دنیا میں انسان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہی ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے کم اور دوسروں کی زبانوں سے زیادہ دیکھتا ہے۔ ہم نے گویا اپنی رائے کی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔
کوئی کسی کے بارے میں ایک جملہ کہہ دے، ایک قصہ سنا دے، ایک شکوہ چھیڑ دے اور ہم بِنا تحقیق، بِنا توقف، بِنا غور و فکر، اپنے دل کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے کان فیصلہ سنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں لیکن ہماری عقل اکثر مشاورت کے لیے بلائی ہی نہیں جاتی۔
یہ عجب زمانہ ہے کہ یہاں کرداروں کا فیصلہ ملاقات سے پہلے ہو جاتا ہے۔ لوگ کسی شخص سے ملے بغیر، اس کے ساتھ ایک لمحہ گزارے بغیر، اس کے لہجے کی نرمی، اس کی نیت کی شفافیت اور اس کے دل کی وسعت دیکھے بغیر، اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ محض اس لیے کہ کسی نے اس کے بارے میں کوئی قصہ سنایا، کوئی کہانی تراشی، یا کسی تلخ تجربے کو پوری شخصیت کا عنوان بنا کر پیش کر دیا۔
انسان کی سادگی بھی بعض اوقات حیران کن ہوتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر کہانی سنانے والا غیر جانب دار نہیں ہوتا۔ ہر بیان کردہ قصہ سچائی کا مکمل عکس نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اپنی شکستوں کا ملبہ دوسروں کے کردار پر ڈال دیتے ہیں، بعض اپنی محرومیوں کا انتقام دوسروں کی ساکھ سے لیتے ہیں اور بعض کو دوسروں کے قد کاٹھ سے ایسی الجھن ہوتی ہے کہ وہ اپنی قامت بلند کرنے کی بجائے دوسروں کو چھوٹا دکھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
احساسِ کمتری ایک خاموش بیماری ہے، مگر اس کی علامات بہت شور مچاتی ہیں۔ یہ بیماری انسان کو تخلیق سے دور اور تخریب کے قریب لے جاتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں عمر صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی زبانیں تعریف کے لیے بھاری اور تنقیص کے لیے سبک رفتار ہوتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی روشن چراغ کو بجھا دیا جائے تو ان کی تاریکی روشنی بن جائے گی، حال آں کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ دوسروں کی روشنی کم کرنے سے اپنا اندھیرا ختم نہیں ہوتا۔
معاشرے کی ایک بڑی کمزوری یہ ہی ہے کہ یہاں خبر کی کشش حقیقت سے زیادہ ہے۔ سنسنی ہمیشہ سچائی پر غالب آ جاتی ہے۔ کسی کے اچھے اوصاف، اس کی خدمات، اس کی شرافت اور کردار کی مضبوطی پر گفتگو کم ہوتی ہے، تاہم! اگر اس کے متعلق کوئی منفی بات مل جائے تو وہ لمحوں میں محفلوں کا موضوع بن جاتی ہے۔ جیسے لوگوں کو خوبیوں سے زیادہ خامیوں میں لطف آتا ہو۔
کتنا خوب صورت ہو اگر ہم لوگوں کو دوسروں کی آنکھ سے نہیں، اپنی بصیرت سے دیکھنا سیکھ جائیں۔ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس سے ملیں، اسے سمجھیں، اس کے رویے کو جانچیں، اس کے عمل کو دیکھیں۔ آخر سچائی کا سب سے معتبر آئینہ مشاہدہ ہی تو ہے۔ سنی سنائی باتیں اکثر تعصب، حسد، غلط فہمی یا ذاتی مفاد کی گرد میں لپٹی ہوتی ہیں، جب کہ مشاہدہ انسان کو براہِ راست حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی شخص کے بارے میں دوسروں کی رائے سن کر پہلے ہی ایک ذہنی تصویر بنا لیتے ہیں۔ مثلاً: دفتر، درس گاہ یا کسی سماجی حلقے میں اگر کسی نئے فرد کے متعلق یہ کہہ دیا جائے کہ وہ مغرور، سخت مزاج یا غیر ملن سار ہے، تو ہم لاشعوری طور پر اس سے فاصلہ اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر جب کبھی حالات ہمیں اس سے بہ راہِ راست ملنے اور اسے سمجھنے کا موقع دیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ وہی شخص نہایت شفیق، بااخلاق اور معاون ثابت ہوتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ اکثر لوگوں کی شخصیت ان قصوں سے کہیں زیادہ خوب صورت ہوتی ہے جو ان کے بارے میں سنائے جاتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کو نفرت سے زیادہ حسنِ ظن کی ضرورت ہے۔
زندگی کا حسن بھی اسی میں ہے کہ ہم لوگوں کو ایک موقع دیں۔ خود ان تک پہنچیں، ان کی اصل کو دریافت کریں۔ ہوسکتا ہے جس شخص کے بارے میں آپ نے تلخ کہانیاں سن رکھی ہوں، وہ حقیقت میں نہایت مہذب، مخلص اور صاحب ظرف انسان ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ قصہ سنانے والا اپنی ہی کم زوریوں کا اسیر ہو۔
کاش! ہم اپنی گفتگوؤں کا رخ بدل دیں۔ جتنی محنت ہم کسی کی برائی بیان کرنے میں کرتے ہیں، اگر اس کا ایک حصہ بھی لوگوں کی خوبیوں کو اجاگر کرنے میں صرف کریں تو معاشرے کی فضا بدل سکتی ہے۔ زبانیں زہر کی بہ جائے خوش بو بانٹنے لگیں، محفلیں کردار کشی کی بہ جائے قدردانی کی آماج گاہ بن جائیں اور دل ایک دوسرے کے لیے نرم پڑنے لگیں۔
دنیا کو نفرت نہیں، بلکہ حسن ظن کی زیادہ ضرورت ہے۔ معاشرے کو چغلیوں سے نہیں، سچائی اور انصاف سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے کانوں کو ہر آواز کا غلام نہ بنائیں بلکہ اپنی آنکھوں کو حقیقت تک رسائی دیں۔
یاد رکھیے! سنی ہوئی بات محض اطلاع ہو سکتی ہے، لیکن دیکھی ہوئی حقیقت شعور بن جاتی ہے۔
اسی لیے زندگی میں فیصلہ ہمیشہ سماعتوں پر نہیں، مشاہدوں پر کیجیے۔
مصنف ماہرِ تعلیم، محقق اور کالم نگار ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اس وقت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے منسلک ہیں۔