آشا بھوسلے، وہ آواز جو پاکستان اور انڈیا کو جوڑتی رہی

آشا بھوسلے ان نایاب شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے انڈیا اور پاکستان میں موسیقی کے مداحوں کے دلوں میں برابر جگہ بنائی۔

آشا بھوسلے آٹھ  اگست 2023 کو دبئی میں اپنے 90 ویں لائیو کنسرٹ کا اعلان کرنے کے لیے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)

موسیقی کی دنیا میں کچھ آوازیں وقت اور سرحد  کی دیواروں کو توڑ کر امر ہو جاتی ہیں۔ آشا بھوسلے انہی نایاب شخصیات میں سے ایک ہیں۔

پاکستانی موسیقی کے مداحوں  کے دلوں میں انہوں نے ہمیشہ سے ایک منفرد اور مختلف  مقام حاصل کیا۔ ملکہ ترنم نور جہاں ہوں یا استاد مہدی حسن یا غلام علی یا پھر پاکستان کے نوجوان اور نئے گلوکار ان سب کو آشا بھوسلے کی سنگت ملی ہے۔ خاص طور پر عابدہ پروین اور عاطف اسلم نے تو آشا بھوسلے کےساتھ کئی مواقع پر سٹیج بھی شیئر کیا۔

نورجہاں کے تلفظ کی معترف

آشا بھوسلے نے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ملکہ ترنم نور جہاں کے اردو تلفظ نے انہیں خاصا متاثر کیا اور انہی کی وجہ سے آشا بھوسلے نے بھی اپنے اردو الفاظ کی ادائیگی کو بہتر بنانے کے لیے خاص مشق کی۔

آشا بھوسلے کے مطابق ملکہ ترنم نورجہاں کی خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل الفاظ اور طرز کو کمال مہارت سے ادا کرتیں۔ آشا بھوسلے کہتی تھیں کہ وہ ان لمحات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتیں جب ملکہ ترنم نور جہاں نے 80 کی دہائی میں انڈیا کا دورہ کیا تو ان کے استقبال کے لیے فلم نگری کا ہر فرد ہوائی اڈے پہنچا تھا۔

آشا بھوسلے کا کہنا تھا کہ نور جہاں کو وہ بچپن سے دیکھتی اور پسند کرتی آئی ہیں اور جب وہ کولہاپور میں فلم کی عکس بندی کے لیے آتیں تو آشا بھوسلے خصوصی طور پر ان کی عکس بندی دیکھنے جاتیں۔ آشا بھوسلے نے اپنے کئی انٹرویوز میں یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ صرف دو ہی گلوکاراؤں کو پسند کرتی ہیں ایک ملکہ ترنم نور جہاں اور دوسری لتا منگیشکر ہیں۔

عاطف اسلم سے نوک جھوک کی سچائی

سال 2012 میں انڈیا اور پاکستان کے نئے اور نوآموز گلوکاروں کے لیے رئیلٹی ٹی وی شو ’سُر شسترا‘ کا آغاز کیا گیا جس کی عکس بندی دبئی میں ہوتی تھی۔ یہ ٹی وی شو پاکستان اور انڈیا میں بھی نشر ہوا جس میں جج کے فرائض عابدہ پروین، آشا بھوسلے اور رونا لیلیٰ نے انجام دیے جب کہ ہمیش ریشمیا اور عاطف اسلم میزبان کے روپ میں سکرین پر نظر آئے۔

اس ٹی وی شو کی کئی قسطوں میں یہی دیکھا گیا کہ عاطف اسلم اور آشا بھوسلے کے درمیان کسی امیدوار کی گلوکاری پر تکرار اس قدر بڑھتی کہ پروگرام میں تلخی پھیل جاتی۔ ایک عام تاثر یہی تھا کہ یہ سب کچھ طے شدہ ہو لیکن عاطف اسلم نے 2022 میں ٹی وی شو میں اس تاثر کی نفی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آشا بھوسلے اور وہ کسی بات پر حقیقت میں الجھتے تھے اور بسا اوقات یہ نوک جھوک اس قدر بڑھ جاتی کہ چار پانچ گھنٹے تک عکس بندی روک دی جاتی۔ عاطف اسلم کا کہنا تو یہ بھی تھا کہ آشا بھوسلے کی بیٹی ان کی بہت بڑی مداح تھیں جنہوں نے فون کر کے والدہ سے شکوہ کیا کہ وہ عاطف اسلم سے بار بار یوں مت تکرار کیا کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین میڈیا کے ذریعے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس شو کے دوران ایک بار عاطف اسلم اور آشا بھوسلے میں تو تو میں میں اس قدر بڑھی کہ آشا بھوسلے ناراض ہو کر دبئی سے ممبئی لوٹ آئی تھیں لیکن پروگرام کے انڈین ٹی وی چینل کے اونر بونی کپور نے آشا بھوسلے کو منا کر دوبارہ دبئی روانہ کیا۔

انسانیت کی جیت اور انتہا پسندی کی شکست

عاطف اسلم، عابدہ پروین اور رونا لیلیٰ کے ساتھ اس ٹی وی شو کی وجہ سے آشا بھوسلے انڈیا کے انتہا پسندوں کی سخت تنقید کا شکار ہوئیں۔ شیو سینا کے بال ٹھاکرے کے بیٹے راج ٹھاکرے نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے آشا بھوسلے کو یہ پیغام دیا کہ انہیں پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ کام کرنے کی پیش کش کو رد کردینا چاہیے۔

راج ٹھاکرے نے دبے لہجے میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر کوئی انڈین چینل پاکستانی فن کاروں کے  اس طرح کے پروگرام جاری رکھتا ہے تو ان کے دفاتر کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اس کی ذمے داری حکومت پر ہو گی۔

اس تنقید اور اعتراض کے بعد آشا بھوسلے نے انتہائی سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ اُن کا سیاست یا کسی پارٹی کے ایجنڈے سے کوئی تعلق نہیں۔ آشا بھوسلے  نے مزید کہا کہ ان کے شو کا سیاسی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ بطورِ انسان ہمیں زندگی میں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ یہی انسانیت ہے۔غالباً آشا بھوسلے کے اسی پرخلوص بیان کے بعد انتہا پسند دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے تھے۔

جواد احمد کے ساتھ فن کارانہ انکساری

ہمایوں سعید جب 2007 میں فلمی ہیرو بننے کے لیے پر تول رہے تھے تو ہدایتکار جاوید فاضل کی فلم ’میں ایک دن لوٹ کر آؤں گا‘ میں  انہوں نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس تخلیق میں پاکستان اور انڈیا کے کئی اداکار یکجاں ہوئے جبکہ اس فلم کی موسیقی کے لیے گلوکار جواد احمد کی خدمات حاصل کی گئیں۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان اورانڈیا کے اداکار، گلوکار اور موسیقار ایک دوسرے کے ملکوں میں آزادانہ کام کر رہے تھے۔ اس مووی میں سندی چوہان اور الکا یاگنگ کے ساتھ ساتھ ایک گیت کے لیے آشا بھوسلے کی بھی خدمات حاصل کی گئیں۔ گیت  ’دل کے تار بجے‘ کو جواد احمد اور آشا بھوسلے نے گنگنایا۔

جواد احمد کا کہنا ہے کہ گانے کی ریکارڈنگ کے دوران ایک لفظ کی ادائیگی پرجب آشا بھوسلے کو انہوں نے کہا یہ اسے ایسے نہ گائیں تو آشا بھوسلے نے ابتدا میں انکار کردیا۔ لیکن جب ریکارڈنگ مکمل ہوئی اور گانا سنا گیا تو آشا بھوسلے نے اعتراف کیا کہ جواد احمد بالکل درست کہہ رہے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ آشا بھوسلے نے دوبارہ اس گیت کو ویسے ہی ریکارڈ کروایا جیسا جواد احمد چاہتے تھے۔ یہ گانا فلم میں ہمایوں سعید اور انڈین اداکارہ نوشین علی سردار پر عکس بند کیا گیا۔ جواد احمد کے مطابق اتنی بڑی گلوکارہ ہونے کے باوجود آشا بھوسلے میں انکساری رہتی اور وہ موسیقاروں کی بات کو اہمیت دیتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی گلوکاروں اور موسیقاروں کو خراج عقیدت

2005 میں آشا بھوسلے نے پاکستانی موسیقاروں اور گلوکاروں کو خراج تحسین  پیش کرنے کے لیے البم ’آشا بھوسلے آ برینڈ نیو البم‘ پیش کیا۔ اس البم کے مشہور نغموں اور غزلوں میں آج جانے کی ضد نہ کرو، سرکتی جائے ہے، آوارگی، دل میں ایک لہر، رفتہ رفتہ، مجھے تم نظر سے اور چپکے چپکے نمایاں ہیں۔

یہ وہ تخلیقات تھیں جو مہدی حسن، فریدہ خانم اور غلام علی گا چکے تھے جنہیں آشا بھوسلے نے اپنے انداز میں پھر سے گنگنایا۔ اس البم کی غزل ’آج جانے کی ضد نہ کرو‘ میوزک چینل کی ٹاپ چارٹ پر طویل عرصے تک نمایاں رہی۔

عدنان سمیع کو قیمتی مشورہ

گلوکار عدندن سمیع خان کی 1995 میں جب فلم ’سرگم‘ نمائش پذیر ہوئی تو اس تخلیق میں آشا بھوسلے اور عدنان سمیع کے گائے ہوئے گانے جیسے ذرا ڈھولکی بجاؤ، کیا ہے یہ الجھن کیا ہے اور پیار بنا جینا نہیں جینا زبان زد عام ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قدر مقبولیت کے باوجود عدنان سمیع خان کچھ عرصے بعد ہی گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ عدنان سمیع خان کہتے ہیں کہ 1997 میں ان کا ایک البم ’بدلتے موسم‘ لندن سے ریلیز ہوا لیکن اس کے گانے ہٹ نہ ہوسکے۔

اسی عرصے میں انہوں نے آشا بھوسلے سے رابطہ کرتے ہوئے فرمائش کی وہ ان کے ساتھ ایک البم کرنا چاہتے ہیں جو لندن سے ہی ریلیز ہو گا۔ تب آشا بھوسلے نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ لندن کے بجائے اپنی البم کےلیے انڈیا کا رخ کریں کیوں کہ ممبئی موسیقی کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔

عدنان سمیع خان کے مطابق وہ آشا بھوسلے کے مشورے کو تسلیم کرتے ہوئے انڈیا آئے اور پھر جلد ہی انہوں اپنی اس البم کی نئے سرے سے مارکیٹنگ کی تو وہ راتوں رات کامیاب ہو گئے بلکہ اسی البم کے ذریعے عدنان سمیع خان کو بالی وڈ میں قدم جمانے کا موقع ملا۔ اس البم میں آشا بھوسلے اور عدنان سمیع خان نے کئی گانے گائے تھے لیکن اس البم کا ایک گیت ’کبھی تو نظر ملاؤ‘ سب سے زیادہ مشہور ہوا۔

نصرت فتح علی خان کی پسندیدہ گلوکارہ

ایک مرتبہ استاد نصرت فتح علی خان سے ٹی وی انٹرویو کے دوران مستنصرحسین تارڑ نے دریافت کیا کہ ان کے تو دنیا بھر میں مداح ہیں وہ خود کن گلوکاروں کو پسند کرتے ہیں تو استاد نصرت فتح علی خان نے برملا کہا کہ ملکہ ترنم نور جہاں، لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ استاد نصرت فتح علی خان کی ترتیب دی ہوئی موسیقی میں تیار فلم ’اور پیار ہو گیا‘ میں آشا بھوسلے کو بھی نغمہ سرائی کا موقع مل چکا ہے۔ 1997 میں نمائش پذیر ہونے والی اس فلم میں آشا بھوسلے نے 2 گیت جاگی ہوئی فضائیں ہیں ترے لیے اور تھوڑا سا پگلا تھوڑا دیوانہ گایا تھا۔

بالی وڈ کی عظیم گلوکارہ آشا بھوسلے کی منگل 14 اپریل کو ممبئی میں آخری رسومات ادا کی گئیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ