کراچی کے رہائشی علی مرتضیٰ جمیل 24 جون کو اپنی اہلیہ عائشہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ سیر کے لیے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے۔
علی کے والد محمد جمیل کے مطابق ’علی اس سے پہلے بھی کئی ممالک کی سیر کر چکے تھے اور اس سفر کے لیے بھی اتنے ہی پُرجوش تھے۔
’کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔‘
انہوں نے بتایا ’جمعے کی شب علی اور ان کی فیملی کراچی واپسی کے لیے نکلی۔ راستہ تلاش کرنے کے لیے گوگل میپ کا سہارا لیا گیا مگر ایک غلط سمت انہیں مستونگ کے علاقے دشت تک لے گئی۔
’چند لمحے پہلے تک جو سفر خوشیوں، قہقہوں اور سیاحت کے خوابوں سے بھرا تھا، وہ اچانک خوف اور دہشت میں بدل گیا۔‘
محمد جمیل کے مطابق’ دشت میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں علی مرتضیٰ جمیل موقعے پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کی اہلیہ عائشہ زخمی ہو گئیں‘۔
ان کے مطابق اس وقت گاڑی میں موجود دو کمسن بیٹیاں جسمانی طور پر تو محفوظ رہیں مگر ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد کو قتل ہوتے دیکھنے کا صدمہ ان کے دل و دماغ پر ایسے زخم چھوڑ گیا ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکیں۔ ایک لمحے میں ان کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔
والد محمد جمیل بتاتے ہیں راستے میں دوستوں نے انہیں رک جانے کا مشورہ بھی دیا تھا کیونکہ حالات معمول کے مطابق نہیں تھے مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جہاں موت ان کی منتظر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ علاقہ واقعی حساس یا ممنوع تھا تو مسافروں کو آگاہ کرنے کے لیے سکیورٹی ناکے موجود ہونے چاہیے تھے، جیسا دنیا بھر میں خطرناک علاقوں کے داخلی راستوں پر کیا جاتا ہے۔
محمد جمیل کے مطابق ان کا بیٹا صرف گوگل میپ کی رہنمائی پر سفر کر رہا تھا اور غلطی سے کچے راستے پر چلا گیا۔
ان کے بقول انہیں روک کر محفوظ راستے کی طرف واپس بھیجنے کی بجائے گاڑی پر براہ راست فائرنگ کر دی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا فائرنگ کے بعد جب حملہ آور گاڑی کے قریب پہنچے اور دیکھا اندر ایک خاندان، خواتین اور کمسن بچیاں موجود ہیں تو وہ موقع سے فرار ہو گئے، شاید اس خوف سے کہ سکیورٹی فورسز کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں۔
محمد جمیل کی آواز اس وقت بھر آتی ہے جب وہ بتاتے ہیں کہ ان کی بہو اور پوتیاں تقریباً سات گھنٹے بے یار و مددگار اس مقام پر موجود رہیں۔
ان کے مطابق صبح پانچ سے چھ بجے تک وہ اسی حالت میں تھیں۔
’میرے بچوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ہولناک منظر دیکھا، ذرا سوچیں ان کے دل و دماغ پر کیا گزری ہو گی۔ اگر بروقت ریسکیو ہو جاتا تو شاید میرا بیٹا بچ جاتا یا کم از کم ہمیں اتنا بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔‘
فائرنگ کے بعد زخمی حالت میں عائشہ نے علی کی والدہ کو آخری کال کی۔
محمد جمیل کے مطابق اس نے روہانسی آواز میں کہا ’علی نہیں رہے، امی ابو! اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے معاف کر دیجیے۔
’میری حالت بہت خراب ہے، شاید میں نہ بچ سکوں۔ میرے سر اور جسم پر گولیاں لگی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ عائشہ کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بے ہوش ہونے والی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی کمسن بیٹی کو ہدایت دی کہ اگر وہ ہوش کھو دے تو فلاں شخص کو فون کر دینا۔
محمد جمیل کہتے ہیں وہ اپنی وصیت تک کرنے لگی تھی۔ ’ذرا سوچیں، اس لمحے اس کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک باپ کے لیے اس صدمے کو قبول کرنا آج بھی ناممکن ہے۔
محمد جمیل کہتے ہیں ’میں روزانہ کئی بار اپنے بیٹے سے بات کرتا تھا۔ دو گھنٹے پہلے بات ہوئی تھی اور پھر اچانک خبر ملی کہ اسے گولی مار دی گئی۔
’اپنے ہاتھوں سے دفنانے کے بعد بھی یقین نہیں آتا۔ پوری رات فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا کہ شاید اس کی کال آئے اور وہ کہے ’میں آ رہا ہوں۔‘
انہوں نے بتایا ’عائشہ اب خطرے سے باہر ہیں، تاہم گولی اب بھی ان کے جسم میں موجود ہے۔ دوسری طرف دونوں بچیاں شدید ذہنی صدمے سے گزر رہی ہیں۔
’کبھی کہتی ہیں بابا کو گولی لگ گئی، کبھی معصومیت سے کہتی ہیں بابا کو انجیکشن لگا دو، وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔
’وہ بار بار پوچھتی ہیں، بابا کہاں ہیں؟ اور گھر والے صرف اتنا کہہ پاتے ہیں، ابھی آ جائیں گے۔‘
محمد جمیل کا کہنا ہے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط تصاویر اور بے بنیاد باتیں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
ان کے مطابق ان افواہوں اور تصاویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے بغیر تصدیق کے کچھ بھی شیئر نہ کیا جائے۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ نے زخمی عائشہ کے علاج اور خاندان کو ایئرپورٹ تک پہنچانے میں مدد فراہم کی، جس پر وہ شکر گزار ہیں۔
ان کے بقول ریسکیو اور طبی امداد ان کی ذمہ داری تھی اور انہوں نے وہ کام انجام دیا، تاہم اس کے علاوہ کوئی خاص مدد انہیں نہیں ملی۔