’دنیا کے پہلے ناول‘ کا گمشدہ باب مل گیا

مراساکی شکیبو کے 11ویں صدی میں مرتب کیے گئے ناول ’دی ٹیل آف گینجی‘ کے اس گمشدہ باب کا مسودہ ٹوکیو کے ایک سابق جاگیردار کے گھر سے ملا۔

10 جون 2007  کی اس تصویر میں جاپانی شہر اوستو میں واقع اشیاما ڈیرہ مندر پر ’دی ٹیل آف گینجی‘ کو تصویری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ (اے ایف پی)

دنیا کا پہلا ناول تصور کی جانے والی کتاب کا گمشدہ حصہ آخرکار ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

جاپان کے سرکاری اخبار اساہی شمبن کے مطابق کتاب کا یہ مسودہ ٹوکیو کے ایک سابق جاگیردار کے گھر سے ملا ہے۔

’دی ٹیل آف گینجی‘ نامی یہ ناول مصنفہ مراساکی شکیبو نے 11ویں صدی میں مرتب کیا تھا جبکہ اسے تحریر کرنے والی مصنفہ جاپانی دربار میں ملازمہ تھیں۔

یہ کتاب گینجی نامی ایک شہزادے کی کہانی ہے جو مصنفہ کی ہم نام مراساکی نامی ایک خاتون سے ملنے کے بعد اس سے شادی کر لیتا ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق ماہرین نے اس مسودے کے اصلی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس مسودے کی لمبائی آٹھ اعشاریہ چھ انچ جبکہ چوڑائی پانچ اعشاریہ چھ انچ بتائی جا رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دی ٹیل آف گینجی کا کوئی اصل مسودہ باقی نہیں بچا لیکن باقی مصنفوں نے اس کی کہانی کو بیان کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق حال ہی میں سامنے آنے والا مسودہ جاپانی مصنف فوجیوارہ نوتیکا نے لکھا ہے۔ تیکا کے لکھے گئے مسودے اس ناول کے سب سے قدیم دستیاب نسخے مانے جاتے ہیں۔

تیکا کے تحریر کردہ چار اور باب بھی ماضی میں تلاش کیے جا چکے ہیں۔

کیوٹو یونیورسٹی میں ایڈوانسڈ سائنس کی پروفیسرجنکو یاماموٹو نے اساہی شمبن کو بتایا کہ حال ہی میں تلاش کیے جانے والے باب کی تیکا کے دور سے ڈھائی سو سال بعد ترتیب دیے جانے والے مسودوں کی مدد سے مکمل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

انہوں نے اخبار کو بتایا کہ: ’یہ بہت اہم پیش رفت ہے کہ تیکا کے لکھے گئے مسودے محققوں کو تحقیق کے لیے دستیاب ہوں گے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ادب