ن لیگ کی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت سے معذرت

تاہم مسلم لیگ ن نے 27 اکتوبر سے شروع ہونے والے مولانا کے ’آزادی مارچ‘ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

ن لیگ کا وفد مولانا فضل الرحمان کو نواز شریف کا خط دیتے ہوئے

پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن نے بھی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت سے معذرت کرلی ہے، تاہم ن لیگ نے 27 اکتوبر سے شروع ہونے والے مولانا کے ’آزادی مارچ‘ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے وفد نے مولانا فضل الرحمن کو پارٹی فیصلے سے آگاہ کر دیا۔

شہباز شریف کی زیرِ صدارت پیر کو ن لیگ کے مشاورتی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل احسن اقبال و دیگر نے احوال بیان کیا اور بتایا کہ سربراہ جے یو آئی (ف ) کو نواز شریف کا خط پہنچاتے ہوئے ن لیگ کے فیصلے سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

وفد کے شرکا نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ آج ن لیگ کے مشاورتی اجلاس میں مارچ کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

اجلاس میں آزادی مارچ میں شرکت کے لیے تجاویز پر تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں گلگت بلتستان اور بلوچستان کی قیادت کو کارکنوں کو متحرک کرنے کی ہدایت پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ ن لیگ سندھ، جے یو آئی(ف) کے ساتھ مل کر سکھر سے لانگ مارچ کی ابتدا کرے۔

اسی طرح جنوبی پنجاب کی قیادت سندھ اور بلوچستان سے آنے والے آزادی مارچ کے شرکا کے ساتھ شامل ہوں۔ پنجاب کے حوالے سے شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، قصور، ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ کے کارکن لاہور میں اکٹھے ہوں گے۔

سینیئر رہنماؤں کی رائے کے مطابق لاہور سے آزادی مارچ کا بڑا ریلہ اسلام آباد کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ روانہ ہونا چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے اجلاسوں کی معلومات ’لیک‘ کرنے کے معاملہ پر پارٹی قیادت کا سخت نوٹس پارٹی رہنماؤں کو پالیسی کے خلاف بیانات سے اجتناب کی ہدایت کر دی جس کے باعث شہباز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر ہونے والے مشاورتی اجلاس کی تصاویر اور فوٹیج بھی میڈیا کو جاری نہیں کی گئی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے پارٹی فیصلوں سے متعلق موقف کے لیے لیگی رہنما محمد زبیرعمر، سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب، پرویز ملک، شائستہ پروی اور عطااللہ تارڑ سے رابطہ کی کوشش کی لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کیپٹن ر صفدر کے بیانات اور پارٹی کے اندرونی معاملات منظر عام پر آنے کے بعد شہباز شریف نے سخت ایکشن لیا تھا۔

دو بڑی جماعتوں کی دھرنے سے معذرت

پاکستان کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی ایف کے دھرنے میں شرکت کی بجائے صرف آزادی مارچ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما جنرل (ر)عبدالقیوم نے مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی ہدایت کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ میں شرکت کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے اور پارٹی نے اپنے قائد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے آزادی مارچ میں بھر پور شرکت کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا ن لیگ صرف مارچ میں شریک ہوگی یا دھرنے میں بھی شرکت کرے گی؟ انہوں نے جواب دیا کہ صرف مارچ میں شرکت کی بات ہوئی ہے، دھرنے میں شرکت کا امکان نہیں، تاہم جو نواز شریف کا حکم ہے اس پر ہر پارٹی رہنما اور کارکن عمل کرے گا۔

اجلاس کے بعد ن لیگی رہنما جاوید لطیف نے بھی صرف آزادی مارچ میں شرکت کی تصدیق کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا نواز شریف نے پارٹی کے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کیا جس پر عمل ہوگا جبکہ وہ دھرنے میں شرکت کے سوال کا جواب دیے بغیر روانہ ہوگئے۔

یاد رہے کہ پی پی پی کے لیڈر بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی صرف آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ دھرنے کی اخلاقی حمایت کا یقین دلایا گیا ہے۔ انہوں نے بھی دھرنے میں شرکت سے معذرت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی دھرنے کی بجائے صرف آزادی مارچ میں شرکت کے بیانات دے چکے ہیں۔

حکومتی اقدامات

جب سے مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبرکو آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے اور اسلام آباد میں دھرنے کے امکان ظاہر کیے گئے ہیں، حکومت نے بھی سیاسی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ آزادی مارچ کے شرکا کو امن و امان میں دخل اندازی پر روکا جائے گا۔

اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی اتحادی جماعتوں سے مشاورت تیز کر دی ہے۔

ان دونوں رہنماؤں نے مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ سے آج (پیر) ان کی رہائش گاہ پر مختلف اوقات میں ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کا مقصد چوہدری شجاعت کی عیادت تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی رہنماؤں میں مارچ کو غیر موثر بنانے کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں معاملات سڑکوں کی بجائے اسمبلیوں میں طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست