کیا قبائلیوں کی کشمیر پر چڑھائی سے کشمیر ہاتھ سے نکل گیا؟

تحریک کشمیر کے وقت قبائلیوں کی نیت کچھ بھی ہو مگر ان کے دفاع کا کوئی انسانی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔

22 اکتوبر1947  کو بڑی تعداد میں قبائلیوں نے سرحد عبور کر کے کشمیر پر چڑھائی کر دی، جس کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیا سے مدد مانگ لی (پبلک ڈومین)

22 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے قبائلی لشکر کی کشمیر پر فوج کشی اور نہتے شہریوں کا قتل اور لوٹ مار ایک تلخ حقیقت ہے، مگر اس واقعے کی بنیاد پر حقائق کے پہلو بہ پہلو کچھ ایسے تاریخی مغالطے بھی تاریخ میں راہ پا گئے ہیں جن کو تاریخی اور واقعاتی شواہد کے تناظر میں پرکھنا ضروری ہے۔

بڑے تاریخی واقعات کی تعبیر و تشریح میں متضاد آرا اور اختلافی نقطہ نظرکا ہونا اچنبھے کی بات نہیں مگر ان واقعات کو مخصوص حالات میں دیگر عوامل و واقعات سے الگ کر کے من مانے نتائج حاصل کرنے کی روش فکری دیانت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

قبائلیوں کی کشمیر پر یلغار کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ آج بھی کچھ مخصوص حلقے اس در اندازی کو ریاست جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا بنیادی محرک قرار دیتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کی بنیادی کجی 22 اکتوبر کے واقعات کے ساتھ جڑے دیگر عوامل، واقعات اور کشمیر کی قسمت کے فیصلے کرنے والی دیگر قوتوں کے کردار سے دانستہ یا نادانستہ صرف نظر کرنا ہے۔

تاریخی طور پر اس دلیل اور جواز کو بھارت نے کشمیر پر اپنے بین الاقوامی وعدوں سے انحراف کے لیے سب سے پہلے استعمال کیا۔ 23 جنوری 1957 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی نمائندے کرشنا مینن نے کشمیریوں کے حق استصواب رائے سے منحرف ہونے کے لیے ایک عذر کے طور پر استعمال کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک کشمیر کے وقت قبائلیوں کی نیت کچھ بھی ہو مگر ان کے دفاع کا کوئی انسانی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں مقامی آزادی پسندوں کی مدد اور پونچھ اور جموں کے علاقوں کی آزادی میں ان کے کردار سے مفر ممکن نہیں۔ اس سارے قضیے میں جو چیز تحقیق طلب ہے کہ آیا قبائلیوں کا کشمیر میں در آنا ہی ایسا واحد سبب اور بیرونی جبر تھا جس نے مہاراجہ کشمیر کو بھارت کی گود میں لا بٹھایا، یا اس تاریخی واقعے کی صورت گری میں دیگر محرکات، اسباب اور عوامل بھی شامل تھے؟

جنوبی ایشیا کے اس عظیم انسانی المیے کی تشکیل اور تنظیم کے دیگر پس پردہ اسباب کی درست تفہیم ان مغالطوں کو ختم کر سکتی ہے۔

بے جا عقیدت اور بے بصر نفرت کے اس دور میں مکمل غیر جانبداری اور بے تعصبی شاید ممکن نہ ہو مگر ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے مقدور بھر کوشش کی ہے کہ کشمیر کے حوالہ سے دستیاب مستند اور موقر تحقیقی مواد کے مطالعے سے جو منطقی نتائج حاصل ہوئے ہیں انہیں بلا کم و کاست راست فکری سے بیان کروں۔ تحقیق کا مقصد کسی نظریے کو جھٹلانے سے زیادہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی تناظر کے گرد آلود چہرے پر جمی افسانوی گرد کو صاف کرنا ہے۔
قبائلیوں کی فوج کشی سے دس دن قبل روزnامہ ڈان میں 13 اکتوبر 1947 کو ایک خبر شائع ہوئی۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کا مہاراجہ ریاست کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے والا ہے۔ اس غرض سے اندرون خانہ تیاریاں اور ہندوستان کی حکومت سے اس کا نامہ و پیام جاری ہے۔ یہ خبر اخبار کے دہلی کے نمائندے نے بھیجی تھی۔
غور طلب بات ہے کہ جب قبائلیوں کے حملے کا دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا ایک مستند اخبار میں صفحہ اول پر چھپنے والی خبر کے پس پردہ کچھ تو تھا جس کا پردہ اخبار نے چاک کیا۔ یہ تو تقسیم ہند کے بعدکی خبر ہے جب الحاق و خود مختاری کی بحث چل رہی تھی۔ مگر ہندوستان کی آزادی سے دو ہفتے قبل 29 جولائی کو انڈیا کے ایک اور معتبر روزنامے سول اینڈ ملٹری گزٹ میں چھپنے والی چھوٹی سی خبر کشمیر کی اندرونی سیاست اور حکومتی عزائم کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ اخبار کے مطابق کشمیر کی حکومت نے فوری طور پر کھٹوعہ پٹھان کوٹ روڈ کی پختگی کا کام شروع کر دیا ہے۔
یہ سڑک جموں کو ہندوستان سے ملانے کا واحد زمینی راستہ تھی۔ ایک ناقابل استعمال سڑک کی یوں اچانک تعمیر کے فیصلے کے پیچھے کوئی تو مصلحت پوشیدہ ہوئی ہو گی۔ اس خبر کو اگر اس اخبار کی 26 جولائی 1947 کی ایک اور خبر کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو حقائق کی کچھ کڑیاں ملتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ خبر وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ہندوستان کی دیہی ریاستوں کے حکمرانوں اور ان کے نمائندوں سے خطاب کے متعلق تھی۔ وائسرائے نے ریاستوں اور راجواڑوں کے حکمرانوں کو صاف الفاظ میں بتایا کہ وہ انڈین یونین سے باہر نہیں جا سکتے، آزادی ہند کے بعد وہ مکمل انضمام یا محدود خود مختاری کے ساتھ انڈین یونین سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

مہاراجہ کشمیر یا اس کا کوئی نمائندہ اس میں موجود نہ تھا مگر مستقبل کی پیش بینی کے لیے یہ اشارہ دو دن بعد سڑک کی تعمیر شروع کرنے کے فیصلے کے پس پردہ عوامل اور سوچ کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔
امریکہ کی سابق سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلین البرائٹ کے والد جوزف کوربل کی تصنیف Danger in Kashmir مسئلہ کشمیر کے آغاز کے دنوں کا احوال بیان کرتی ہے۔ مصنف 1948 میں یو این مشن کے سربراہ کے طور پر کشمیر آئے۔ اپنے پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے لیے انہیں اس مسئلہ کی تمام جزیات اور جہتوں تک براہ راست رسائی حاصل رہی۔ یوں جوزف کوربل کی تحقیق، مشاہدہ اور حقائق کی جانچ کو مستند اور معتبر ہونے میں کوئی کلام نہیں۔

وہ اپنی کتاب (مطبوعہ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس) کے صفحہ 59 پر لکھتے ہیں: ’جموں کو ہندوستان سے ملانے والی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دریائے راوی پر کشتیوں کا عارضی پل بھی قیام پاکستان کے ساتھ ہی بننا شروع ہو گیا تھا۔‘

ان کے خیال میں ریاستی حکومت پل کی تعمیر سے فوجی نقل و حمل اور اسلحہ کی ترسیل کو آسان بنانا چاہتی تھی اور سڑک اور پل کی تعمیر کی خبر کو صیغہ راز میں رکھا گیا مگر ایک مقامی اخبار نے جب یہ راز افشا کیا تو دیگر اخبارات نے بھی اسے چھاپنا شروع کیا۔ مصنف یہاں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ان مخصوص حالات میں ہندوستان کے ساتھ زمینی رابطے کے لیے سڑک اور پل کی تعمیر خالی از علت نہیں۔

تقسیم ہند کے ساتھ ہی 584 دیہی ریاستوں کی غالب اکثریت نے انڈین یونین میں شمولیت اختیار کر لی۔ مہاراجہ کشمیر گومگو اور تذبذب کے عالم میں تھا۔ ان دنوں گاندھی کانگرس کے صدر اچاریہ کرپلانی، پٹیالہ، کپور تھلہ اور فرید کوٹ کی ریاستوں کے والیان نے اوپر تلے کشمیر کا دورہ کیا۔
جوزف کوربل تناؤ کے اس ماحول میں ان شخصیات کے دورہ کشمیر پر منطقی سوالات اٹھاتے ہیں، جن میں بین السطور شکوک و شبہات کے سائے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

مصنف کے خیال میں یہ دورے محض خیر سگالی کے لیے نہیں تھے اس کے پیچھے کشمیر کے مستقبل کے بارے میں ترغیب و تحریص کے پہلو بھی شامل تھے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 62 پر وہ اس حوالے سے اندیشہ ہائے دور دراز کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ کانگرس لیڈروں کی کشمیر کے بارے فکر مندی محض مہاراجہ کو خود مختاری کے اعلان سے روکنے کے لیے تھی۔

یہاں وہ ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا یہ رہنما مہاراجہ کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا مشورہ دے رہے تھے؟

 قبائلیوں کی یورش سے دو ماہ قبل یہ ساری دوڑ بھاگ، سود و زیاں سے ڈرانا اور مہاراجہ کے ہم مذہب حکمرانوں اور لیڈروں کا سلسلہ جنبانی بلا وجہ نہ تھا۔Danger in Kashmir  کے مصنف نے نہرو کی کشمیر کے لیے بے تابی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے دورہ کشمیر کا مقصد اپنے دوست شیخ عبد اللہ کی رہائی کو قرار دیا۔

جوزف کوربل اس دعوے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے معروضی انداز میں اظہار حیرت کرتے ہیں کہ جب سارا ہندوستان آتش فشاں کے دہانے پر تھا تو نہرو کا محض اپنے ذاتی دوست کی خاطر کشمیر کے دورے پر اصرار معقولیت کے کسی پیمانے پر پورا نہیں اترتا۔
’شیر کشمیر‘ کہلانے والے کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبد اللہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کروانے میں پیش پیش تھے۔ جوزف کوربل اس امر پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو جو کہ بغاوت کے الزام میں نو سال قید کی سزا بھگت رہا تھا یکایک یکم اکتوبر 1947 کو رہا کر دیا جاتا ہے اور پھر وہ دلی اور سری نگر کے بیچ پیغام رسانی اور اعتماد سازی کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔

مصنف نے شیخ عبداللہ کے سیاسی کردار کے تضادات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رہائی کے بعد انہوں نے بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب میں یہ مطالبہ کیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو ہے مگر ساتھ ہی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے پونچھ کے مسلمانوں کو باغی قرار دے دیا۔

کتاب کے صفحہ نمبر 70 پر مصنف نے تجزیہ کیا ہے کہ شیخ عبد اللہ کا رویہ صاف طور پر بھارت نواز اورپاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ ایک طرف اس نے پاکستان یا بھارت سے الحاق سے انکار کیا مگر ساتھ ہی وہ پاکستان کو غیر جمہوری لوگوں کا ملک کہتے ہیں لیکن بھارت کے حوالے ان کا لہجہ نہ صرف توصیفی ہے بلکہ وہ نہرو سے دوستی کے تفاخر میں بھی مبتلا ہیں۔

شیخ عبد اللہ پر ریاستی اور دہلی کی حکومتوں کی نوازشوں اور عنائیتوں کی بارش اور وی پی مینن اور مہر چند مہاجن کے ساتھ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں سری نگر اور دلی کے اوپر تلے دوروں سے بھی اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ اپنے سیاسی گرو نہرو کی دلی مراد کو پورا کرنے کے لیے شیخ عبد اللہ 22 اکتوبر سے پہلے ہی کشمیر کی تقدیر ہندوستان سے وابستہ کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔

پنڈت رام چند کاک ریاست کشمیر کے پہلے کشمیری بولنے والے وزیر اعظم تھے۔ اپنی غیر معمولی سیاست بصیرت کی وجہ سے وہ کشمیر کے الحاق یا خود مختاری کے مسئلہ پر حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے تھے۔

کانگریس کی کشمیر میں مداخلت اسے ایک آنکھ نہ بھاتی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہرو کو کشمیر کی حدود میں داخل ہونے پر گرفتار کر کے واپس بھیج دیا تھا۔ یوں وہ کانگریس کے نزدیک معتوب ٹھہرے اور 11 اگست 1947 کو اسے وزیر اعظم کے عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا اور جنرل جنک سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔
اے جی نورانی بھارت کے معروف ماہر قانون، محقق اور ماہر عمرانیات ہیں۔ نصف صدی سے وہ مسئلہ کشمیر کی آئینی اور سیاسی بنیادوں پر تحقیقی کام میں مصروف ہیں۔ ان کی کتاب The Kahsmir Dispute ( 1947-2012) میں کشمیر کے
بھارت کے ساتھ الحاق کے حوالے سے چشم کشا حقائق اس ڈرامے کے کرداروں کو عیاں کرتے ہیں۔

صاحب کتاب 20 جون 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن اوررام چند کاک کی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کاک نے وائسرائے کو بتایا کہ نہرو کی کشمیر میں غیر معمولی دلچسپی کی وجہ سے مہاراجہ کشمیر کے لیے 15 اگست کے بعد ریاست کو سنبھالنا بہت مشکل ہو گا، اس لیے کشمیر کے لیے بہتر ہے کہ وہ کسی ایک یونین میں شامل ہو۔

مصنف نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ کاک ریاست کی مخصوص صورت حال کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی تھے۔ رام چند کاک کا یہی جرم اس کی عہدے سے برخواستگی کی وجہ بنا۔
جنک سنگھ کے بعد مہر چند مہاجن کو اکتوبر 1947 میں ریاست کا وزیر اعظم بنایا گیا۔ اے جی نورانی کے الفاظ میں مہاجن کا مذہبی جنوبی ہونا اور مہاسبھائی نظریات اور کانگرس اور ہندو لیڈروں کی پشت پناہی نے بھی کشمیر کی قسمت پر تاریک سائے پھیلا دیے۔
اے جی نورانی کی تحقیق کا دلچسپ ترین پہلو نہرو کا کردار ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے نہرو کے حوالے سے تحقیقی مواد جو کہ Selected Works of J .Nehru کے نام سے اشاعت پذیر ہوا کا سہارا لیا ہے۔

ان کے مطابق نہرو نے آزادی ہند سے پہلے مئی 1947 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کشمیر کو ہندوستان میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا بعد میں 17 جون 1947 کو وائسرائے کے نام ایک نوٹ میں کشمیر کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے بارے میں لکھا۔
کتاب کے صفحہ نمبر 12 پر نہرو کی کشمیر سے دلچسپی کا تذکرہ کرنے بعد نورانی نے واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر غیر ملکی حملہ آور ( قبائلی ) نہ بھی آتے تو نہرو نے مہاراجہ کشمیر کو بھارت سے الحاق کے لیے مجبور کرنا تھا۔
السٹر لیم کی Incomplete Partition میں 22 اکتوبر سے قبل وی پی مینن، مہرچند مہاجن اور شیخ عبد اللہ کی ملاقاتوں اور غیر معمولی بھاگ دوڑ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

مصنف نے تو 26 اکتوبر کو مہاراجہ کشمیر کے الحاق کی دستاویز پر دستخطوں تک کو چیلنج کیا ہے اس کے مطابق مذکورہ بالا شخصیات نے اس عرصے میں ایک منصوبے کے تحت کشمیر کو بھارت کی جھولی میں لا پھینکا۔ درج بالا حقائق اور حوالوں کے بعد یہ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ قبائلیوں کا حملہ بھارت کے ساتھ الحاق کی وجہ بنا۔


اس بلاگ میں شامل خیالات مصنف کی ذاتی آرا ہیں۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ