امریکی مہم جو پیما ایلکس ہونولڈ نے اتوار کو تائیوان کی مشہور اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک ’تائی پے 101‘ کو بغیر رسی اور بغیر کسی حفاظتی جال کے سر کر لیا۔
اس دوران ہزاروں شائقین انہیں خوشی سے لہراتے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھتے رہے۔
ہونولڈ نے 91 منٹ میں اس ’فری سولو‘ چیلنج کو مکمل کرنے کے بعد عمارت کے بالائی حصے تک پہنچ کر کہا ’زبردست!‘
یہ چڑھائی نیٹ فلکس نے پروڈیوس کی اور اسے براہِ راست نشر کیا گیا۔ یہ مہم بارش کے باعث ایک دن مؤخر کرنی پڑی تھی۔
ہونولڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہ ’تائی پے کو دیکھنے کا (یہ) کتنا خوبصورت طریقہ ہے۔‘
1,667 فٹ بلند تائی پے 101 شہر کا ایک بڑا سیاحتی مرکز ہے اور یہ 2004 سے 2010 تک دنیا کی بلند ترین عمارت رہی۔ یہ اعزاز اب دبئی کے برج خلیفہ کے پاس ہے۔
یہ فری سولو چڑھائی تائی پے 101 کی انتظامیہ اور شہری حکومت کی مکمل اجازت اور تعاون کے ساتھ کی گئی۔
ہونولڈ نے بتایا کہ انہوں نے ایک وقت میں بغیر اجازت چڑھنے کا سوچا تھا۔
’لیکن پھر عمارت کے احترام اور اس ٹیم کے احترام میں جس نے مجھے اسے دیکھنے کی اجازت دی، میں نے سوچا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ میں لوگوں کا احترام کروں گا اور دیکھوں گا کہ کب حالات مناسب ہوتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مہم کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر جیمز سمتھ نے تائی پے 101 کو ’ملک کی سچی پہچان‘ قرار دیا۔
تائیوان کے سیاست دانوں نے بھی سوشل میڈیا پر ہونولڈ اور نیٹ فلکس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تائیوان کو عالمی خبروں میں ایک مختلف زاویے سے نمایاں کیا، جو عموماً سیمی کنڈکٹر صنعت یا چین کی فوجی دھمکیوں کے باعث خبروں میں رہتا ہے۔
صدر لائی چنگ-تے نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ’بہادر اور نڈر ایلکس کو چیلنج مکمل کرنے پر مبارک ہو۔‘
یہ پہلی بار نہیں کہ تائی پے 101 کو سر کیا گیا ہو۔
2004 میں فرانس کے الین روبرٹ نے، جو دنیا کی بلند عمارتوں پر بغیر رسی چڑھنے کے باعث ’سپائیڈر مین‘ کہلاتے ہیں، بھی یہ عمارت سر کی تھی۔
تاہم انہوں نے حفاظتی رسی کا استعمال کیا تھا اور انہیں یہ چڑھائی مکمل کرنے میں چار گھنٹے لگے تھے۔