بہار کے ریاستی الیکشن میں مودی کے اتحاد کی واضح برتری

انڈین الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق مودی کے نیشنل ڈیموکریٹ الائنس (این ڈی اے) کو 170 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی ریاست بہار میں انتخابات سے قبل دو نومبر 2025 کو پٹنہ میں روڈ شو کے دوران حامیوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں (سچن کمار / اے ایف پی)

انڈیا کی گنجان آباد اور غریب ریاست بہار میں ووٹوں کی گنتی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکمران اتحاد (این ڈی اے) ریاست میں باآسانی اقتدار میں رہنے میں کامیاب رہا ہے۔

تازہ کامیابی سے وزیر اعظم مودی کو  گذشتہ سال قومی انتخاب میں مایوس کن نتیجے کے بعد حوصلہ ملا ہے۔ 

بہار میں جیت اس لیے نہایت اہم ہے کہ یہ آبادی کے لحاظ سے انڈیا کی تیسری سب سے بڑی ریاست ہے جس کی آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے۔ ریاست سے پارلیمنٹ میں پانچویں سب سے زیادہ تعداد میں قانون ساز منتخب ہوتے ہیں۔ اس مشرقی ریاست پر کنٹرول کسی بھی پارٹی کے ہندی بولنے والے باشندوں کے مرکز میں اقتدار کو مضبوط بناتا ہے اور اکثر ملکی سیاسی بیانیوں کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔

مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اتحاد کے لیے 122 نشستوں کی اکثریتی حد عبور کرنا آسان نظر آ رہا ہے، کیوں کہ انڈیا کے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق وہ 170 سے زیادہ نشستوں پر آگے ہے۔ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق اسے 191 نشستوں میں برتری حاصل ہے جو گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں 69 نشستوں کے ممکنہ اضافے کے برابر ہے۔

نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’بہار کا مینڈیٹ واضح ہے۔ عوام نے واضح کر دیا ہے، اب ترقی شناخت ہے، جنگل راج نہیں، اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہار کا نتیجہ مودی کے لیے بڑے الٹ پھیر کی علامت ہو گا، جنہوں نے گذشتہ سال کے قومی انتخابات میں اپنی پارلیمانی اکثریت کھو دی تھی اور اقتدار میں رہنے کے لیے اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑا تھا۔ تب سے ان کی پارٹی نے بتدریج اپنی پوزیشن بحال کی ہے اور اسے کئی اہم ریاستی مقابلوں میں کامیابی ملی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار کے الیکشن میں اہم عوامل میں سے ایک یہ تھا کہ مودی نے ستمبر میں ایک روزگار پروگرام کے تحت ریاست کی کروڑوں خواتین کو 75 ارب انڈین روپے (85.3 کروڑ ڈالر) منتقل کیے۔

گذشتہ دہائی میں پورے انڈیا میں خواتین ووٹر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آئی ہیں اور سیاسی جماعتیں انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے انڈیا کے پولنگ سٹیشنوں پر مردوں کی تعداد خواتین سے باآسانی زیادہ ہوتی تھی۔

سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواڑی، جو الیکشن کے دوران، جو دو مرحلوں میں چھ اور 11 نومبر کو ہوا، پورے بہار میں سفر کرتے رہے، نے کہا کہ مودی کو گذشتہ عام انتخابات میں شکست کے مقابلے میں بہتر نتیجہ دلانے والی درحقیقت صرف ’خواتین ہی‘ ہیں۔

اس ہفتے تیواڑی کی ایجنسی ووٹ وائب کے ایک سروے کے مطابق مودی کے اتحاد نے خواتین کے ووٹوں میں سے 48.5 فیصد حاصل کیے، جو مرکزی اپوزیشن اتحاد سے 10 فیصد پوائنٹس سے زیادہ ہیں۔

آسام، مغربی بنگال اور تمل ناڈو سمیت کئی ریاستوں میں اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان ریاستوں میں بی جے پی اس وقت صرف آسام میں برسر اقتدار ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا