امریکہ کے پچاس جوہری بم ترکی میں ’یرغمال بن چکے ہیں‘

رپورٹس کے مطابق امریکہ کے شام سے فوری انخلا اور ترکی کے ساتھ اس کے بگڑتے تعلقات کے بعد امریکی حکام ابھی تک ترکی میں انکرلک ائیر بیس میں موجود امریکہ کے پچاس جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی حکمت علمی طے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

ترک فوجی امریکہ میں بنے ایم 60 ٹینکوں میں شمال مشرقی شام کے شہر منبج میں  (اے ایف پی)

امریکی حکام نے تنبیہ کی ہے ترکی کی شام میں فوجی کارروائی کے بعد ترکی میں موجود پچاس امریکی جوہری بم یرغمال بن چکے ہیں۔ امریکہ اس صورت حال کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شمالی شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے پیدا ہونے والی خلا کو ترکی اور روس پر کر رہے ہیں جس کے بعد خطے میں موجود امریکی اتحادی کرد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ عالمی برادری اس معاملے میں تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

ٹرمپ کے حامی بھی ان پر اپنے اتحادیوں کو تنہا چھوڑنے کا الزام لگا رہے ہیں جس کے بعد صدر ٹرمپ ترکی کے خلاف اقدامات پر مجبور ہوئے اور صدر اردوغان کو ترکی کی معیشت ’تباہ کرنے‘ اور امریکہ کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔

تاہم رپورٹس کے مطابق امریکہ کے شام سے فوری انخلا اور ترکی کے ساتھ اس کے بگڑتے تعلقات کے بعد امریکی حکام ابھی تک ترکی میں انکرلک ائیر بیس میں موجود امریکہ کے پچاس جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی حکمت عملی طے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی وزارت خارجہ اور محکمہ توانائی کے حکام میں ملاقات ہوئی جس میں واشنگٹن کے تقریباً 50 جوہری ہتھیاروں کو ترکی سے واپس لانے کا معاملہ زیر بحث لایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک عہدیدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ یہ بم اب عملی طور پر صدر اردوغان کے یرغمال بن چکے ہیں۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ ان ہتھیاروں کی ترکی سے منتقلی نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات ختم ہونے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے جبکہ ان ہتھیاروں کو وہیں چھوڑ دینا بھی خطرے سے خالی نہیں۔

یہ معمہ ایک ایسے وقت میں سر اٹھا رہا ہے جب ترکی کے صدر اردوغان نے ایک ماہ قبل ہی کہا تھا کہ یہ ’ناقابل قبول ‘ ہے کہ ترکی کو 1980 میں دستخط کردہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ اور صدر اردوغان کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران ٹرمپ نے شام میں داعش کے زیر تسلط رہنے والے علاقے سے انخلا کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی سفارت کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ’غیر متوقع‘ تھا۔

امریکہ کی ’کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں‘ کے اختتام کے لیے افواج کو نکالنے کا اعلان کرنے کے بعد اب صدر ٹرمپ کو ترکی کے بارے میں اپنا رویہ بدلنا پڑ رہا ہے۔ اب وہ جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ترکی کے اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود ترکی کی کارروائی ابھی تک جاری ہے۔ انقرہ کی جانب سے شمالی شام میں مزید علاقے پر دعویٰ کیے جانے کا عمل بڑھتا جا رہا ہے اور کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے وجہ سے وہ امریکہ کی دشمن شامی حکومت سے اتحاد کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں تاکہ وہ مکمل تباہی سے بچ سکیں۔

اس صورت حال کے دوران کردوں نے داعش جنگجوؤں کے قید خانوں کو بھی یونہی چھوڑ دیا جس کی وجہ سے چند دن میں سینکڑوں داعش جنگجو ان قید خانوں سے فرار ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ابھی تک ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جنگی جرائم کے الزامات کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

دریں اثنا روس بھی اس علاقے میں اپنے اہمیت بڑھا رہا ہے جہاں پہلے امریکہ کو اہم سمجھا جا رہا تھا۔ روس ترکی اور شام کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر کے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چئیرمین جیک ریڈ کا کہنا تھا: ’صدر اپنے غیر یقینی اقدامات کے باعث ہمارے فوجی اور سفارتی حکام کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ ایسے اقدامات روس اور استبدادانہ حکمرانوں کو فائدہ دیتے ہیں۔ اگر صدر جنگ جیتنے اور ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو وہ داعش کے دوبارہ سر نہ اٹھانے سے متعلق کوئی حکمت عملی طے کریں جو ہمارے شامی اتحادیوں کو تحفظ دے سکے۔ لیکن وہ کئی بار ایسا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ معاملات کو خراب کر رہے۔ امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور روس اور اسد حکومت کو فائدہ دے رہے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا