ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای جان سے چلے گئے ہیں۔
علی خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما، جواد خامنہ ای گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نسبتاً غربت میں پرورش پائی۔
انہوں نے مشہد میں ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عراق کے شہر نجف سے فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں وہ آیت اللہ خمینی کے طالب علم تھے۔
خامنہ ای کی خاندانی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ ان کے چھ بچے تھے۔ خامنہ ای کی شاعری میں دلچسپی ان کی عوامی شخصیت کا ایک معروف حصہ ہے۔ وہ اکثر اپنی تقریروں میں اشعار کا حوالہ دیتے تھے اور مشاعروں کی میزبانی کرتے تھے جہاں حکومت حامی شاعر اپنے اشعار پڑھنے اور ان کے تبصرے وصول کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔
مذہبی علما میں خامنہ ای کی ادب میں دلچسپی کافی نایاب ہے۔ باغبانی میں ان کی دلچسپی کا بھی یہی حال تھا۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خامنہ ای شاہ ایران کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے، اور وہ اس وقت جلاوطنی میں رہنے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے کٹر حامی تھے، اور ایران کو ’مغربی رنگ میں رنگنے‘ کے خلاف تھے۔ اس کی وجہ سے شاہ کی خفیہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ساواک نے انہیں گرفتار کر لیا۔
1979 کے انقلاب میں شاہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد، ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا۔ خامنہ ای کو انقلاب کا انتظام سنبھالنے کے لیے قائم کی گئی اسلامی انقلابی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔
1982 وہ 95 فیصد ووٹ حاصل کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ خامنہ ای دو ماہ قبل قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا دایاں بازو ناکارہ ہو گیا تھا۔
عراق کے خلاف جنگ میں انہوں نے پاسداران انقلاب کی کمان بھی کی۔
1989 میں خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای سپریم لیڈر بنے۔ انہیں اسلامی علما کے 88 رکنی ادارے، اسمبلی آف ایکسپرٹس نے نیا لیڈر نامزد کیا تھا۔
وہ صرف روحانی پیشوا نہیں ہیں بلکہ حکومت کی سمت کا تعین کرنے، مسلح افواج کی کمان اور عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مشاورت تک ان کے فرائض میں شامل تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اپنے دور میں خامنہ ای نے روایتی جنگ کی بجائے خطے میں ’مزاحمت کا محور‘ تشکیل دیا، جس میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور شام میں بشار الاسد کی حکومت شامل تھی۔ تاہم 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد یہ محور بکھرنے لگا۔ اسرائیل نے حالیہ مہم میں حزب اللہ کی قیادت کو ختم کر دیا، جب کہ دسمبر 2024 میں شام میں اسد حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خامنہ ای نے ملکی ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا، جس پر امریکہ اور اسرائیل سے مسلسل تصادم ہوا۔ 2018 میں ٹرمپ کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی ہتھیاروں کے درجے کے قریب تک پہنچا دی۔
اندرون ملک، سیاسی جبر اور معاشی بدحالی کے باعث خامنہ ای کو 1997، 2009، 2019 اور 2022 میں مہسا امینی کی موت پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا جنہیں سکیورٹی فورسز نے انتہائی سختی سے کچل دیا۔ دسمبر 2025 کے اواخر میں نو کروڑ آبادی والے اس ملک میں دوبارہ شدید معاشی مظاہرے شروع ہوئے جن میں کھلے عام اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
اب 88 رکنی اسمبلی آف ایکسپرٹس نے خامنہ ای کا متبادل چننا ہے، لیکن کوئی واضح جانشین موجود نہیں ہے، کیوں کہ موجودہ حالات میں ملک کا کنٹرول پاسداران انقلاب کے ہاتھ میں جانے کا امکان ہے۔