رجسٹریشن بک کی بجائے سمارٹ کارڈ، محکمہ ایکسائز کے لیے چیلنج

ڈائریکٹرایکسائز لاہور عمران اسلم نے سمارٹ کارڈز اور نمبر پلیٹس کے اجرا میں تاخیر کا اقرار کیا اور بتایا کہ چار ماہ سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نئی رجسٹریشنز اور نمبر پلیٹس جاری نہیں ہوئیں۔

سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹس کے اجرا میں تاخیر پر متعلقہ کنٹریکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب کے تمام شہروں میں کاروں اور موٹر سائیکلوں سمیت ہر قسم کی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

گذشتہ چھ ماہ سے رجسٹریشن بک کی بجائے سمارٹ کارڈ کا حصول کسی امتحان سے کم نہیں۔ صوبے کے 36 اضلاع میں شہریوں کو نئی اور پرانی گاڑیوں کے ملکیتی ثبوت نہ ہونے پر نا صرف پولیس ناکوں سے گزرنا دشوار ہے بلکہ خرید و فروخت میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس معاملے پر نیب کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے باوجود ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹس کے اجرا میں تاخیر کیوں؟

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو کور کرنے والے صحافی طالب فریدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا نیب لاہور کی طرف سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیر انتظام سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹ کے اجرا میں مبینہ تاخیر کی شکایات پر نوٹس لیا گیا تھا اور متعلقہ حکام کو کچھ عرصہ پہلے طلب کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی جی ایکسائز پنجاب زاہد حسین اور چیف پروگرامر فیصل شفیق بریفنگ کے لیے پیش ہوئے۔ نیب انویسٹیگیشن ٹیم کو بریفنگ میں سمارٹ کارڈ منصوبے کی ٹینڈرنگ، ایڈورٹائزنگ اور بڈنگ پراسیس کے حوالے سے وضاحت پیش کی گئی۔

ڈی جی ایکسائز پنجاب نے سمارٹ کارڈ کے متعارف کردہ سکیورٹی فیچرز اور نمبر پلیٹوں کے درپیش مسائل کی تفصیلات بتائیں۔ طالب فریدی کے مطابق ڈی جی ایکسائز زاہد حسین نے نیب کوبتایا سمارٹ کارڈ چین سے جب کہ اس کی لیمینیشن امریکا سے کروا رہے ہیں۔

کنٹریکٹ میں پانچ لاکھ کارڈ سرپلس موجود ہونے کی شرط منظور کرائی گئی تھی۔ سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹس کے اجرا میں تاخیر پر متعلقہ کنٹریکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ فی الوقت 12 لاکھ 50 ہزار نمبر پلیٹوں کا بیک لاگ ہے جو روز بروز بڑھ رہا ہے۔

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں چھ لاکھ 46 ہزار 822 اسمارٹ کارڈز کا اجرا زیر التوا ہے۔ نیب نے ایکسائزلاہور کی جانب سے سمارٹ کارڈ کے ٹینڈر پراسیسنگ کی مکمل تفصیلات طلب کی گئیں۔

گذشتہ پانچ برس کے دوران ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عوام کو فراہم کردہ نمبر پلیٹوں کا مکمل ریکارڈ بھی نیب لاہور میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ نیب لاہور کا کہنا تھا کہ گذشتہ آٹھ ماہ سے نمبر پلیٹوں کا اجرا طوالت کا شکار رہا، تاہم ادارے نے خاطر خواہ سدباب نہیں کیا۔ نیب نے بلا تعطل سمارٹ کارڈز و نمبر پلیٹوں کے اجرا کا کام جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

صحافی طالب فریدی نے بتایا اس کے علاوہ سابق دور حکومت میں سمارٹ کارڈ اور کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس فراہم کرنے کا ٹھیکہ لینے والی فرم کا کنٹریکٹ موجودہ حکومت نے منسوخ کر کے نئی کمپنی کو دیا جب کہ پہلے والی کمپنی نے عدالت سے رجوع کیا جہاں محکمہ ایکسائز نے اپنا موقف پیش کیا اور اب نئی کمپنی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لہذا امید ہے اس ماہ سمارٹ کارڈز اور نمبر پلیٹس کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا موقف

ڈائریکٹرایکسائز لاہور عمران اسلم نے تاخیر میں بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ چار، چار ماہ سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نئی رجسٹریشنز اور اپنے نام ٹرانسفر کرانے والوں کو کارڈز اور نمبر پلیٹس جاری نہیں ہوئیں۔  

ان سے پوچھا گیا کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے اور کب تک یہ مسئلہ حل ہوگا؟ تو انہوں نے بتایا اس بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ سمارٹ کارڈز اور کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کی تیاری آؤٹ سورس کی گئی تھی۔ پرائیویٹ ٹھیکے دار جب تیار کر کے دے گا تو آگے شہریوں کو فراہم کر سکیں گے، لیکن ان کی جانب سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، ہر بار ایک ہفتے کا ٹائم دے دیا جاتا ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ ٹھیکے دار کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ تو انہوں نے کہا یہ صوبائی حکام کا معاملہ ہے کہ وہ ٹھیکے دار کو اتنی چھوٹ کیوں دے رہے ہیں۔ ’ہم تو مجبور ہیں کہ براہ راست اس معاملے کو حل نہیں کرسکتے۔‘

طالب فریدی کا کہنا ہے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا نظام بھی سیاست کی نظر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ لاکھوں شہری سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹ کی فیسیں ادا کرنے کے باوجود کئی ماہ سے دفاتر کے دھکے کھا رہے ہیں،  جہاں ان کی سننے والا کوئی نہیں جب کہ نیب اور عدالتی احکامات کے باوجود شہریوں کی مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان