ایران کو دیگر ممالک کی طرح بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق ہے: پاکستان

شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ ان مذاکرات میں کبھی ایجنڈے پر شامل ہی نہیں تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے کسی قسم کے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور ایران کو بھی دیگر ممالک کی طرح حق حاصل ہے کہ وہ بیلسٹک میزائل رکھے۔

انہوں نے یہ گفتگو اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں کی جو اعلیٰ سطی وفد کے ہمراہ ایک روزہ مختصر دورے پر آج پاکستان پہنچے۔

فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل سے شروع ہونے والے تنازعے کے بعد صدر پزشکیان پہلی مرتبہ پاکستان آئے ہیں۔

پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات نے نور خان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

صدرپزشکیان کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد بھی ہوا۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کے وفود میں تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔

وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں کیونکہ یہ مسئلہ ان مذاکرات میں کبھی ایجنڈے پر شامل ہی نہیں تھا۔

شہباز شریف نے بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر پزشکیان کو ’ایران جیسے عظیم ملک کے دوراندیش اور دانش مند رہنما‘  قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا ’یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ یہ جنگ ختم ہو گئی، جو پورے خطے بلکہ اس سے بھی آگے تک اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور ایران ’محض ہمسائے نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں‘ اور دونوں ممالک مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافت کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا ’ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ہے اور ایران کا نقصان ہمارا نقصان ہے۔‘

شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ ’ایران کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے‘ آئندہ ہفتے ایران کا دورہ کری گے۔

شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک دیرپا امن حاصل نہ ہو جائے۔

’ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کردار جاری رکھیں جب تک ایک مستقل اور دیرپا امن قائم نہ ہو جائے۔‘ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو بھی سراہا۔

وزیراعظم نے ایرانی عوام کے اتحاد اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے قابل تحسین قرار دیا۔

’علاقائی امن اور استحکام صرف مخلصانہ مذاکرات سے ممکن‘

صدر پزشکیان نے پریس کانفرنس سے گفتگو میں کہا ’ایران کے میزائل مفاہمتی یادداشت کا حصہ تھے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایران کبھی بھی کسی ملک کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات نہیں کرے گا اور اس کا پختہ یقین ہے کہ علاقائی امن اور استحکام صرف مخلصانہ مذاکرات اور خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ’محض ایک دوسرے کے ہمسائے نہیں بلکہ اپنی بیشتر خواہشات، خدشات اور امیدوں میں ایک مشترکہ تقدیر رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، خیرسگالی اور تاریخی اعتماد کی بنیاد پر مضبوط ہوئے ہیں اور حالیہ پیش رفت نے اس قیمتی اثاثے کو ایک بار پھر مزید مستحکم کیا ہے۔

’ایک نازک تاریخی موڑ پر جب خطہ متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، پاکستان کا مذاکرات اور بات چیت کی حمایت میں ذمہ دارانہ اور دوراندیش کردار علاقائی کشیدگی میں کمی اور استحکام کو مضبوط بنانے کی ایک واضح مثال ہے، جو اس کے خطے کے بارے میں برادرانہ اور مستقبل بین سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

انہوں نے امن کے عمل میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کے علاوہ قطر، ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں علاقائی صورت حال اور امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے خطے میں مکالمے، کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل جغرافیائی و سیاسی حالات میں تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی ہم آہنگی کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔

اس موقعے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

صدر زرداری سے ملاقات

صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے موقعے پر کہا کہ پاکستان ایران کے امن کے اصولی حمایت کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملاقات کے حوالے سے ایوان صدر نے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن و سلامتی، دوطرفہ اور علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

صدر زرداری نے کہا یہ دورہ ’دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا مظہر ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ’ہمیشہ یک طرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور علاقائی و عالمی چیلنجز کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان