پاکستان نے بدھ کو افغانستان میں ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر انڈین وزارت خارجہ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
پاکستان نے 28 اور 29 جون کو افغانستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، البتہ افغان طالبان حکومت نے الزام لگایا کہ ان حملوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کی خودمختاری کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان، انڈین وزارتِ خارجہ کے اُس بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے کے خلاف پاکستان کی جائز، ہدفی اور متناسب کارروائیوں پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ یہ ’مضحکہ خیز‘ بیان ایک ایسے ملک کی جانب سے آیا ہے جس نے ’ماضی میں مسلسل اپنے ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی۔
’یہی ملک مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بھی دبا رہا ہے، جو متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی بھی کرتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعلقہ پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی ہے۔‘
پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ’ٹی ٹی پی‘ اور دیگر پاکستان مخالف عسکریت پسند تنظیموں کی انڈیا مبینہ طور پر معاونت کرتا رہا ہے، تاہم نئی دہلی اس کی تردید کرتا ہے۔
ترجمان طاہر انداربی نے بیان میں کہا کہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کے خلاف اس کے ’بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔‘
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے شہریوں کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
افغانستان کی طالبان حکومت نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستانی علاقے میں فضائی حملے کیے، جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں چار ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
پاکستان افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں کیوں کہ اسلام آباد کا یہ کہنا ہے کہ افغانستان میں ایسے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں پر پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں تاہم افغان طالبان اس موقف کا مسترد کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔