پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی لیگ ’پاکستان سپر لیگ‘ (پی ایس ایل) میں جمعرات کو مزید دو ٹیمیں شامل ہو گئیں، جس کے بعد ہر سال کے اوائل میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں مدمقابل ہوں گئی۔
اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی کے بعد حیدر آباد اور سیالکوٹ کی ٹیموں کا اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل لیگ میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطان کی ٹیمیں شامل تھیں۔
ایف کے ایس نامی کمپنی نے آج 175 کروڑ روپے کی بولی کے ساتھ حیدر آباد کے نام سے ٹیم خریدی، جبکہ او زی گروپ نے 185 کروڑ روپے کی بولی لگا کر سیالکوٹ کا نام منتخب کیا۔
پی سی بی کو اندرون اور بیرون ملک سے نیلامی کے لیے 12 بولیاں موصول ہوئی تھیں، تاہم تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد 10 بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔
جائزے میں بولی دہندگان کی مالی استعداد، کارپوریٹ گورننس، قانونی و انتظامی اہلیت اور طویل المدتی سٹریٹجک وژن کو مدنظر رکھا گیا۔
پی ایس ایل سیزن 11چھبیس مارچ سے تین مئی 2026 تک کھیلا جائے گا۔
او زی گروپ کون ہے؟
حمزہ مجید چوہدری کی سربراہی میں یہ گروپ ایک متنوع کاروباری ادارہ ہے، جو ٹریڈنگ، ٹیکنالوجی، رئیل سٹیٹ اور فوڈ سروسز کے شعبوں میں کام کر رہا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے حمزہ چوہدری کا کہنا ہے ’ہمارا مقصد ایک ایسی مضبوط اور پائیدار پی ایس ایل فرنچائز قائم کرنا ہے جو میدان میں کامیابی کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی ترقی، شائقین کی شمولیت اور پاکستان میں کرکٹ کے فروغ میں کردار ادا کرے۔‘
پی سی بی کے توسیعی فریم ورک کے تحت نئی فرنچائزز کے لیے ممکنہ میزبان شہروں میں فیصل آباد، راولپنڈی، حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد اور گلگت شامل تھے۔
او زی گروپ نے خصوصی طور پر فیصل آباد اور سیالکوٹ میں دلچسپی ظاہر کی، جو اپنی مضبوط کرکٹ روایت، صنعتی شناخت اور پرجوش شائقین کی وجہ سے مشہور ہیں۔
گروپ نے پاکستان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات میں اپنی موجودگی کو وسعت دی ہے اور جدت، توسیع اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کے حوالے سے ایک مستحکم ساکھ قائم کی ہے۔
گروپ کے نمایاں برانڈز میں وائز مارکیٹ (Wise Market) شامل ہے، جس نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
حمزہ چوہدری ایک اوورسیز پاکستانی ہیں اور ماضی میں آسٹریلیا میں مقیم رہے۔ وہ طویل عرصے سے کرکٹ اور کھیلوں کے فروغ سے وابستہ ہیں۔
وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی مختلف کرکٹ اقدامات میں سرگرم رہے ہیں، جن میں برطانیہ میں ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کی سپانسرشپ اور معاونت شامل ہے، جو ان کی عالمی کرکٹ نظام کے لیے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
حمزہ چوہدری کے مطابق ’کرکٹ ہمیشہ پاکستان کو جوڑنے والی قوت رہی ہے۔ پی ایس ایل کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہم نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانا، مقامی کمیونٹیز کو شامل کرنا اور کھیل کے پائیدار مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔‘
ایف کے ایس گروپ
حیدرآباد کی ٹیم خریدنے والے ایف کے ایس گروپ کے صدر فواد سرور ہیں۔ بولی جیتنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’اس ٹیم کا نام حیدرآباد سے منسوب کیا جائے گا کیونکہ ان کا آبائی شہر حیدرآباد ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فواد سرور ایک امریکی ۔ پاکستانی شہری ہیں اور گذشتہ 20 سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔
ایف کے ایس گروپ انڈونیشیا میں قائم امریکی کاروباری گروپ ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی ایک ہولڈنگ کمپنی ہے جو خوراک و زراعت، انفراسٹرکچر اور پراپرٹی کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔
اس کے تحت چلنے والی کمپنیاں لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر سے متعلق کام کرتی ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر خطے میں کاروبار اور لوگوں کی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہیں۔
اس گروپ کا 40 سالہ تجربہ ہے جو دنیا بھر میں خام مال کی فراہمی، پیداوار، ریفائننگ، لاجسٹکس، شپنگ، فنانسنگ، رسک مینجمنٹ اور تجارت کے مختلف شعبوں میں ہے۔
یہ کمپنی شوگر ریفائنریوں، انفراسٹرکچر اور پراپرٹی ڈیولپمنٹ میں اہم سرمایہ کاری بھی کرتی ہے۔
پی ایس ایل کی توسیع سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے، بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت، علاقائی معیشتوں کے فروغ اور عالمی کرکٹ میں پاکستان کے مقام کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ہے۔
آنے والے اضافے کے ساتھ پی ایس ایل سات سال بعد پہلی بڑی تنظیم نو سے گزرے گا، جس سے فرنچائزز کی کل تعداد آٹھ ہو جائے گی۔