سی ایس ایس امتحان، بھرتیاں اور ترقیاں: مجوزہ سول سروس اصلاحات میں کیا شامل ہے؟

سول سروس کے نظام میں اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کے رکن اسد عمر کے مطابق: ’گذشتہ 20 برس سے سول سروس اصلاحات پر گفتگو اور بحث جاری ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ان اصلاحات کو عملی شکل دی جائے۔‘

سی ایس ایس کی مفت تیاری کروانے والے سکھر کے پروفیسر غلام حسین منگن ہار 18 جولائی، 2022 کو کلاس میں موجود (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں سول سروس کے نظام میں دو دہائیوں سے زیر بحث اصلاحات کو بالآخر عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں جاری ہیں اور سی ایس ایس امتحان سے لے کر بھرتی اور ترقی کے پورے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔

پاکستان میں سول سروس کے نظام میں اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی نے تقریباً 15 اجلاسوں کے بعد 46 سفارشات مرتب کی ہیں، جن میں سے 43 پر وسیع اتفاقِ رائے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے سابق رہنما اسد عمر، جو کمیٹی کا حصہ ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’گذشتہ 20 برس سے سول سروس اصلاحات پر گفتگو اور بحث جاری ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ان اصلاحات کو عملی شکل دی جائے۔‘

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت کثیرالجماعتی مشاورتی اجلاس میں ان سفارشات پر غور کیا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

مجوزہ اصلاحات میں سی ایس ایس امتحان، بھرتی، افسران کی ترقی، تربیت اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے متعلق متعدد تبدیلیاں شامل ہیں۔

سفارشات کے مطابق سی ایس ایس کے امیدواروں کو مضمون نویسی، خلاصہ نویسی، اسلامیات، پاکستان سٹڈیز اور کرنٹ افیئرز سمیت لازمی مضامین کا امتحان اردو یا انگریزی میں سے کسی ایک زبان میں دینے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔

تاہم سرکاری امور کے لیے انگریزی زبان کی عملی صلاحیت برقرار رکھنے کی شرط بھی تجویز کی گئی ہے۔

ابتدائی امتحان میں کامیابی کی حد 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے، منفی نمبر ختم کرنے اور امیدواروں کی تجزیاتی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے سوالات کا نیا طریقہ متعارف کروانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

سول سروس میں بھرتی کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور درخواست سے حتمی تقرری تک کا عمل چھ ماہ یا اس سے کم مدت میں مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مختلف شعبوں کے لیے متعلقہ تعلیم اور مہارت رکھنے والے افسران مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جن میں قانون، انجینیئرنگ، سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، توانائی، زراعت، تعلیم اور صحت جیسے شعبے شامل ہیں۔

مجوزہ اصلاحات میں قومی انتظامی سروس قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اس کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کی بعض وفاقی نشستوں پر نجی شعبے اور جامعات سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مقابلے کا موقع دینے کی تجویز ہے۔

 ان عہدوں پر پانچ سالہ معاہدے اور کارکردگی کی بنیاد پر تقرری کی بات کی گئی ہے، تاہم پولیس اور خارجہ سروس کو اس نظام سے باہر رکھنے کی تجویز ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افسران کی ترقی کو سینیارٹی کے بجائے کارکردگی اور اہلیت سے جوڑنے، وزارتوں کے لیے واضح اہداف مقرر کرنے اور سال میں دو مرتبہ کارکردگی کا جائزہ لینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کے لیے اضافی مالی مراعات کی تجویز بھی شامل ہے۔

تربیتی نظام میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جن میں گریڈ 17 سے 20 تک افسران کی شعبہ جاتی تربیت، قومی انتظامی کورس کا دورانیہ 18 سے کم کر کے 10 ہفتے کرنا اور موجودہ تربیتی اداروں کو ضم کر کے قومی جامعہ برائے انتظامِ عامہ قائم کرنا شامل ہے۔

سفارشات میں بلوچستان، سندھ، اقلیتوں اور خواتین کے لیے مختص نشستیں خالی رہنے کی صورت میں اضافی امتحانی مواقع سمیت خصوصی اقدامات کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق اصلاحات کا مقصد سول سروس کو زیادہ ماہر، میرٹ پر مبنی، جواب دہ اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

حکومت نے اس مقصد کے لیے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اور برطانیہ کے سول سروس نظام کا بھی جائزہ لیا ہے۔

حکومتی منظوری کے بعد اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دینے اور تقریباً 120 دن میں ہدف مکمل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

فی الحال یہ تمام تجاویز مجوزہ اصلاحات کا حصہ ہیں اور ان کے حتمی نفاذ کے لیے حکومتی منظوری اور باقاعدہ نوٹیفکیشن ضروری ہوگا۔

سی ایس ایس کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے لیے فی الحال اہم بات یہ ہے کہ سی ایس ایس ختم کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، بلکہ موجودہ امتحانی اور بھرتی کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیاں لانے پر غور کیا جا رہا ہے اور اردو میں امتحان، 40 فیصد پاسنگ حد اور منفی نمبر کے خاتمے جیسی تبدیلیاں اسی وقت حتمی تصور ہوں گی، جب حکومت باقاعدہ منظوری کے بعد ان کا اعلان کرے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان