کوئی بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی کے قریب آیا تو سخت کارروائی ہو گی: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’ایران کی بحریہ سمندر کی تہہ میں پڑی ہے اور اس کے 158 جہاز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مذاکرات‘ ناکام۔

صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی فوراً ناکہ بندی کرنے کا اعلان۔

ایران کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول  ہے

لائیو اپ ڈیٹس


کوئی بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی کے قریب آیا تو سخت کارروائی ہو گی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’ایران کی بحریہ سمندر کی تہہ میں پڑی ہے اور اس کے 158 جہاز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ہم نے صرف ان کے چند چھوٹے جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جنہیں وہ ’فاسٹ اٹیک جہاز‘ کہتے ہیں، کیونکہ ہم انہیں زیادہ خطرہ نہیں سمجھتے تھے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ان میں سے کوئی بھی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب آیا تو اسے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا، بالکل اسی نظام کے تحت جسے ہم سمندر میں منشیات سمگلروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ کارروائی تیز اور سخت ہوگی۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمندر کے راستے امریکہ آنے والی منشیات کا 98.2 فیصد بند ہو چکا ہے۔


سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے: چینی وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے بات

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں حالیہ اسلام آباد مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اس گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں پر مبارکباد دی اور پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کے لیے عوامی جمہوریہ چین کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیحی ذریعہ بنانے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے اور اس تناظر میں پاکستان-چین پانچ نکاتی امن اقدام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد مسائل کا پرامن حل ممکن بنانا ہے۔

دونوں فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔


نیٹو اتحادیوں کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار

نیٹو کے اہم اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس سے اتحاد میں اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکنے کے لیے ناکہ بندی کرے گا، تاہم برطانیہ اور فرانس نے اس میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ ان کا ملک اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک کثیرالقومی مشن کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دفاعی اقدام ہوگا جو حالات سازگار ہوتے ہی شروع کیا جا سکتا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے مطابق اگر رکن ممالک متفق ہوں تو نیٹو اس آبی گزرگاہ کی سکیورٹی میں کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مشترکہ فیصلہ ضروری ہوگا۔

ادھر ترکی نے بھی اس گزرگاہ کو سفارتکاری کے ذریعے کھولنے پر زور دیا ہے۔

چند دیگر یورپی ممالک نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم صرف اس صورت میں جب لڑائی کا پائیدار خاتمہ ہو جائے اور ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو جائے جس میں ان کے جہازوں پر حملہ نہ کیا جائے۔ (روئٹرز)


انڈیا کو سات سال بعد پہلی بار ایرانی تیل کی ترسیل

شپ ٹریکنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی ایل ایس ای جی نے پیر کو بتایا ہے کہ ایرانی تیل سے لدے دو بڑے آئل ٹینکرز انڈیا کی بندرگاہوں پر پہنچ گئے ہیں جہاں انڈین ریفائنریز نے گذشتہ ماہ امریکہ کی جانب سے دی گئی عارضی چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سات سال بعد پہلی بار تہران سے تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر دی ہے۔

یہ موجودہ چھوٹ 19 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔

ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایران کے پرچم بردار ٹینکر ’فیلیسٹی‘ مغربی انڈیا کی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے جبکہ کیوراساؤ کے پرچم والا ٹینکر ’جایا‘ مشرقی ریاست اڑیسہ کی بندرگاہ پر موجود ہے۔

ایک وی ایل سی سی (انتہائی بڑا کروڈ کیریئر) تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انڈیا دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کرنے والا اور استعمال کرنے والا ملک ہے جس نے امریکی دباؤ پر مئی 2019 کے بعد ایران سے کبھی تیل نہیں خریدا۔

روئٹرز نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنری ہے، نے ’جایا‘ پر لدا ایرانی تیل خریدا ہے، حالانکہ یہ جہاز امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

انڈیا نے ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کو بھی ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہے۔


سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کی اسلام آباد مذاکرات پر بات چیت

ایران کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ایک فون کال میں اسلام آباد میں ہونے والی ایران-امریکہ بات چیت پر گفتگو کی۔

یہ فون کال اس وقت ہوئی ہے جب اس ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، جس سے دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔روئٹرز


’پاکستان جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا‘

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی پیر کو اپنی جاپانی ہم منصب سنائی تاکائچی سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق جاپان کی وزیر اعظم سے ٹیلیفونک گفتگو میں شہباز شریف نے کہا ’پاکستان جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکہ-ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ وزیراعظم تاکائیچی نے جنگ بندی اور مذاکرات کو ممکن بنانے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔


آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے فوجی بحری جہاز ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہوں گے: ایران

پاسداران انقلاب نے ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی میں شائع بیان میں کہا کہ ’آئی آر جی سی نیوی اعلان کرتی ہے کہ بعض دشمن حکام کے جھوٹے دعوؤں کے برخلاف آبنائے ہرمز سمارٹ کنٹرول اور انتظام کے تحت ہے اور مخصوص قواعد و ضوابط کی پابندی میں سول جہازوں کے محفوظ گزر کے لیے کھلا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ جو بھی فوجی بحری جہاز کسی بھی عنوان یا بہانے سے آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کرے گا، اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔


ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوں گے: برطانیہ

بی بی سی کے مطابق برطانیہ ایرانی بندر گاہوں کی امریکی فوجی ناکہ بندی کے نفاذ میں شامل نہیں ہو گا۔

برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ’ہم نیویگیشن کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی معیشت اور ہمارے ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘


ایران کے مذاکرات میں واپس آنے کی پروا نہیں: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا نہیں۔

ٹرمپ نے فلوریڈا سے واپسی پر میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے اس کی پروا نہیں کہ وہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ واپس نہیں آتے تو بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔‘ اے ایف پی


امریکہ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان

امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کر دیا ہے۔

سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پیر 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) شروع ہو گی۔

بیان میں ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کا کہا گیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس میں خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم سینٹ کام آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں کی آزادی آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہ کہ ناکابندی کے آغاز سے قبل تجارتی جہاز رانوں کو باقاعدہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

’تمام جہاز رانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نوٹس ٹو میرینرز کی نشریات پر نظر رکھیں اور خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں آپریشن کے دوران برج ٹو برج چینل 16 پر امریکی بحریہ سے رابطہ رکھیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا