ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے زیادہ تجارت افغانستان کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن بارڈر بند ہونے سے پنجاب کو ماہانہ 80 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ صوبے کی سیمنٹ اور زرعی ادویات بنانے والی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔
گذشتہ سال اکتوبر سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی گئیں، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط منقطع ہیں۔ اس صورت حال سے سرحدوں کی دونوں طرف ہزاروں تاجر بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دونوں جانب تقریباً 3000 تاجر پھنسے ہوئے ہیں جن میں تقریباً 1200 پاکستانی اور 1800 افغان ہیں۔
اطلاعات کے مطابق افغانسان سے پاکستان آنے والے تازہ پھل اور خشک میوہ جات سمیت دیگر اشیا وہیں خراب ہونے سے بڑا نقصان ہو رہا ہے۔
پاکستان سے سبزیاں، دیگر مصنوعات، تعمیراتی میٹریل یا ادویات بھی افغانستان نہیں بھیجی جا سکتیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان درآمد اور برآمد بند ہونے سے نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ تاجر اور ٹرانسپورٹر بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
صدر لاہور چیمبر فہیم سہگل کے بقول، ’ہمارے زرعی اور صنعتی شعبے کی برآمدات کا سب سے زیادہ دارومدار افغان بارڈر پر ہے کیوں کہ وہیں سے وسطی ایشیا کے دیگر ملکوں کو سامان برآمد کیا جاتا ہے لیکن تجارتی سرگرمیاں بند ہونے سے ملک پر معاشی دباؤ برھتا جارہا ہے۔
’پاکستان اور افغانستان دونوں طرف آمدن میں کمی جب کہ مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام اور سرمایہ کار پرشان ہیں۔ لہٰذا دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ بات چیت کے ذریعے تجارتی تعلقات فوری بحال کیے کریں۔‘
فہیم سہگل کا مزید کہنا ہے کہ ’ہماری برآمدات کا سب سے زیادہ انحصار ہمسایہ ممالک تجارت پر ہے۔ ان ملکوں سے ہم درآمد کم اور برآمد زیادہ کرتے ہیں جس کا سالانہ حجم اڑھائی ارب ڈالر ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم ٹیکسٹائل، ادویات، تعمیراتی میٹیریل انہی ممالک کو برآمد کرتے ہیں۔ لہٰذا افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ ہم نے ان کے لاکھوں شہریوں کو 40 سال تک سنبھالا اس لیے وہ تعلقات بحال کرنے کے لیے آگے بڑھے۔‘
فہیم سہگل کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں جنگیں ہوتی ہیں حالات بھی خراب ہوتے ہیں لیکن وہاں تجارت بند نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ تائیوان اور چین میں لڑائی ہے لیکن وہاں دوطرفہ پروازیں بھی چل رہی ہیں اور تجارت بھی ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات میں حکومت یا ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو کوئی ریلیف بھی نہیں دیا گیا۔ کوئٹہ چیمبر کے لوگ آئے اور انہوں نے بتایا کہ آلو افغانستان بہت جاتا تھا جو گاڑیوں میں پڑا پڑا خراب ہوگیا۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی بہت مشکل میں ہے۔ اس مسئلے کا جلد کوئی حل نکالنا ہو گا۔