اہم شخصیات کی موت کی جھوٹی خبریں بار بار کیوں سامنے آتی ہیں؟

ان فوتگیوں کی غلط اطلاعات کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کہاں سے شروع ہوتی ہیں، لیکن بہت جلد یہ خبریں درست لگنے لگتی ہیں۔

(اے ایف پی)

 عابد علی فوت ہو گئے۔ خبر آئی اور فوراً تردید بھی۔

پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر انتقال کر گئے ہیں۔ پھر ان کی ویڈیو میں ذاتی طور پر خبر کی تردید آئی۔

کلنٹ ایسٹ وڈ کا انتقال نہیں ہوا ہے۔ وہ 2017 میں بھی فوت نہیں ہوئے تھے۔

لیکن اس چیز نے بعض لوگوں کو اس بات سے نہیں روکا کہ وہ سب کو ان افراد کے فوت ہونے کی جھوٹی خبریں مہیا کریں اور لوگ اس کا یقین بھی کرلیتے ہیں۔

کلنٹ ایسٹ وڈ کے انتقال کی جھوٹی خبر فیس بک اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر حالیہ دنوں میں شیئر ہوئی، جس کی بظاہر وجہ ایک اصلی دکھائی دینے والی جھوٹی خبر تھی جس کے مطابق وہ فوت ہوچکے ہیں۔

ایسٹ وڈ تازہ ترین معروف شخصیت ہیں جن کو اپنی ’موت کی افواہ‘ سے پالا پڑا۔ انٹرنیٹ پر ان جیسی شخصیات کے انتقال کی جعلی کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس شخص کو اس کا پتہ چل جائے، اسے فوت قرار دے کر اس کی تعزیت بھی کردی جاتی ہے حالانکہ وہ زندہ ہوتا ہے۔

1۔ لوگوں نے کیوں سمجھا کہ ایسٹ وڈ انتقال کرگئے ہیں؟

مختصراً اس لیے کہ لوگ انہیں یہ بتا رہے تھے۔ انٹرنیٹ پر کئی خبریں گردش میں تھیں کہ وہ فوت ہوچکے ہیں، پھر اس خبر پر دوسروں نے یقین کرکے یادگاری پیغامات جاری کر دیے۔

ان فوتگیوں کی غلط اطلاعات کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ لیکن بہت جلد یہ خبریں درست لگنے لگتی ہیں، جو بعض اوقات اصل نیوز سائٹس کے خبروں کے ڈیزائن کو استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ قابل اعتبار دکھائی دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ خبریں جیسے ہی سامنے آتی ہیں لوگ اس کی صحت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ ٹوئٹر پر کئی پوسٹس میں دریافت کیا جارہا تھا کہ آیا یہ درست خبر ہے، لیکن اس سے یہ مزید تیزی سے پھیل جاتی ہے۔

2۔ کیا یہ پہلے سے نہیں ہوتا آ رہا؟

ہاں – بڑی تعداد میں معروف شخصیات کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے بشمول ایسٹ وڈ جنہیں بظاہر 2017 میں مار دیا گیا تھا۔

ایسی افواہیں اُس وقت سے وجود رکھتی ہیں جب سے انٹرنٹ دریافت ہوا تھا، شاید اس سے بھی پہلے۔ یہ آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں لیکن بعض لوگ ان کا مختلف وجوہات کی بنا پر شکار ہو جاتے ہیں۔

3۔ موت کی اتنی زیادہ غلط افواہیں کیوں؟

کیونکہ لوگ انہیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ واضح وجوہات کے مطابق اگرعابد علی یا کلنٹ ایسٹ وڈ فوت ہوتے ہیں تو یہ بڑی خبر ہوگی۔ درحقیقت اگر ایسا نہیں بھی ہے تو یہ بعض لوگوں کو ایسا کرنے سے نہیں روکتا۔

جعلی خبر بنانا بھی اچھا ہے، کئی اور دعوؤں کی طرح یہ ممکن نہیں کہ اس کی فوری طور پر تردید کی جاسکتی ماسوائے اس کے کہ آپ اُن کے ساتھ اس وقت موجود ہوں۔ جب ریمبو کے کردار سے شہرت حاصل کرنے والے سیلویسٹر سٹیلون کی موت کی افواہ چلی تو اس وقت امریکہ میں رات تھی – اس کا مطلب تھا کہ وہ اور ان کے نمائندگان سو رہے تھے جس سے اس خبر کی تصدیق یا تردید مشکل تھی۔

یہ اُس رات کی اگلی شام ممکن ہوسکا جب ان کے بھائی آن لائن ہوئے اور اس کی تصدیق کی کہ وہ زندہ ہیں۔

یقیناً جعلی کہانیوں کی دوسری اقسام بھی ہیں جن کا انحصار ان کے لکھنے والوں پر ہوتا ہے۔ لیکن موت کی خبر کا بقا سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

4۔ لوگ اس سے کیا حاصل کرتے ہیں؟

 انٹرنیٹ پر بہت سی دیگر چیزوں کی طرح، یہ لوگوں کو مشغول کرنے کے بارے میں ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ یہ بالکل غلط چیز کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

ایک بار جب لوگ ویب سائٹ پر ہیں اور خبر کو پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو صفحات وہ کرسکتے ہیں، جو وہ ان کے ساتھ کرنا چاہیں۔ مثال کے طور پر سلویسٹر سیلون وغیرہ کے بارے میں افواہ ایک ایسی ویب سائٹ سے ابھری جوہاں آنے والوں سے ایک سروے کروا رہی تھی۔ اس سروے کے نتائج کو بعد میں فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔

کئی لوگ ہیں جو یا تو جان بوجھ کر یا غلطی سے کسی بھی واضح حوصلہ افزائی کے بغیر یہ خبر شیئر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس موقع پر موت کی افواہ فوری طور پر انسٹاگرام پر پھیلی۔ کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ اس پر حقیقی ہونے کا یقین رکھتے ہیں، جبکہ کئی دوسرے لوگوں کو پریشان کرنے اور ان سے جھوٹ بولنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستان میں میڈیا کی دوڑ بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ کہیں دوسرے چینل بازی نہ لیں جائیں۔

(یہ مضمون پہلے دی انڈپینڈنٹ میں سلویسٹر سٹالون کی موت کے بارے میں جھوٹی کہانیوں کے جواب میں شائع کیا گیا تھا۔ تازہ ترین افواہوں کے جواب میں اسے ترمیم کے ساتھ دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔)

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل