انڈین ریاست بہار میں نئے وزیر اعلیٰ کی آمد کے ساتھ ہونے والی سیاسی تبدیلی کے معاملے میں ’ایک دور کا خاتمہ‘ کا فقرہ کثرت سے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اس تبدیلی کا جائزہ لینے کے کئی زاویے موجود ہیں۔
انڈین اخبار دی ہندو میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق ان زاویوں میں سب سے اہم بات اقتدار کے مرکز کی منتقلی ہے۔ 1990 میں کانگریس کے طویل تسلسل کا خاتمہ کرتے ہوئے لالو پرشاد یادو کے عہدہ سنبھالنے کے 36 سال بعد، اب وزیر اعلیٰ کی کرسی دوبارہ ایک قومی پارٹی کے پاس آ رہی ہے۔ اب پٹنہ کی بجائے دہلی فیصلے کرے گا۔
بہار کی سیاست پچھلے تقریباً 20 سال سے زیادہ تر نتیش کمار کے گرد گھومتی رہی۔ اب تازہ خبروں کے مطابق 30 مارچ کو نتیش کمار نے بہار قانون ساز کونسل سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ 10 اپریل تک راجیہ سبھا میں حلف اٹھانے والے ہیں۔ اور وہاں جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ریاستی سیاست میں ان کا براہِ راست کردار ختم یا کم ہو جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے جسے بھی چنا جائے گا، وہ اب حتمی فیصلہ کرنے والا نہیں ہوگا۔ وہ مرد ہو یا کوئی خاتون، انہیں دہلی میں بیٹھی قیادت کی بات ماننا ہوگی۔
لالو پرشاد اور نتیش کمار، دونوں نے جس طویل سیاسی دور کے مزے لیے، وہ نئے آنے والے وزیر اعلیٰ کو وراثت میں نہیں ملے گا۔ انہیں اپنے چاروں اطراف نظر رکھنا ہوگی، اور ان دیگر امیدواروں سے ہوشیار رہنا ہوگا جو ان کی کسی غلطی کے انتظار میں ہوں گے۔
بھاری وراثتیں
اپنی انتخابی مہم کی تقاریر میں نتیش کمار اکثر ’بہار کیا تھا‘ کا ذکر کرتے ہوئے ریاست کے مبینہ تاریک ماضی کا حوالہ دیتے تھے۔ اب ’جنگل راج‘ کے اس خوف کو مزید استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
نتیش کے بعد کے دور میں، ان کے جانشین کے دور کا موازنہ اب لالو پرشاد یادو کی قیادت میں چلنے والی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) حکومت سے نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کا جائزہ نتیش کمار کی 20 سالہ حکمرانی کے ساتھ موازنے میں لیا جائے گا۔ ایک طویل عرصے تک نتیش کمار کو ’سوشاسن بابو‘ (اچھی طرز حکمرانی والے شخص) کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد، اس بیانیے کو برقرار رکھنا یا اس سے آگے نکلنا مشکل ہوگا۔
اگر لالو پرشاد یادو نے ذات پات کی ناانصافیوں کو دور کر کے پسماندہ برادریوں کا وقار بحال کیا، تو نتیش کمار نے’بہار اسمیتا‘ (تشخص) کی سیاست کو پروان چڑھایا، جس کا مقصد ریاست کی سرحدوں کے اندر اور باہر بسنے والے بہاریوں میں اپنی ریاست کا فخر بحال کرنا تھا۔ نئے وزیر اعلیٰ کو اب اپنی رفتار بڑھانا ہوگی اور بہار کے سب سے سنگین مسئلے، یعنی نقل مکانی کو حل کرنا ہوگا۔
اب محض یہ کافی نہیں کہ نچلی ذاتوں کو آواز مل گئی ہے یا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی سے ریاست کا وقار کسی حد تک بحال ہوا ہے۔ نئے وزیر اعلیٰ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بہار میں پیدا ہونے والے افراد کے پاس وہیں رہنے اور کام کرنے کا اختیار بھی موجود ہو، تاکہ انہیں روزگار کی تلاش میں کہیں اور جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، بہار میں پیدا ہونے والے 90 لاکھ افراد ریاست سے باہر کام کرتے ہیں، اور حالیہ مردم شماری میں اس تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
مزید برآں لالو اور نتیش کی حکومتوں کے دوران، ذات پات اور فرقہ وارانہ سطح پر ایک نازک توازن برقرار رکھا گیا۔ آر جے ڈی کو اس کے مخالفین اکثر طنزیہ انداز میں ایک مسلم۔یادو پارٹی کہہ کر مسترد کرتے رہے ہیں۔ جس بات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اور یادو فطری اتحادی نہیں تھے۔ درحقیقت، بھاگل پور کے فسادات سمیت بہار کے کئی بدنام زمانہ فسادات میں یہ دونوں برادریاں ایک دوسرے کے خلاف کھڑی تھیں۔ یہ اتحاد لالو پرساد نے عوامی رابطوں اور حکومت میں بامعنی حصے داری کے وعدے کے ذریعے قائم کیا تھا۔
اگرچہ نتیش کمار کی زیر قیادت جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) کو مسلمانوں کی مستقل انتخابی حمایت حاصل نہیں رہی، لیکن ان کے دور حکومت میں اس برادری نے خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کیا۔ بہار میں مجموعی طور پر فرقہ وارانہ امن برقرار رہا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت کے لیے اس توازن کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہوگا۔
چیلنجز اور امیدیں
بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے سے، ریزرویشن کے حوالے سے سماجی خدشات دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔ اس کی کچھ علامات پہلے ہی نظر آ رہی ہیں۔ 18 مارچ کو مختلف تنظیموں کے ایک ہزار سے زائد طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، جن کا مطالبہ تھا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے برابری کے اصولوں پر، جنہیں سپریم کورٹ نے روک دیا تھا، بغیر کسی تاخیر کے عمل درآمد کیا جائے۔
اب یہ بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسا وزیر اعلیٰ منتخب کرے جو ایک تسلی بخش جوابی بیانیہ پیش کر سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نتیش کے بعد کے بہار میں کئی امکانات بھی موجود ہیں۔ اونچی ذاتوں کی بالادستی والی بی جے پی اور یادووں کے غلبے والی آر جے ڈی کے درمیان، کئی چھوٹی ذاتوں کے ایسے گروہ موجود ہیں جن کا کوئی فطری سیاسی ٹھکانہ نہیں ہے۔ نتیش کمار کی عدم موجودگی میں، ہو سکتا ہے کہ جے ڈی یو ان برادریوں کو کوئی مستحکم بنیاد فراہم نہ کر سکے۔
اس سے کانگریس کے لیے یہ خلا پر کرنے کا موقع پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، یہ ایک قابل عمل متبادل کے طور پر اسی صورت ابھر سکتی ہے جب وہ آر جے ڈی کے سائے سے باہر نکلے اور ایک ذیلی جماعت کی بجائے ایک آزاد قوت کے طور پر کام کرے۔
توقعات کے برعکس، جے ڈی یو کے اندر کوئی احتجاج نہیں ہوا، اور اب تک یہ منتقلی ہموار دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اس بات کا اصل امتحان کہ آیا یہ استحکام برقرار رہے گا، ابھی شروع ہی ہو رہا ہے۔