بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے سکینڈل سے جڑے سوال

یہ وہ سوالات ہیں جو زبان زد عام ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے بھٹکے طالب علموں کو راہ راست پر لانے کا جو پلان بنایا تھا اس پر عمل درآمد خفیہ کیمروں کی مدد سے کیا جاتا رہا تھا۔

بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کی خفیہ ویڈیوز بنانے کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد صوبے میں غم و غصہ اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایک جانب جہاں طلبہ تنظیموں کا احتجاج زور پر ہے وہیں دوسری جانب صوبے کی سیاسی قبائلی اور سماجی حلقے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچستان اسمبلی کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی گئی۔ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر جاوید اقبال فی الحال کسی بھی ایسے سکینڈل سے قطعی انکاری ہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایف آئی اے کی رپورٹ میں اگر ایسی کوئی چیز سامنے آئی تو ذمہ داروں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ گذشتہ روز ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹلز، باتھ روم اور دیگر مقامات پر خفیہ کیمرے لگا کر طالبات کو بلیک میل کرنے کا عمل مبینہ طور پر کچھ عرصے سے جاری تھا۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اور پولیس کو باقاعدہ شکایات بھی موصول ہوئیں تاہم ایف آئی اے کی کارروائی کا محرک بلوچستان ہائی کورٹ کا ازخود نوٹس بنا۔

ایف آئی اے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ اس سلسلے میں ان کے پاس دس سے 12 ویڈیوز بھی ہیں جن کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں اور وہ اپنی رپورٹ 28 اکتوبر تک چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے پاس جمع کروائیں گے۔

بلوچستان یونیورسٹی بلوچ اور پشتون طلبہ کی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ صوبے کے سیاسی افق پر سرگرم کئی سیاسی رہنما اس جامعہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی صحافت، سول سروسز اور سماجی شعبے میں کئی جوہرِ نایاب اسی درس گاہ میں طلبہ تنظیموں کے پلیٹ فارم پر سیاسی شعور سے روشناس ہونے کے بعد عملی میدان میں اترے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلوچستان یونیورسٹی میں کافی عرصے تک بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کا سکہ چلتا تھا۔ تربیتی سرکلز، سیمینار اور سیاسی مباحثوں سے طالب علموں کی سیاسی تربیت کی جاتی تھی لیکن ایک وقت آیا جب سابق آمر جنرل پرویز مشرف نے کوئٹہ میں ایک جلسے کے دوران کہا تھا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں کچھ طالب علم بھٹکے ہوئے ہیں، انہیں راہ راست پر لایا جائے گا۔

یقینی طور پر ان کا اشارہ طلبہ رہنماؤں کی جانب تھا جو بی ایس او کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے حقوق کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ پھر ایک دور آیا جب آہستہ آہستہ بلوچستان یونیورسٹی تعلیمی ادارے سے چھاؤنی بننے لگی۔ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کو وائس چانسلر لگا دیا گیا، نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور کے سینکڑوں اہلکار یونیورسٹی کے اندر اور باہر قیام پذیر ہوگئے۔ معمولی مسائل پر بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کو گرفتاریوں اور مقدمات سے دبایا جاتا رہا۔ اس طرح طلبہ سیاست کا گلہ گھونٹ دیا گیا۔

بلوچستان میں خواتین کی شرحِ تعلیم 33 فیصد ہے جبکہ کچھ اضلاع میں یہ دس فیصد تک ہے۔ قبائلی معاشرے پر مشتمل صوبے میں خواتین کی تعلیم ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے اور پھر دور دراز علاقوں سے کوئٹہ جا کر یونیورسٹی میں پڑھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بلوچ معاشرے میں خواتین کے متعلق بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے، جس کی واضح مثال 2006 میں ڈیرہ بگٹی میں سندھ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شازیہ کا واقعہ تھا جو بہرحال ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں جنگ اور نواب اکبر بگٹی سمیت سینکڑوں افراد بشمول سکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر منتج ہوا۔ رند اور لاشاری قبیلے میں بلوچ تاریخ کی سب بڑی جنگ کا موجب بھی گوہر نامی ایک خاتون بنی جس کی اونٹنیوں پر حملے کے بعد دونوں قبائل میں 30 سالوں تک چلنے والی خونی جنگ میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔

صوبے کو زرخیز سیاسی سوچ سے لبریز افرادی قوت دینے والا یہ ادارہ کیوں کر بدنامی کی اس نہج پر پہنچا؟ کیا خفیہ کیمرے لگانا اتنا آسان کام تھا جو کوئی بھی کرسکتا ہے؟ ایک ایسا ادارہ جو تعلیمی ادارے سے زیادہ فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کرتا ہے وہاں یہ سب کیوں کر ممکن ہوا؟ اگر یہ سکینڈل درست ثابت ہوا تو اس کے نتائج اور ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو زبان زد عام ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے بھٹکے طالب علموں کو راہ راست پر لانے کا جو پلان بنایا تھا اس پر عمل درآمد خفیہ کیمروں کی مدد سے کیا جاتا رہا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کیس بھی ڈاکٹر شازیہ کیس کی طرح کسی چنگاری کو ہوا دے کیونکہ بلوچ معاشرے میں اس ناقابلِ معافی سکینڈل سے جو اضطراب اور اشتعال پھیل رہا ہے اس سے صرفِ نظر کرنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوگی۔

 

(نوٹ:  راقم الحروف زمانہ طالب علمی میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ رہے اور اس وقت ضلع چاغی میں دالبندین پریس کلب کے صدر ہیں)

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ