عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم پر زندگی گزارنے والے افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
افغانستان، شام اور یمن مجموعی طور پر خطے میں اسی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے مزید 47 فیصد افراد کا حصہ ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ MENAAP میں انتہائی غربت کا بڑا حصہ چند ممالک میں مرکوز ہے۔
یہ اعداد و شمار عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ Middle East, North Africa, Afghanistan and Pakistan Economic Update: From Divide to Opportunity — AI, Jobs, and Growth میں سامنے آئے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
عالمی بینک کے مطابق 2000 اور 2010 کی دہائیوں میں MENAAP میں غربت میں نمایاں کمی ہوئی تھی، تاہم تقریباً 2019 میں یہ پیش رفت رک گئی اور کورونا وبا کے بعد غربت میں دوبارہ اضافہ شروع ہوگیا۔
MENAAP اب دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے اور عالمی رجحان کے برعکس اس میں اضافہ جاری ہے۔ 2024 میں خطے کی 14.3 فیصد آبادی یومیہ تین ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 10.4 فیصد تھی۔
یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والوں کی شرح MENAAP میں 26.9 فیصد تھی، جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح 18.9 فیصد رہی۔
پاکستان میں غربت میں نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستان میں غربت بڑھی۔ اس عرصے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والوں کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس، جبکہ یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدن والوں کی شرح میں 3.2 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔
عالمی بینک نے اس صورت حال کی وجہ یکے بعد دیگرے آنے والے منفی معاشی اور قدرتی دھچکوں کو قرار دیا، جن میں کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، زیادہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی سے پیدا ہونے والا معاشی بحران اور طویل اقتصادی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان عوامل نے گھرانوں کی حقیقی آمدن اور روزگار کے مواقع کو کمزور کیا، جس کے نتیجے میں غربت بڑھی۔
دنیا کے انتہائی غریب افراد میں MENAAP کا حصہ 14 فیصد
عالمی بینک کے تازہ تخمینوں کے مطابق دنیا کے 14 فیصد انتہائی غریب افراد MENAAP میں رہتے ہیں اور اس حوالے سے یہ خطہ صرف سب صحارا افریقہ سے پیچھے ہے۔
تاہم غربت کا بوجھ چند ممالک میں بہت زیادہ ہے۔ خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم پر زندگی گزارنے والے افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں ہیں، جبکہ افغانستان، شام اور یمن کا مجموعی حصہ مزید 47 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق تازہ ترین تخمینوں میں جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں یومیہ 3 ڈالر کی غربت کی لکیر پر غربت کی شرح 20 فیصد کے قریب یا اس سے زیادہ رہی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس طرح یہ چار ممالک مجموعی طور پر MENAAP میں 3 ڈالر یومیہ کی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے تقریباً 95 فیصد افراد کا حصہ بنتے ہیں۔
منفی رجحان 2026 تک برقرار رہنے کا امکان
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت کے یہ منفی رجحانات 2026 تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ اور عدم استحکام سے متاثرہ ممالک میں غربت کا مسئلہ زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے، جہاں روزگار کی کمی، نقل مکانی اور بنیادی سہولتوں کی خراب صورتحال نے لوگوں کے لیے معاشی بحالی مشکل بنا دی ہے۔
عالمی بینک نے یہ بھی واضح کیا کہ علاقائی اور قومی اوسط کسی ملک کے اندر موجود بڑی معاشی ناہمواریوں کو چھپا سکتی ہے، کیونکہ مختلف علاقوں کے درمیان غربت کی شرح میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں استعمال کی گئی تین ڈالر یومیہ کی بین الاقوامی غربت کی لکیر 2021 کی قوتِ خرید کی برابری (PPP) کی بنیاد پر ہے، جبکہ غربت کے اعداد و شمار کے لیے عالمی بینک کے Poverty and Inequality Platform کو ماخذ قرار دیا گیا ہے۔