پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے جمعرات کو سعودی عرب کے شاہ خالد اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے گئے دو حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سات اکتوبر کو ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں دو خواتین سمیت تین افراد جان سے گئے جبکہ 36 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’میں متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں سعودی مسلح افواج اور اتحاد کی مستعدی، پیشہ ورانہ مہارت، اور بے گناہ جانوں کو بچانے اور مملکت کی حفاظت کی انتھک کوششوں کو سراہتا ہوں۔‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر مملکت سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا: ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی سٹریٹیجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق، مملکت کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔
’ہم عوام کے دفاع اور شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کے جائز حق کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو فوری طور پر یہ حملے روک دینے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
دوسری جانب او آئی سی نے بھی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے اپنے بیان میں کہا: ’یہ حملے ایک خطرناک اضافہ اور عام شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی کارروائی ہیں، جو سعودی عرب اور خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔‘
او آئی سی نے حملوں میں جان سے جانے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے مزید کہا کہ تنظیم سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور مملکت کی جانب سے اپنی سکیورٹی، خود مختاری اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔
او آئی سی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جس میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جواب میں سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا تھا کہ سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کے جواب میں یمن بھر میں 82 فوجی اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو ’سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘
جمعرات کو ہی سعودی فوجی اتحاد نے بتایا تھا کہ اس نے ریاض کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائلوں اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے ایک اور میزائل کو روک لیا۔
دوسری جانب سعودی شہری دفاع کا کہنا ہے کہ سعودی دارالحکومت کے اوپر روکے اور تباہ کیے گئے حوثی بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے جمعرات کو ریاض میں ایک کنڈرگارٹن اور میڈیکل کلینک کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ شہری دفاع نے مزید کہا کہ میزائل یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا تھا اور حکام نے ایسے واقعات کے لیے مروجہ طریقہ کار پر عمل کیا۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔