امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ: رپورٹ

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج بروز ہفتہ سوئٹزرلینڈ جائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے سے وہاں موجود ہیں۔

امریکہ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد، پاکستان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے (جیکولین مارٹن/ رائٹرز)

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کو وہاں جائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایکسیوس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی سے ایران کے عبوری جنگی معاہدے کو پائیدار علاقائی معاہدے میں بدلنے کی کوششیں بحال ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث امریکہ اور ایران کے ان مذاکرات پر شکوک پیدا ہوگئے تھے، جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تیل کی ترسیل کو مستحکم کرنے کے لیے انتہائی اہم تھے۔ تاہم بعدازاں دونوں نے جمعے کو لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔

یہ پیش رفت اس 14 نکاتی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے بعد سامنے آئی جس پر دونوں فریقوں نے اس ہفتے دستخط کیے۔ اس یادداشت کا مقصد لڑائی کو روکنا اور 60 دن کی مہلت دینا تھا تاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور ایک زیادہ پائیدار معاہدہ طے کرنے کے لیے ضروری دیگر پیچیدہ مسائل پر تنازعات کو حل کیا جا سکے۔

لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ منسوخ کر دیا تھا۔

ایکسیوس نے بتایا کہ جنگ بندی ہونے کے بعد سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ نیوز ویب سائٹ نے مزید بتایا کہ عباسی عراقچی کا ہفتے کو وہاں جانے کا ارادہ ہے۔

اس پیش رفت سے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ دونوں فریق مستقل جنگ بندی کے لیے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے سٹیو وٹکوف کے سفر کے حوالے سے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد لبنان میں شام چار بجے (1300 جی ایم ٹی) کے قریب جنگ بندی نافذ ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے یہ معاہدہ طے کیا ہے۔

حزب اللہ کے دو ذرائع اور ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے جنگ بندی کی تصدیق کی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

دوسری جانب اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ’اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی، تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجیں برقرار رکھے گا، جہاں اس نے اپنی شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

لبنان کے دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے گھنٹے میں درجن بھر فضائی حملے کیے لیکن شام پانچ بجے کے بعد کوئی حملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

مشکل مسائل اب بھی حل طلب

بدھ کو مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد، سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی تفریحی مقام برگن سٹاک میں تکنیکی مذاکرات کی تیاریاں کافی حد تک مکمل ہو چکی تھیں، جب وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ جے ڈی وینس اس میں شرکت نہیں کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوئس وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ ان میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور ابتدائی کام جاری ہے۔

اس وسیع تر عبوری معاہدے کا تقاضا ہے کہ امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں۔

مذاکرات سے باہر رکھے گئے اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت نے بتایا کہ عباس عراقچی نے جمعے کو اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کہا کہ لبنان میں لڑائی کے خاتمے سمیت معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی کسی بھی خلاف ورزی کا ذمہ دار امریکہ ہوگا۔

ٹرمپ کا عبوری معاہدے کا دفاع

ایران جنگ، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی، میں کم از کم 7000 افراد جان سے گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران اور لبنان سے ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی۔

اس مفاہمت کی یادداشت میں ایران کے لیے اقتصادی پابندیوں میں نرمی، اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی بحالی اور اس کے تیل کی برآمدات کے لیے فوری امریکی چھوٹ کی توقع کی گئی ہے۔ یہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ اور دیگر مالی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔

نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل زیادہ تر امریکیوں میں غیر مقبول جنگ کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ رعایتیں دینے کے حوالے سے کانگریس میں رپبلکن اتحادیوں سمیت واشنگٹن میں ہونے والی تنقید کے بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے کا دفاع کیا۔

انہوں نے جمعے کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’جنگ نے ایران کو کمزور کر دیا ہے۔ ہم نے مایوسی کی حالت میں ملاقات نہیں کی۔ ایران نے کی ہے۔ وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ہم 60 دن پورے کریں گے۔ انہیں کوئی پیسہ نہیں ملے گا، 10 سینٹ بھی نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا