پاکستان کی وزارت خارجہ نے جعمرات کو وضاحت کی ہے کہ امریکی شہر ویلنگٹن سے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار 25 سالہ لقمان خان پاکستانی شہری نہیں ہیں۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ لقمان خان پناہ گزین کی حیثیت سے محض چند سال پاکستان میں رہے ہیں لیکن پاکستانی شہری نہیں ہیں۔
امریکی ریاست ڈیلاویئر کی پولیس نے ایک طالب علم لقمان خان کو گذشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں اسلحے، گولہ بارود اور بلٹ پروف جیکٹس کے ساتھ گرفتار کیا، جن سے مبینہ طور پر ایک یونیورسٹی کیمپس میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کر کے ’سب کو مارنے‘ اور ’شہادت‘ حاصل کرنے کے منصوبوں کی وضاحت کرنے والا منشور بھی برآمد ہوا۔
امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ گرفتار کیے گئے نوجوان کی شناخت 25 سالہ لقمان خان کے طور ہوئی ہے، جو یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے طالب علم ہیں۔
امریکی میڈیا نے لقمان خان کو ان کی پاکستان میں پیدائش کے باعث پاکستانی شہری قرار دیا تاہم پاکستانی وزارت خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ لقمان خان کے پاس پاکستانی شہریت نہیں ہے۔
دوسری طرف امریکی حکام نے دو ہفتوں کے دوران مبینہ حملوں کی منصوبہ بندی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں لقمان خان سمیت چار افغان شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔
تازہ ترین گرفتاری بدھ کو ریاست ورجینیا میں جان شاہ صفی نامی افغان شہری کی ہوئی، جو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق عراق اور داعش-خراسان شاخ کے حامی ہیں اور انہوں نے اپنے والد کو ہتھیار بھی فراہم کیے تھے، جو افغانستان میں ایک مسلح گروپ کے کمانڈر ہیں۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے بدھ کو بتایا کہ اس شخص کو امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی کے ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشن ڈویژن کے ایجنٹوں نے ریاست ورجینیا کے شہر وائنسبورو سے تین دسمبر 2025 کو گرفتار کیا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ جان شاہ صافی ایک غیر قانونی تارکین وطن ’دہشت گرد‘ ہیں جو بائیڈن انتظامیہ کے ’آپریشن ویلکم فرینڈز‘ پروگرام کے تحت 8 ستمبر 2021 کو فلاڈیلفیا، پنسلوانیا میں امریکہ پہنچے تھے۔
انہوں نے عارضی تحفظ کے لیے درخواست دی تھی لیکن ان کی درخواست اس وقت منسوخ کر دی گئی جب سیکرٹری کرسٹی نوم نے افغانوں کے لیے عارضی تحفظ کا پروگرام منسوخ کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا: ’آج، ہمارے بہادر افسران نے ایک دہشت گرد جان شاہ صفی کو گرفتار کر لیا، جو نام نہاد داعش۔خراسان کو مادی مدد فراہم کرتا تھا۔ اس دہشت گرد کو ہمارے ملک کے دارالحکومت سے صرف میلوں کے فاصلے پر پکڑا گیا تھا، جہاں ہمارے بہادر نیشنل گارڈز مین سارہ بیکسٹروم اور اینڈریو وولف کو کچھ دن پہلے ایک اور غیر تجربہ شدہ افغان دہشت گرد نے گولی مار دی تھی جسے ہمارے ملک میں لایا گیا تھا۔‘
سکریٹری کرسٹی نوم کے مطابق: ’بائیڈن انتظامیہ نے امریکی تاریخ میں قومی سلامتی کے بدترین بحرانوں میں سے ایک پیدا کیا۔ بائیڈن تقریباً 190,000 غیر دستاویز شدہ افغانوں کو ہمارے ملک میں لائے - امریکی سرزمین میں داخل ہوتے ہی ان کی شناخت اور ارادے ظاہر ہو گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس غیر قانونی قومی سلامتی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے 20 جنوری سے روزانہ کام کر رہے ہیں۔‘
یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں امریکہ میں گرفتار ہونے والا چوتھا افغان شہری ہے۔
26 نومبر 2025 کو رحمان اللہ لکوال نامی افغان شہری نے وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر دو نیشنل گارڈز پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار جان سے گئیں جبکہ دوسرا اہلکار شدید زخمی ہوا۔
اس سے قبل 25 نومبر کو، یعنی حملے سے ایک دن قبل افغان شہری محمد داؤد الکوزئی کو مقامی حکام اور ایف بی آئی کی مشترکہ دہشت گردی ٹاسک فورس نے فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں بم بنانے کی دھمکیوں کے الزام میں گرفتار کیا۔
محمد داؤد الکوزئی نے ٹک ٹاک پر اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ فورٹ ورتھ کے علاقے میں کسی مقام کو نشانہ بنانے کے لیے بم تیار کر رہے ہیں۔ ان پر دہشت گردانہ دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا گیا۔
لقمان خان کی گرفتاری
امریکی ریاست ڈیلاویئر کی پولیس نے ایک طالب علم کو گذشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں اسلحے، گولہ بارود اور بلٹ پروف جیکٹس کے ساتھ گرفتار کیا، جن سے مبینہ طور پر ایک یونیورسٹی کیمپس میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کر کے ’سب کو مارنے‘ اور ’شہادت‘ حاصل کرنے کے منصوبوں کی وضاحت کرنے والا منشور بھی برآمد ہوا۔
امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ گرفتار کیے گئے نوجوان کی شناخت 25 سالہ لقمان خان کے طور ہوئی ہے، جو یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے طالب علم ہیں۔
نیو کیسل کاؤنٹی پولیس نے دی نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا لقمان خان ’جوانی‘ سے ہی امریکہ میں مقیم ہے اور ایک امریکی شہری ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ لقمان خان پاکستانی شیہری نہیں ہیں۔
اخبار نے لکھا کہ انہیں 24 نومبر کو آدھی رات سے پہلے اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ گھنٹوں ایک پارک میں کھڑے اپنے منی ٹرک میں کئی گھنٹوں تک موجود رہے۔
استغاثہ کے مطابق لقمان کی بعض مبینہ مشکوک حرکتوں کی وجہ سے ان کی گاڑی کی تلاشی لینے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں سے انہیں ’وہ کچھ ملا جو خطرناک تھا۔‘
استغاثہ نے بتایا کہ لقمان خان کے ٹرک میں سے ایک گلوک پستول، گولیوں کے 27 میگزین اور بلٹ پروف جیکٹس ملیں۔
’پستول کو ایک کِٹ میں لگایا گیا تھا جس سے وہ ایک نیم خودکار رائفل میں تبدیل ہو گیا تھا۔‘
استغاثہ نے مزید بتایا کہ پولیس کو لقمان کے ٹرک میں سے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس سے بھری ایک نوٹ بک بھی ملی، جس میں اس کے سابقہ سکول کیمپس پولیس کو گولی مارنے کے لیے ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی سازش کی تفصیل دی گئی تھی، جس میں اس کے ہیڈ کوارٹر کا تیار نقشہ اور اس پر داخلی اور خارجی راستوں کے ساتھ نشانات لگائے گئے تھے۔
ٹی وی چینل اے بی سی سکس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ لقمان خان سے ملنے والی نوٹ بک میں ’سب کو مار ڈالو‘ اور ’شہادت‘ جیسے جملوں کے علاوہ پلان کی گئی شوٹنگ کے بعد گرفتاری سے بچنے کے طریقے کی تفصیل بھی درج تھی۔
پولیس نے کہا کہ یہ سب ’حملے کے پہلے سے طے شدہ منصوبے‘ اور واضح ’جنگی تکنیک‘ تھی۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق مبینہ حملے کے پیچھے مکمل محرکات ابھی تک واضح نہیں ہیں، لیکن لقمان خان نے مبینہ طور پر گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا کہ شہید بننا ’آپ کے لیے سب سے بڑا کام ہے۔‘
ایک کیمپس پولیس افسر کا نام بھی منصوبوں میں تھا، حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ کیوں۔
اخبار نے لکھا کہ گرفتاری کے بعد ایف بی آئی نے لقمان خان کے ویلیمنگٹن میں واقع گھر پر چھاپہ مارا اور پتہ چلا کہ ان کے ٹرک میں موجود اسلحہ صرف آغاز تھا۔
ریڈ ڈاٹ سکوپ سے لیس ایک اے آر طرز کی رائفل اور ایک دوسری گلوک پستول بھی گھر سے ملی۔
رپورٹ کے مطابق: ’یہ ایک غیر قانونی ڈیوائس سے لیس تھی جس نے اسے مکمل طور پر خودکار مشین گن میں تبدیل کر دیا، جو فی منٹ 1200 گولیاں مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘
پولیس کے مطابق لقمان کے گھر سے گولیوں کے مزید 11 میگزینز اور ایک بلٹ پروف جیکٹ بھی ملی۔
لقمان خان کے قبضے سے ملنے والے ہتھیاروں میں سے کوئی بھی رجسٹرڈ نہیں تھا۔
پڑوسیوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ لقمان خان ماضی میں دوستانہ تھا، لیکن حالیہ مہینوں میں عجیب طور پر ’خشک مزاج‘ ہو گیا تھا۔ سپاٹ لائٹ ڈیلاویئر نے رپورٹ کیا کہ گرفتاری سے قبل اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
لقمان خان گرفتار ہیں اور ان پر اب تک صرف ایک مشین گن رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
پولیس نے کہا: ’خوش قسمتی سے ایک تباہی ٹل گئی۔‘
نیو کیسل پولیس ماسٹر رچرڈ چیمبرز نے کہ ’وہ محض اتفاق سے کینبی پارک ویسٹ گئے اور جب انہوں نے گاڑی دیکھی، اس شخص سے رابطہ کیا تو بجائے اس کے کہ اس شخص کو پارک سے باہر نکال دیا جاتا، ہم نے پولیس کی طرح کا کام کیا۔‘