پاکستان اور گلف تجارتی معاہدے کے لیے ایک رکن کی منظوری باقی: اسحاق ڈار

معاہدے کا مقصد پاکستان اور خلیج کی چھ معیشتوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ ممالک پاکستان کے لیے ترسیلات زر، روزگار اور سرمایہ کاری کے اہم ذرائع ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ہمراہ 8 اکتوبر، 2026 کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں(دفتر خارجہ پاکستان)

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ دستخط کے قریب پہنچ گیا ہے اور ممکنہ طور پر صرف ایک رکن ملک کی منظوری باقی ہے۔

دوسری جانب بحرین نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کا عمل تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پاکستان اور جی سی سی کے درمیان اس معاہدے پر مذاکرات ستمبر 2023 میں مکمل ہوگئے تھے، تاہم اس پر باضابطہ دستخط اور عمل درآمد ابھی باقی ہے۔

 معاہدے کا مقصد پاکستان اور خلیج کی چھ معیشتوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ ممالک پاکستان کے لیے ترسیلات زر، روزگار اور سرمایہ کاری کے اہم ذرائع ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اسحاق ڈار نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان اور بحرین کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے دوران کہی، جس کی مشترکہ صدارت انہوں نے پاکستان کے دورے پر آئے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ساتھ کی۔ جولائی 2021 کے بعد یہ کمیشن کا پہلا اجلاس تھا۔

مجوزہ معاہدے پر تعاون کے لیے بحرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ گذشتہ ماہ نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے دوران جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے انہیں بتایا تھا کہ معاہدہ دستخط کے لیے تقریباً تیار ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا، ’ہم جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے سلسلے میں ملنے والے تعاون پر ایک بار پھر شکر گزار ہیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے مجھ سے ملاقات کی تھی۔‘

 انہوں نے بتایا کہ ’معاہدہ تقریباً حتمی مرحلے میں ہے اور شاید اب صرف ایک ملک کی منظوری باقی ہے۔ جیسے ہی وہ ملک منظوری دے گا، ہم معاہدے پر دستخط کر سکیں گے۔‘

اسحاق ڈار نے جی سی سی کے اس رکن ملک کا نام نہیں بتایا جس کی منظوری ممکنہ طور پر باقی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بحرین پہلے ہی معاہدے کی منظوری دے چکا ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ سے مخاطب ہوتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا، ’مجھے معلوم ہے کہ آپ پہلے ہی اس کی منظوری دے چکے ہیں۔ وہ ملک بحرین نہیں بلکہ ہمارا کوئی دوسرا برادر ملک ہے۔ اس لیے میں اس معاملے پر اس سے رابطہ کروں گا۔‘

خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور عمان شامل ہیں۔

پاکستان اپنی برآمدات میں تنوع لانے، غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور خطے کے روایتی شراکت داروں کے ساتھ معاشی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے خلیجی منڈیوں تک زیادہ رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے کہا کہ بحرین معاہدے کی منظوری اور اس پر دستخط کا عمل تیز کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ’جی سی سی کی صدارت ہمارے پاس ہے اور ہم پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی منظوری یا اس پر دستخط کا عمل تیز کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے باہمی تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پاکستان اور بحرین کے درمیان دوطرفہ تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ ہدف نومبر 2025  میں وزیراعظم شہباز شریف کے منامہ کے دورے کے دوران طے کیا گیا تھا۔

دونوں ممالک نے جمعرات کو تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی نقل و حرکت سمیت  15  سے زائد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

عبداللطیف الزیانی نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کریں گے، جبکہ تیل، گیس اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کے لیے توانائی سے متعلق ایک اور ورکنگ گروپ کا اجلاس آئندہ ماہ ہوگا۔

دونوں ممالک نے غذائی تحفظ، قانون نافذ کرنے کے شعبے، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیلوں میں تعاون آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحاق ڈار نے کہا کہ اجلاس سے دوطرفہ تعاون کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ رابطوں اور کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے کہا، ’اس اجلاس کا ایک اہم نتیجہ متعدد مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بنا کر دوطرفہ تعاون کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط کرنا ہے۔‘

نائب وزیراعظم نے بحرین میں پاکستانی ہنرمند کارکنوں کی پیشہ ورانہ قابلیت اور اسناد کو زیادہ تسلیم کرنے اور ان کے لیے روزگار کی غرض سے آمدورفت کے مواقع بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ بحرینی وزیر خارجہ کے مطابق بحرین میں ایک لاکھ 40  ہزار سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملے

بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے 6  اور 7  اکتوبر کو سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔ ان حملوں میں متعدد افراد جان سے گئے اور زخمی ہوئے، جبکہ زخمیوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل تھا۔

مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں انہوں نے کہا، ’ہم ایک ایسے وقت میں ملاقات کر رہے ہیں جب ہمارے خطے کا بحران اب تک حل نہیں ہوا اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کو روزانہ خطرات کا سامنا ہے۔‘

بحرین نے ان حملوں کا ذمہ دار یمن کی حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی بحرین اور پوری خلیج تعاون کونسل کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔

عبداللطیف الزیانی نے کہا، ’ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک مجرمانہ فعل اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’سعودی عرب کی سلامتی بحرین اور خلیج تعاون کونسل کی سلامتی کا لازمی حصہ ہے اور ہم سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات میں اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مشترکہ پریس گفتگو میں عبداللطیف الزیانی نے کہا کہ پاکستان اور بحرین نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو لاحق خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے تحمل، تناؤ میں کمی اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ سمندری جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کو بھی ضروری قرار دیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطین، افغانستان اور جنوبی ایشیا کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے سرحد پار سلامتی سے متعلق پاکستان کے خدشات اور انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے پر تشویش کا اعادہ کیا۔

عبداللطیف الزیانی نے خطے میں مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کا کردار بھی شامل ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں، جہاں وہ غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، باہمی رابطہ کاری جاری رکھیں گے، خصوصاً سمندری سلامتی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون سے متعلق معاملات پر تعاون کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت