|
امریکہ اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مذاکرات‘ ناکام۔ صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی فوراً ناکہ بندی کرنے کا اعلان۔ ایران کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے لائیو اپ ڈیٹس |
ایران کے مذاکرات میں واپس آنے کی پروا نہیں: ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے فلوریڈا سے واپسی پر میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے اس کی پروا نہیں کہ وہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ واپس نہیں آتے تو بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔‘ اے ایف پی
امریکہ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان
امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کر دیا ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پیر 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) شروع ہو گی۔
بیان میں ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کا کہا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس میں خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم سینٹ کام آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں کی آزادی آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہ کہ ناکابندی کے آغاز سے قبل تجارتی جہاز رانوں کو باقاعدہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
’تمام جہاز رانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نوٹس ٹو میرینرز کی نشریات پر نظر رکھیں اور خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں آپریشن کے دوران برج ٹو برج چینل 16 پر امریکی بحریہ سے رابطہ رکھیں۔‘