۔ لگتا تو یہی ہے کہ دفتری کاموں میں خاصی دقت کا سامنا ہے۔ متعلقہ ڈپارٹمنٹ کیا کر رہے ہیں؟ اس حالت زار پر تحقیقاتی رپورٹنگ ہونی چاہیے کیونکہ چند روز سے کچھ تجزیہ کاروں کی سوئی اس فلور کے کانٹے پہ جا کر اٹک جاتی ہے۔

نعیم الحق صاحب وزیر اعظم کے مشیر خاص ہیں۔ انہوں نے سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی کو سوشل میڈیا پر بیروزگار اور نشے میں دھت شخص کہہ کر پکارا۔ وہی بھٹی صاحب جو ایک عرصے تک تبدیلی کے شیدائی رہے۔ بھٹی صاحب نے جواباً کہا ہے کہ وزیر اعظم چیک کر لیا کریں ان کی ٹیم صبح کس حالت میں ہوتی ہے اور شام کس حالت میں۔ صورت حال تشویش ناک ہے اس حوالے سے وزارت انسداد منشیات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزارت کے تحت چلنے والے نشے کے علاج کے مراکز کیا کر رہے ہیں؟ اس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ نشے میں کہیں وہ تنہا رہ جائیں۔

صحافی سمیع ابراہیم نے خان صاحب کی پارٹی کو حکومت میں آنے سے قبل خاصا سپورٹ کیا۔ مگر خبروں کے مطابق وزیر اعظم کی ٹیم کے وزیر فواد چودھری اور سمیع ابراہیم ایک شادی میں آمنے سامنے ہوئے اور نوبت ہاتھا پائی تک آن پہنچی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، کسی کی تقریب میں تخریب پھیلانے پر پابندی ہونی چاہیے۔ حکومت کو فوری طور پر صدارتی حکم نامے کے ذریعے ایک عارضی ’وزارتِ ناراض دوستاں‘ بنا دینی چاہیے۔

تحقیقاتی صحافت میں بڑا نام عامر متین اور روف کلاسرہ کا ہے۔ یہ ن لیگ کی حکومت کے خاصے ناقد رہے ہیں۔ مجھ سمیت ایک جہان ان کا فین ہے مگر اب کپتان کے کچھ چاہنے والے ٹوئٹر پر ان حضرات کے خلاف مورچہ زن ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں صحافیوں نے جب پے در پے انصافی حکومت کی کرپشن پر سوال اٹھائے تو ان کا پروگرام بند کر دیا گیا اور ملازمت سے فارغ کر دیئے گئے۔ ان کے چینل نے پروگرام شروع کیا تھا تو اسے چلائے رکھنے کے لیے پیسے بچا کر، جوڑ کر رکھنے چاہییں تھے، کوئی کمیٹی ڈال لیتے۔ ملک میں موجود بچت بینک وغیرہ کہاں غائب ہیں؟ اور کیوں نہیں اس ملک میں ’صحافی کی بچت‘  کا کوئی پروگرام شروع کیا جاتا؟ تحقیق ہونی چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ دن پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کشمیر کو بھارتی ریاست کشمیر کہہ دیا۔ فردوس عاشق نے زلزلے کو تبدیلی کا سائیڈ افیکٹ کہہ دیا، کشمیر کمیٹی کے علی امین گنڈا پور نے کلبھوشن یادیو کی رہائی کی خبر دے دی، اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے برطانوی وزیر اعظم کو وزیر خارجہ لکھ دیا اور بعد میں اسے ٹائپو قرار دیا یہاں تک کہ وزیر اعظم عمران خان نے  آئی ایس آئی کو القاعدہ  کا ٹرینر کہہ دیا۔ یہ سب باتیں زبان کی پھسلن کے باعث باہر نکلیں، حکومت کیوں نہیں کوئی وزارت تردید و تصحیح اور وضاحت قائم کرتی جس کا وزیر اس حکومت کے ہر بیان کے بعد مطلب اور پوشیدہ مقصد بھی سمجھا دیا کرے۔ بالکل ویسے ہی جیسے الطاف بھائی کی تقریر کے بعد فیصل سبزواری اور فاروق ستار وضاحتیں دیتے پھرتے تھے کہ بھائی کے کہنے کا مطلب یہ نہیں ’وہ‘ تھا۔ اب تک اس حوالے سے قانون سازی کیوں نہ ہوئی، اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔

یو ٹرن کا پیالہ چھلک چھلک کر کپڑے گیلے کیے دے رہا ہے۔ بیچاری قوم  کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمارے لیڈر خان صاحب نے جو فیصلہ لیا تھا، جو بیان دیا تھا آیا کہ اس پہ یوٹرن لے لیا گیا ہے یا نہیں۔ جیسے کہ بچیاں حجاب پہنیں کہ نہیں؟ اسد عمر کو ارسطو سمجھیں کہ نہیں؟ ماورائے عدالت قتل کا خون حکمران کی گردن پہ سمجھیں کہ نہیں؟ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی دراندازی کو حرام مانیں کہ نہیں؟ پاکستان آنے والے کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہیں کہ نہیں؟ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بعد خودکشی کریں کہ نہیں؟ قوم کی اجتماعی یادداشت تیز کرنے کے لیے کیوں نہیں حکومت نے ہر صبح گیارہ بادام فی کس کے حساب سے تقسیم کرنے کا کوئی مکینزم بنایا؟ اور تب تک کوئی ’وزارت یاد دہانی یوٹرناں‘ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

خان صاحب نے کہا تھا کہ جسے شوق ہے دھرنا دے، کنٹینر ہم دیں گے۔ یہ بیوروکریسی والے بابو بھی بس شو کیس میں رکھے گڑیا گڈے بنے ہیں۔ یہ کیوں نہیں پی سی ون تیار کرتے کسی ’ادارہ بحالی دھرنا کلچر‘ کا؟ قوم بور ہوئے چلی جا رہی ہے۔ نہ کوئی کھیلنے والا ہے بازی نہ کوئی چال چلتا ہے۔

خبر ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی پارٹی مدارس کے طلبہ سے بھی دھرنا دینے کے لیے فنڈز جمع کر رہی ہے۔ مولانا صاحب کو بھی ویسے چندہ مانگنے سے پہلے حکومت سے دھرنا سہولیات کے لیے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ کیوں نہیں حکومت دھرنا دینے کے لیے مولانا فضل الرحمن کو اپنے وسیع تجربے سے فیض یاب کر رہی۔ اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ مولانا طاہر القادری اور خان صاحب کو دھرنے کے لیے جو کنٹینر، کھانے، بستر، خیمے، لوٹے، پانی، ڈنڈے، جھنڈے اور  توڑ پھوڑ کے لیے ہتھوڑے وغیرہ دیئے گئے تھے وہ اب کیوں نہیں مل رہے؟ حکومت کو فوری اس جانب  توجہ دینی چاہیے۔

اور سیاق و سباق سے ہٹ کر سب سے آخری خبر کہ اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں چند نئے کمروں کی صفائی جاری ہے۔ نئے مہمانوں کی آمد آمد ہے۔ ایک نیب بیچارا کہاں کہاں منہ سر کھپائے؟ سال گزر گیا مگر اس حکومت کو رتی بھر خیال نہیں کہ اک نیا ’ادارہ برائے سر تا پا احتساب‘ بنا دیا جائے۔ نیب کے ملازمین کا مورال بلند کرنے کے لیے فوری، ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

خبریں اور بھی کئی ہیں، سب کی سب سیاق و سباق کے عین مطابق ہیں۔ ایسی خبریں تحقیقاتی صحافت  کے لیے زہر قاتل ہیں مگر یہ بہت اچھی خبریں ہوتی ہیں کیونکہ یہ ہمارے سوچنے سے پہلے ہی تمام زاویوں کا بھرپور جواب دے دیتی ہیں۔ ان خبروں کا پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر ساری ڈاکٹری ایک منٹ میں بھول سکتا ہے، گرچہ ان خبروں میں کون، کب، کہاں، کیا، کیسے کی گنجائش تو نکلتی ہے مگر یہ سوال پوچھتا کوئی نہیں۔ کیا کریں جان بہت پیاری ہے اور تنخواہ تھوڑی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ