برطانیہ: خواتین کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا انکشاف

ایک سرکاری تحقیقاتی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انتہائی دائیں بازو نظریات رکھنے والی اہم شخصیات نے 2016 اور 2017 میں بڑے جلسے اور جلوسوں کے ذریعے ’اپنے اسلام مخالف اور اقلیت مخالف ایجنڈے کو فروغ دیا۔‘

29 مارچ  2017  کی اس تصویر میں برطانوی مسلمان  ایک ہفتہ قبل شہر میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں  مرکزی لندن  کے علاقے  ویسٹ منسٹر برج پر  ایک تقریب  میں شریک ہیں۔ (اے ایف پی)

برطانیہ میں ایک تازہ ترین سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ انتہائی دائیں بازو نظریات رکھنے والے کارکن خواتین اور بچوں کی حفاظت کی آڑ میں مسلمانوں اور نسلی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے بنائے گئی تحقیقاتی ایجنسی ’کمیشن فار کاؤنٹرنگ ایکسٹریم ازم‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو نظریات کے حامل کچھ گروہ ’جان بوجھ کر سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں میں امتیازی اور نفرت پر مبنی جذبات پیدا کر سکیں۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے حکومت کی اس ایجنسی کی اہم رپورٹ کا مشاہدہ کیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان حربوں سے ان سفید فام برادریوں کی حمایت بھی حاصل کی جا رہی ہے جو عموماً انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی حمایت نہیں کرتے تھے جس کے باعث برادریوں کے درمیان معاشرتی خلیج بڑھ رہی ہے۔

اس تحقیقاتی کمیشن نے برطانیہ بھر میں انتہا پسندی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جس میں مظاہروں کا وہ سلسلہ بھی شامل ہے جو اُس وقت شروع ہوا جب ایک خاتون کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کو سنڈرلینڈ میں مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو نظریات رکھنے والی اہم شخصیات جن میں ٹومی رابن سن، جیڈا فرانسین اور یوکِپ قیادت کی سابق امیدوار اینی میری واٹرز شامل ہیں، نے 2016 اور 2017 میں بڑے بڑے جلسے اور جلوسوں کے ذریعے ’اپنے اسلام مخالف اور اقلیت مخالف ایجنڈے کو فروغ دیا۔‘

رپورٹ کے مطابق: ’مظاہرین یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ان کا مقصد مقامی خواتین اور بچوں کی حفاظت ہے لیکن در حقیقت وہ اپنی بیان بازی سے نسلی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے تھے، اس حقیقت کے باوجود کہ 2018 میں نارتھمبریا پولیس فورس کی حدود میں ہونے والے جنسی جرائم میں ملوث 85 فیصد افراد سفید فام تھے۔‘

رابن سن نے ایک آن لائن مہم کا آغاز کیا تھا جس پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کیے۔ انہوں نے آن لائن چندہ اکھٹا کرکے بڑے اشتہاری بورڈز کے لیے رقم بھی مہیا کی اور گینگ ریپ کی شکایت کنندہ کی قانونی لڑائی کے لیے مالی مدد بھی۔ 

اس مہم کے دوران رابن سن کے حامیوں کو کئی ای میلز بھیجی گئی تھیں جن میں ان کو جارحانہ ’انصاف‘ کے لیے مظاہرے کرنے پر اکسایا گیا تھا۔ جس کے بعد ایک ہزار سے زیادہ کا مجمع اکھٹا ہو گیا تھا۔ اس میں وہ ای میل بھی شامل ہے جس کا سکرین گریب فنسبری پارک کے دہشت گرد ڈیرن اوسبورن نے بھی استعمال کی۔

مقامی کونسلرز نے بتایا کہ کئی مہینوں میں 13 مظاہروں کے دوران ’اقلیتوں کے خلاف جذبات کو بڑھاوا دیا گیا‘ اور اس دوران کئی نفرت انگیز جرائم پیش آئے جس میں اس علاقے میں ایشیائی مردوں پر حملے، پرتشدد واقعات اور نسل پرستی پر مبنی وال چاکنگ بھی شامل ہے۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق: ’مظاہروں میں شامل بہت سے افراد نفرت سے متاثر نہیں ہوئے۔ انہیں اپنی حفاظت اور معاشرے میں رہنے والوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات تھے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا: ’دائیں بازو کے گروہ نے ان مقامی افراد کی شکایات کا فائدہ اٹھایا۔ اس تحریک کے ممبران کے کالعدم گروپ ’نیشنل ایکشن‘ سے بھی تعلقات تھے۔ ان شخصیات اور گروہوں کا مشترکہ ایجنڈا اقلیتوں، تارکین وطن اور خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ان کی دشمنی پر مبنی تھا۔‘

اس طریقہ کار کو گرومنگ گینگز کے واقعات میں بھی دیکھا گیا ہے جنہیں یہ گروہ انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد کی بھرتی کے لیے ایک بڑے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ تاثر پیدا کرکے کہ جیسے جنسی بدسلوکی کے واقعات میں صرف مسلمان ہی ملوث ہوتے ہیں۔

سنڈرلینڈ احتجاج کے ایک منتظم اور ’انگلش ڈیفنس لیگ‘ کے سابق رکن بلی چارلٹن کو اپنی تقاریر کے ذریعے نسلی منافرت بھڑکانے کے الزام میں 21 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

55 سالہ بلی نے بارہا یہ اصرار کیا کہ تمام تارکین وطن ریپسٹ ہیں۔

انہوں نے چیخ چیخ کر کہا: ’یہ لوگ ہمارے ملک میں آ رہے ہیں اور ہمارے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سب کے لیے کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔۔۔ انہیں ہمارے بچوں سے دور رکھو، انہیں ہماری گلیوں سے دور رکھو، انہیں واپس بھیجو۔ ہمارے جزیرے سے دور۔‘

ٹومی رابن سن نے بھی ریلیوں میں کچھ ایسی ہی تقاریر کیں جہاں مظاہرین نے اسلام مخالف نعرے لگائے اور مظاہروں کو کینیڈا کی ایک ویب سائٹ کے ذریعے نشر کیا۔

سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں کی مخالفت کرنے والے مقامی افراد کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیں دھمکیاں دی گئیں، جن میں مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کی قیادت کرنے والے شخص پر ’پیڈو‘ (بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والا) کا لیبل لگایا گیا اور ان کی ذاتی معلومات کو آن لائن شائع کرنے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

پولیس نے سنڈرلینڈ میں پیش آنے والے مبینہ گینگ ریپ کے واقعے کی تحقیقات کی تاہم ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور مبینہ متاثرہ خاتون نے اکتوبر 2017 میں اپنے نام سے جاری اس مہم کی حمایت بھی ختم کر دی۔

بعد میں دو افراد کو کسی اور جنسی حملے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ اس واقعے میں انہوں نے اپنے سیاسی پناہ گزین ہاسٹل میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

کمیشن نے کہا ہے کہ سنڈرلینڈ میں چھوٹے پیمانے پر احتجاج اب بھی جاری ہے تاہم ان مظاہروں میں بریگزٹ کے حق میں اور رابن سن کی توہین عدالت کے الزام میں قید کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ سنڈرلینڈ کونسل اور پولیس نے انتہائی دائیں بازو کے حامل گروہوں کا ان مظاہروں پر اثر کم کر دیا ہے۔

حکام نے غلط معلومات کو روکنے اور سیاسی پناہ گزینوں کے بارے میں مقامی افراد میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے عوام سے رابطے کیے جبکہ احتجاج کو تشدد سے پاک بنانے کے لیے مظاہرین سے معاہدے کیے گئے۔

کمیشن کے مطابق سنڈر لینڈ کے حکام کو مظاہروں کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی تعاون حاصل نہیں ہوا جبکہ دنیا بھر کے دائیں بازو کے انتہا پسند ان مظاہروں کی حمایت کر رہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے برعکس مجموعی طور پر انتہا پسندی کے حوالے سے حکومت کا ردعمل ’سست اور غیر واضح‘ تھا۔

کمیشن کی ملک گیر تحقیقات 2017 کے دہشت گرد حملوں کے بعد شروع کی گئیں جس کے نتائج کے مطابق ’حکام تناؤ کے باعث مقامی افراد کا دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں استحصال روکنے میں ناکام رہے اور انتہا پسندوں کے مستقل رویے کو روکنے میں بھی ناکام رہے جو اپنے خطرناک پروپیگنڈے کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

کمیشن کی سربراہی کرنے والی سارہ خان نے کہا کہ مجرمانہ پراسیکیوشن کی کمی کے باعث ’نفرت انگیز انتہا پسندی‘ لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا ’اخلاقی جواز فراہم کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’دہشت گرد حملوں سے متاثر ہونے سے لے کر نفرت انگیز انتہا پسند گروہوں کی مستقل عداوت تک، ہم اس عالمی چیلنج سے نبرآزما ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اگر ہم اپنے ملک میں شدت پسندی کے خطرے کو کم کرنے کی کوشش میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں نفرت انگیز انتہا پسندی کو چیلنج کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ہماری رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس انتہا پسندانہ نظریے نے ہماری زندگیوں، ہماری برادریوں اور وسیع تر معاشرے پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔‘

سارہ خان نے نفرت انگیز انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے حکومت سے اپنی ’ناکافی‘ حکمت عملی پر فوری نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس سے عوام اور حکام کو اسے چیلنج کرنے کا اعتماد ملے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا