وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو حکام کو ہدایت دی ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے سبسڈی کی ادائیگیاں فوری طور پر جاری کی جائیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات کے باعث پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے جہاں حکومت نے جمعرات کو اچانک پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کر دیا۔ تاہم ایک روز کے بعد ہی وزیر اعظم نے عوام کو بڑے ’مالی بوجھ‘ سے بچانے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کی کمی کر دی تھی۔
شہباز شریف نے جمعے کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول پر عائد لیوی کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378 روپے ہو گی۔
اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بھی عوام پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی مشکلات کے تناظر میں الگ الگ سبسڈی پروگرامز کا اعلان کیا۔
اتوار کو شہباز شریف نے یہ ہدایات وفاقی وزرا اور سینیئر حکام کے اجلاس کی صدارت کی جس میں پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی سبسڈی کے اجرا کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ’وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سبسڈی کی ادائیگیاں فوری جاری کی جائیں، جن کا آغاز گزشتہ روز سے ہو چکا ہے۔‘
حکومت نے اس ہفتے عوام کو ریلیف دینے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں اسلام آباد میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ، پاکستان ریلوے کے کرایوں میں استحکام، اور ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کے لیے ہدفی سبسڈیز شامل ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ مسافر بسوں کو کرایے نہ بڑھانے کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ منی بسوں اور وینز کو 40 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرکوں کو 70 ہزار روپے اور ہیوی فریٹ گاڑیوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ ڈیلیوری وینز کے لیے 35روپے ماہانہ سبسڈی مختص کی گئی ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق صوبائی حکومتوں نے ٹرکوں، بسوں اور فریٹ گاڑیوں کی تفصیلات وفاق کو فراہم کر دی ہیں تاکہ سبسڈی کی ادائیگی میں سہولت ہو سکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بلوچستان حکومت کی تعریف کی جس نے قومی سبسڈی پیکج کے لیے اپنا حصہ جمع کرا دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کے ’کافی‘ ذخائر موجود ہیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہم کسی بھی صورت میں اس مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔‘