عرب میڈیا میں پاکستان کی نامکمل تصویر

پاکستان کو پیش کرنے کے زاویے زیادہ تر سکیورٹی معاملات، سیاسی عدم استحکام یا علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے 18 اپریل 2026 کو ایوان صدر کے سامنے قومی پرچم لگائے گئے ہیں (روئٹرز)

گذشتہ تقریبا 25 برس سے عرب اور پاکستانی میڈیا کا مسلسل جائزہ لینے کے بعد ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ پاکستان عرب میڈیا میں دکھائی تو دیتا ہے، مگر شاذ ونادر ہی اس انداز میں کہ اس کی مکمل اور متوازن تصویر ابھر کر سامنے آ سکے۔

یہ مسئلہ نہ تو محض عدم موجودگی کا ہے، اور نہ ہی اسے سراسر غلط بیانی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان موجود ہے، مگر اسے پیش کرنے کا عمل عموماً چند مخصوص زاویوں تک محدود رہتا ہے۔

یہ زاویے زیادہ تر سکیورٹی معاملات، سیاسی عدم استحکام یا علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سب پہلو اپنی جگہ درست ہیں، مگر مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ نتیجتاً، وقت کے ساتھ ایک ایسا تاثر قائم ہوتا ہے جو جزوی، بکھرا ہوا اور اکثر منفی رجحان لیے ہوتا ہے۔

پاکستان عموماً انہی مواقع پر نمایاں ہوتا ہے جب کوئی بحران جنم لے، سیاسی تبدیلی رونما ہو، یا خطے میں کوئی جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ آئے۔ جیسے ہی یہ حالات معمول پر آتے ہیں، پاکستان بھی خبروں کے دائرے سے باہر ہو جاتا ہے۔ معاشی حوالے سے کچھ کوریج ضرور ملتی ہے، بالخصوص خلیجی ممالک میں پاکستانی محنت کشوں اور ترسیلات زر کے تناظر میں، مگر یہ بھی ایک جامع بیانیہ تشکیل دینے میں ناکام رہتی ہے۔ یوں ایک مربوط تصویر کے بجائے منتشر تاثرات کا مجموعہ سامنے آتا ہے۔

یہ صورت حال اتفاقی نہیں۔ میڈیا کا اپنا ایک فطری میکانزم ہوتا ہے، جو پیچیدہ حقائق کو سادہ اور قابلِ فہم قالب میں ڈھال دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی قالب مستقل بیانیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ترکی کو ایک فعال اور پرعزم سیاسی قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایران کو ایک طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبے کے طور پر، جبکہ بھارت کی شناخت بڑھتی ہوئی معیشت، تکنیکی ترقی اور عالمی انضمام سے جڑی ہوئی ہے۔

اس کے برعکس، پاکستان کے لیے ایسا کوئی واضح اور مستحکم بیانیہ تشکیل نہیں پا سکا۔ اس کی موجودگی اب بھی واقعات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، تسلسل کے ساتھ نہیں۔ وہ نظر آتا ہے، مگر ایک مکمل کہانی کی صورت اختیار نہیں کر پاتا۔

یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ کیا مسئلہ صرف یہ ہے کہ عرب میڈیا پاکستان کو بہتر انداز میں پیش نہیں کر رہا، یا یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے خود کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ اسے بحرانوں سے ہٹ کر بھی سمجھا جا سکے؟

حقیقت یہ ہے کہ میڈیا عموما بیانیے ازخود تخلیق نہیں کرتا، بلکہ موجود عناصر کو ترتیب دے کر نمایاں کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس بنیادی وسائل کی کمی نہیں۔ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع، اس کی پیچیده سیاسی تاریخ، اور عرب دنیا کے ساتھ اس کے گہرے اور دیرینہ تعلقات سب موجود ہیں۔ مگر یہ عناصر ایک مربوط اور قابلِ ترسیل بیانیے میں ڈھل نہیں پاتے۔ مسئلہ مواد کی کمی کا نہیں، بلکہ اس کے مؤثر اظہار اور ترتیب کا ہے۔

یہ فرق انڈیا کے ساتھ تقابل میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں انڈیا نے نہ صرف معاشی میدان میں وسعت اختیار کی بلکہ اس بات پر بھی بھرپور توجہ دی کہ عالمی سطح پر اس کی تصویر کیسے پیش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش سرکاری بیانیے تک محدود نہیں رہی بلکہ ثقافت، تعلیم اور میڈیا تک پھیلی۔ بالی ووڈ نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا، جس نے عرب دنیا میں انڈیا کو ایک مانوس شناخت دی، خواہ مکمل فہم نہ بھی ہو۔

پاکستان اس نوعیت کی پیش رفت میں پیچھے رہا ہے۔ عرب میڈیا میں اس کی ثقافتی اور فکری موجودگی محدود ہے، جس کے باعث اسے زیادہ تر ایک جغرافیائی سیاسی موضوع کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ایک ایسے معاشرے کے طور پر جس میں گہرائی، تسلسل اور تنوع پایا جاتا ہو۔

یہ خلا اس وقت اور نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد پر نظر ڈالتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں آباد ہیں اور روزمرہ زندگی میں ایک مضبوط انسانی ربط قائم رکھے ہوے  ہیں۔ اس کے باوجود، ان کی زندگیوں سے کوئی وسیع اور نمائندہ بیانیہ تشکیل نہیں پاتا۔ یوں موجودگی کے باوجود نمائندگی کا فقدان برقرار رہتا ہے۔

یہی عدم توازن ابلاغ کے میدان میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ دیگر علاقائی ممالک عرب عوام سے براہِ راست رابطہ رکھتے ہیں، عربی زبان کے پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل میڈیا اور مخصوص حکمت عملیوں کے ذریعے۔ ان کی پیغام رسانی مکمل طور پر یکساں نہ بھی ہو، مگر تسلسل اور رسائی ضرور رکھتی ہے۔

اس کے برعکس، پاکستان کی بیرونی ابلاغی حکمتِ عملی زیادہ تر ردِعمل پر مبنی ہے۔ وہ حالات کا جواب دیتا ہے، وضاحت کرتا ہے اور پہلے سے قائم بیانیوں کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قلیل مدت میں یہ حکمتِ عملی مؤثر ہو سکتی ہے، مگر طویل مدت میں اس کی حدود واضح ہو جاتی ہیں۔ ردِعمل پر مبنی آواز خود بیانیہ تشکیل نہیں دیتی، بلکہ اس کے ساتھ چلتی ہے، اور بعض اوقات اسی کو تقویت بھی دیتی ہے۔

اس کے اثرات محض سطحی نہیں ہوتے۔ جب کسی ملک کو بار بار محدود موضوعات کے ذریعے پیش کیا جائے تو یہ تاثر رفتہ رفتہ مستحکم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مضبوط تعلقات بھی محدود زاویوں سے سمجھے جانے لگتے ہیں۔ پاکستان اور عرب دنیا کے تعلقات تاریخی طور پر گہرے اور اہم ہیں، مگر انہیں اکثر سکیورٹی یا لین دین کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ایک وسیع اور ارتقا پذیر شراکت داری کے طور پر۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج کے دور میں سافٹ پاور کسی بھی ملک کی جغرافیائی سیاسی حیثیت کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے ماحول میں جو ممالک اپنی شناخت واضح انداز میں پیش نہیں کرتے، ان کی شناخت خود بخود تشکیل پا جاتی ہے۔ اور یہ شناخت عموماغیر متوازن ہوتی ہے، کیوں کہ یہ زیادہ تر انہی لمحات پر مبنی ہوتی ہے جو سب سے زیادہ نمایاں اور ہنگامہ خیز ہوتے ہیں۔

مزید برآں، میڈیا کا منظرنامہ بھی بنیادی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اب صرف روایتی میڈیا ہی رائے عامہ تشکیل نہیں دیتا۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، الگوردم پر مبنی رسائی، اور مواد کے منتشر ماحول نے اس عمل کو مزید پیچیده بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں وہ بیانیے جو لسانی اور ثقافتی سطح پر منتقل نہیں ہوتے، وسیع سطح پر اثر انداز ہونے میں دشواری کا شکار رہتے ہیں۔

یہ تمام پہلو اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی ہے۔ بنیادی عناصر موجود ہیں۔ تاہم، وہ کہانی جو تسلسل کے ساتھ بیان نہ کی جائے، اس کا مقابلہ اس کہانی سے نہیں ہو سکتا جو مسلسل بیان کی جا رہی ہو۔

لہٰذا ضرورت وقتی اقدامات کی نہیں، بلکہ مستقل مزاجی کی ہے۔ ایک ایسا مربوط بیانیہ درکار ہے جو پالیسی، ثقافت اور عوامی ابلاغ کو ایک واضح سمت میں یکجا کر سکے۔ اس کے لیے کردار کی واضح تعریف، پیغام میں تسلسل، اور محض ردِعمل سے آگے بڑھ کر فعال پیش قدمی ناگزیر ہے۔

ابتدا ایک بنیادی سوال سے ہوتی ہے۔ پاکستان عرب دنیا میں خود کو کس حیثیت سے پیش کرنا چاہتا ہے؟ ایک سکیورٹی شراکت دار، ایک اسٹریٹجک پل، یا ایک ایسا سیاسی کردار جو استحکام میں حصہ ڈالتا ہے؟ جب تک اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا جاتا، محض نظر آنا کافی نہیں ہوگا۔

آخر میں، ممالک کو صرف ان کے اقدامات کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاتا، بلکہ اس بات پر بھی کہ وہ اپنے اقدامات کو کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کی کہانی موجود ہے، مگر جب تک اسے تسلسل، گہرائی اور وسعت کے ساتھ بیان نہیں کیا جاتا، وہ نظر تو آئے گی، مگر پوری طرح سمجھی نہیں جا سکے گی۔

ڈاکٹر طلحہ كشمیری جغرافیائی سیاست، پاک عرب تعلقات اور جنوبی ایشیا کے امور پر تجزیاتی مضامین قلم بند کرتے ہیں۔ اردو اور عربی زبان وادب سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ 

ڈاکٹر طلحہ كشمیری جغرافیائی سیاست، پاک عرب تعلقات اور جنوبی ایشیا کے امور پر تجزیاتی مضامین قلم بند کرتے ہیں۔ اردو اور عربی زبان و ادب سے ان کی گہری وابستگی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر