رگبی ورلڈ کپ میں تمام ٹیمیں دباؤ میں

پانچ ٹیموں پر مشتمل پول نظام مقابلوں کے درمیان جہاں وقفے چھوٹے ہونے کی وجہ بن رہا ہے تو وہیں ٹیموں کو دس دس روز کا بریک بھی دے رہا ہے۔

جاپان میں  جاری رگبی ورلڈ کپ میں اٹلی اور کینیڈا کے درمیان میچ کے دوران دو شیدائی۔ (اے ایف پی)

رگبی ورلڈ کپ 2019 جاپان میں زور و شور سے جاری ہے جس میں ڈرامائی ابتدائی مقابلوں کے بعد ابھی گروپ سٹیج کے مقابلے جاری ہیں۔

نیوزی لینڈ، آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ اس مرتبہ کی فیورٹ ٹیمیں قرار دی جا رہی ہیں۔ موجودہ چیمپئن آل بلیک امید کی جا رہی ہے کہ لگاتار تیسری مرتبہ عالمی کپ جیت سکتے ہیں۔

تیز تبدیلیاں ناصرف مضبوط ٹیموں کو مشکل میں ڈال رہی ہیں بلکہ چھوٹی ٹیموں کو بھی جو اس سخت کھیل کی عادی نہیں دقت پیدا کر رہی ہیں۔

پانچ ٹیموں پر مشتمل پول نظام مقابلوں کے درمیان جہاں وقفے چھوٹے ہونے کی وجہ بن رہا ہے تو وہیں ٹیموں کو دس دس روز کا بریک بھی دے رہا ہے۔

پچھلے عالمی کپ کے مقابلے میں اس مرتبہ تمام ٹیمیں ایک ہی شیڈول کے تحت کھیل رہی ہیں لیکن دو روز میں دو میچ کھیلنے کا دباؤ کم مضبوط ٹیموں کو زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔

روس کی ٹیم نے ٹونامنٹ کا آغاز میزبان جاپان کے خلاف بہادری لیکن تھکا دینے والے مقابلے سے کیا جس میں میچ کے دوسرے حصے میں وہ بظاہر تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ لیکن چار دن بعد انہیں جسمانی طور پر طاقتور سمون ٹیم کا مقابلہ کرنا پڑا، جن کا یہ پہلا میچ تھا۔

کم توانائی والے اس میچ کے بعد جس میں روس نے 34-4 سے شکست کھائی روسی کوچ لین جونز نے شیڈولنگ پر نگلی اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کھلاڑیوں کو تیار کرنے کا مناسب وقت نہیں ملا۔ ’جلد میچوں نے ہمیں تکنیکی اور ذہنی طور پر دکھایا ہے۔ ہمیں تیاری کا مزید وقت چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویلش جونز کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جعمے کو ورلّ کپ کا فائنل کھیلا اور ہم اپنے آپ کو دوبارہ اکٹھا کر رہے تھے ۔ اس مقابلے میں موٹیویشن، فوکس اور توجہ سب سے بڑے چیلنج تھے۔‘

جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلنے کے بعد نمبیا کے خلاف میچ کے لیے ٹیم میں 13 تبدیلیاں کیں جبکہ انگلینڈ نے امریکہ کے خلاف اپنے دوسرے میچ میں 10 تبدیلیاں کیں۔

پیسفیک کے ملک فیجی نے درجن بھر کھلاڑی تبدیل کئے یوروگوئے کے خلاف میچ کے لیے، جنہوں نے زبردست کھیلتے ہوئے ٹورنامنٹ کا پہلا صدمہ ریکارڈ کروایا۔

اس سے چار روز قبل خود فیجی آسٹریلیا کے خلاف اپ سیٹ کرنے والی تھی۔ کوچ جان میکی نے بھی اعتراف کیا کہ جلد میچوں نے مشکلات پیدا کیں۔ ’ہمارے لیے یہ عذر نہیں بلکہ چیلنج ہے۔‘

تربیت کی کمی

پیشہ ور رگبی کلب کے کھلاڑی میچوں کے دوران لمبے آرام کے عادی ہیں جنہیں اب اپنے آپ کو جلد تیار کرنا پڑا رہا ہے۔ فرانسیسی فارورڈ آرتھر اٹوریا نے کہا ’چار دنوں میں دو میچ، کسی کو اس کا تجربہ نہیں ہے ماسوائے انڈر 20 ورلڈ کپ میں۔‘

آئرلینڈ کے فلائے ہاف جیک کارٹی نے اسے ایک ’منفرد‘ صورت حال سے تعبیر کیا کیونکہ ان کی ٹیم چھ سے سات دنوں کے وقفے کی عادی ہے۔ ان کے کوچ جو شمیڈ نے اس کی وجہ سے ٹیم میں زخمی کھلاڑیوں کی تعداد پر ’عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے بعد دس دن کا وقفہ ملا جس میں وہ ہاٹ سپرنگ ریزارٹ چلے گئے۔ فرانس کو بھی دس دن کا وقفہ ملا ہے۔

کھلاڑیوں کے لیے پورے 80 منٹ تک چار دنوں میں دو مرتبہ جاندار رہنا ’ناممکن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی ٹیموں کو اسی قسم کے چیلنج کا 2015 کے ورلڈ کپ میں بھی سامنا تھا لیکن وہ اس سے 31 رکنی سکواڈ کے ساتھ نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گروپس

پول اے: آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ، جاپان، سموا، روس

پول بی: نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، اٹلی، نمبیا، کینیڈا

پول سی: انگلینڈ، فرانس، ارجینٹینا، امریکہ، ٹونگا

پول ڈی: آسٹریلیا، ویلز، جارجیہ، فیجی، یوروگوائے

 

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل