سعودی عرب پر حوثی حملوں کی پاکستان اور مصر کی مذمت

پاکستانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ’دونوں رہنماؤں نے خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار 29 مارچ، 2026 کو اسلام آباد میں اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے ملاقات کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

یمن میں موجود ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے رواں ماہ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

 ان میں سے ایک حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے اور 300  سے زائد زخمی ہوئے اور اس کے بعد بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق اتوار کی صبح خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبد العاطي سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ’دونوں رہنماؤں نے خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔

 انہوں نے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔‘

پاکستان اور مصر آر فور (R-4)، یعنی چار علاقائی ممالک کے گروپ کے رکن بھی ہیں، جس میں سعودی عرب اور ترکی بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ گروپ مارچ میں ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد ابھرا ہے جس کا مقصد چاروں ممالک کو جنگ اور خطے کی سلامتی سے متعلق وسیع تر خدشات پر مشاورت کے لیے ایک مشترکہ فورم فراہم کرنا تھا۔

وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے آر فور (R-4) کے فریم ورک کے تحت تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی معاملات پر تعاون و رابطہ کاری بڑھانے کے لیے آر فور کے آئندہ اجلاس کے انعقاد کے تک انتظار کا اظہار کیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات ہیں اور حالیہ مہینوں میں پاکستان نے مملکت کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

پاکستان نے ستمبر 2025  میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جبکہ رواں سال اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ بھی کیا۔

سہ فریقی دفاعی معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا