صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی ہراسانی کے 26 نئے الزامات

ایک نئی کتاب میں صدر ٹرمپ پر ’غیر مطلوبہ طور پر چھونے‘ کے مزید 26 نئے الزامات سامنے آئے ہیں جن میں پردے کے پیچھے چھپ کر ایک خاتون کو پکٹرنے کا الزام بھی شامل ہے۔

ٹرمپ کئی سالوں سے نازیبا جنسی سلوک کے الزامات کا سامنا کرتے آرہے ہیں لیکن وہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر خواتین کو ’غیر مطلوبہ طور پر چھونے‘ کے مزید 26 نئے الزامات سامنے آگئے ہیں۔ ان پر 43 موقعوں پر نازیبا طرز عمل اختیار کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ ان الزامات میں ان کے ریزارٹ مار آلاگو پر پردے کے پیچھے چھپ کر ایک خاتون کو پکڑنے کا الزام بھی شامل ہے۔

یہ دھماکہ خیز الزامات ایک نئی کتاب ’آل دا پریزیڈنٹس ویمن: ڈونلڈ ٹرمپ اینڈ دا میکنگ آف اے پریڈیٹر‘ میں سامنے آئے ہیں۔ یہ کتاب بیری لیوین اور مونیک الفیضی نے لکھی ہے۔ اس کتاب کے اقتباسات ’ایسکوئیر‘ میگزین میں شائع کیے گئے ہیں۔

ٹرمپ کئی سالوں سے نازیبا جنسی سلوک کے الزامات کا سامنا کرتے آرہے ہیں لیکن وہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں 2016 میں صدارتی انتخابی مہم کے دوران ان کی ایک آڈیو ٹیپ بھی لیک ہوئی تھی جس میں وہ خواتین کو ’ان کی مرضی کے خلاف نازک اعضا سے پکڑنے‘ کا کہہ رہے تھے۔

کیرن جانسن نے لیوین اور الفیضی سے اس بارے میں پہلی بار بات کی خاص طور پر ان کے اس دعوے پر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے 2000 کی دہائی کے شروع کے سالوں میں ایک نیو ائیر پارٹی کے دوران زبردستی چھوا تھا۔

کیرن کا کہنا تھا: ’جب وہ ’ان کو وہاں سے پکڑو‘ جیسی باتیں کہتے ہیں تو یہ مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے کیونکہ جب انہوں نے مجھے پکڑا اور پردے میں کھینچا تو انہوں نے مجھے وہیں سے پکڑا تھا، میرے سامنے سے۔‘

کتاب کے مصنفین کے مطابق انہوں نے کتاب مرتب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی زندگی کا حصہ رہنے والی سو سے زائد خواتین کے انٹرویو کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف نازیبا جنسی سلوک کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ ان کی جانب سے ان خواتین کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی کی گئی جنہوں نے ان پر زبردستی چھونے کے الزام عائد کیے۔ وہ ان خواتین پر ٹوئٹر سمیت مختلف فورمز پر تنقید کر چکے ہیں۔

کیرن جانسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’ٹرمپ کو اس پوری رات نہیں دیکھا تھا‘ اور وہ گھر جانے سے پہلے ٹوائلٹ تک گئیں تھیں کہ یہ واقع پیش آیا۔

انہوں نے کہا: ’میں ٹوائلٹ کی جانب جا رہی تھی جب مجھے کسی نے پکڑ کر پردے کے پیچھے کھینچا اور وہ ٹرمپ تھے۔ میں ایک لمبی لڑکی ہوں، اور میں نے چھ انچ کی ایڑھی والی جوتی پہن رکھی تھی لیکن مجھے آج بھی یاد ہے کہ پھر بھی انہیں سر اٹھا کر دیکھنا پڑ رہا تھا۔ وہ بہت طاقتور تھے اور انہوں نے مجھے بوسہ دیا۔‘

جانسن نے مزید کہا: ’میں بہت ڈر گئی تھی کیونکہ وہ ایک صاحب حیثیت شخص تھے۔ میں جانتی بھی نہیں تھی کہ یہ کیسے ہوا اور مجھے نہیں معلوم اس بارے میں مجھے کیا کہنا چاہیے تھا۔‘

ان کے مطابق اس کے بعد ٹرمپ نے اصرار کیا کہ وہ مہمانوں کو الوداع کہنے کے لیے ان ساتھ کھڑی ہوں کیونکہ میلانیا اوپر والی منزل پر تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے ان کو کال کرنا بھی شروع کر دیا اور انہیں اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی دعوت بھی دی۔ اس وقت وہ اپنے قریب المرگ شوہر کی تیمارداری کر رہی تھیں۔

جانسن کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں کہا: ’فکر نہ کریں آپ کے شوہر کو نہیں پتہ چلے گا کہ آپ گھومنے گئی ہیں۔‘

اس کتاب سے پہلے بھی کم سے کم 24 خواتین نے صدر ٹرمپ پر نازیبا جنسی طرزعمل اپنانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

ان میں حال ہی میں مصنفہ ای جین کیرول کے صدر پر لگائے جانے والے الزامات بھی شامل ہیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ 1990 کی دہائی میں ایک ڈپارٹمنٹ سٹور کے ڈریسنگ روم میں صدر ٹرمپ نے ان سے زبردستی کی تھی۔

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’جعلی خبریں پھیلا رہی ہیں‘ اور ان کا مقصد ’اپنی کتاب کی فروخت بڑھانا ہے۔‘

کتاب کے مصنفین نے صدر ٹرمپ کے میلانیا سے پہلی ملاقات کا احوال بھی لکھا جب وہ 28 سال کی تھیں اور صدر ٹرمپ کئی خواتین کو ڈیٹ کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان میں سے ایک، کارا ینگ، کو شادی کی پیشکش بھی کیونکہ وہ ان کے عشق میں مبتلا ہو چکے تھے۔

کتاب کے مطابق کارا ینگ صدر  ٹرمپ کو اس دوران ڈیٹ کر رہی تھیں جب وہ میلانیا کے ساتھ بھی تھے۔ کتاب میں مزید کہا گیا کہ کارا ینگ نے نیویارک کے علاقے سوہو میں شاپنگ کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کا کریڈٹ کارڈ استعمال کیا۔

کتاب میں لکھا گیا کہ خاتون اول کی سابقہ روم میٹ کے مطابق ایک دن میلانیا کو ایک باتھ روم کے تولیے پر کسی خاتون کا میک اپ ملا جو کہ شاید کارا ینگ کا تھا جس پر انہوں نے ’بداعتمادی‘ کے باعث ٹرمپ سے تعلق توڑ لیا۔ تاہم میلانیا نے بعد میں ٹرمپ کو معاف کردیا اور ایک بار پھر ساتھ رہنے لگے۔

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ