مولانا! تم بھی۔۔۔۔

نہ جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا مگر بعض واقعات سے ان معصوم اور جذباتی لوگوں کو ضرور دکھ پہنچتا ہے جو آنکھ بند کر کے دوسروں پر اعتبار کرنے لگتے ہیں اور جب اس غیر اعتباری کا موجب مولوی بنے تو اپنا وجود بھی متزلزل ہونے لگتا ہے۔

27  اکتوبر کا دن کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جب خبر آئی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس روز حکومت مخالف مارچ کر رہے ہیں تو کشمیری عوام کے ایک بڑے طبقے نے پہلے اس پر یقین نہیں کیا (اے ایف پی)

یہ بات تقریباً بارہ تیرہ سال پرانی ہے جب بھارت کے ممتاز صحافی اور مصنف کلدیپ نئیر لندن میں آ کر میرے ساتھ کشمیر کے مسئلے کی پیچیدگیوں پر گھنٹوں بحث کیا کرتے اور ہندوستانی نقطہ نظر سے اس کا حل تلاش کرنے کی صلاح دیا کرتے جبکہ میں اپنا کشمیری نقطہ نگاہ جتا کر ان کے ساتھ خوب جھگڑا کرتی۔

کلدیپ نئیر نے مجھے وہ ساری گفتگو من وعن بتائی جو واجپائی نے لاہور بس سفر کے دوران ان کے ساتھ کشمیر کے بارے میں کی تھی۔ جب واجپائی نے کہا تھا کہ ’کشمیریوں نے برصغیر کے بٹوارے کے بعد کافی مصیبت اٹھائی ہے اور انسانیت کے ناطے اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ دونوں ملک سکون سے رہ سکیں۔‘

نیئر نے مجھے ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں شامل کرنے کی کوشش بھی کی تھی مگر میری مصروفیات اُس وقت میرے آڑے آئی۔ ان کے ساتھ کشمیر پر ہونے والی نوک جھونک میں جب بھی پاکستان کا ذکر آتا تھا تو وہ ہمیشہ مسکرا کر کہتے کہ ’پاکستان کے حکمرانوں سے ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ اگر رکاوٹ ہے تو وہ فوجی قیادت سے ہے جو کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتی ہے۔‘

جب میں ان سے پوچھتی کہ کیا پاکستان کا کوئی رہنما آپ کے موقف کا طرف دار ہے تو وہ فوراً کہہ دیتے ’نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور بہت سارے مگر وہ فوج سے خوفزدہ ہیں۔ پاکستان کی قیادت بھارتی موقف کی اتنی مخالف نہیں ہے۔‘ کلدیپ نئیر پھر معنی خیز لہجے میں کہتے کہ ’میں سعودی عرب میں نواز شریف سے ملتا ہوں اور ہم اکثر کشمیر پر بات کرتے ہیں۔ یہاں لندن میں بے نظیر سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان نے کشمیر کو فضول میں اپنی اَنا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔‘ میرے لیے یہ باتیں انکشافات سے کم نہیں ہوتی تھیں مگر کشمیری اگر اس وقت ان باتوں کو سن لیتے تو شاید خودکشی کر لیتے۔۔۔ ویسے دونوں ملکوں کے بیچ میل ملاپ میں کوئی ہرج تو نہیں البتہ ان دنوں کارگل میں ٹکراؤ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب وادی میں مسلح تحریک اپنے عروج پر تھی اور ہزاروں نوجوان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسلحے کی تربیت پانے کے لیے بےقرار نظر آتے تھے۔ اُس وقت کشمیر میں اس کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ پاکستان کی معزول قیادت، کلدیپ نئیر کے مطابق بھارت کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ قربت میں ہیں اور کشمیر پر بھارتی موقف کی حمایت بھی کرتے ہوں گے۔ حقیقت کیا ہے وہ یہ رہنما ہی جانتے ہیں یا کلدیپ نئیر، جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ تاہم ان انکشافات کی کبھی تصدیق نہیں ہوپائی۔

جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو کشمیریوں کے لیے اس افواہ کو بھی ماننا تکلیف دہ تھا کہ بعض کشمیری مسلح نوجوانوں کی فہرست اُس وقت بھارتی سرحدی سکیورٹی کو دی گئی تھی جب وہ سرحد پار کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ ان میں سے بیشتر غیر شناختی قبروں میں دفن ہیں۔ اس خبر کی تصدیق نہیں ہو پائی حالانکہ میں نے خود پاکستان اور بھارت میں جا کر اس خبر کی اُس وقت کافی کھوج کی تھی جب میں بی بی سی کے لیے کشمیر پر ایک ڈاکومینٹری بنا رہی تھی۔ ویسے بھی بیشتر عناصر کشمیر میں ایسی افواہیں پھیلا کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش بھی کیا کرتے تھے، جو آج بھی جاری ہے۔

بے نظیر بھٹو جب جلاوطنی کی زندگی ختم کرکے لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے والی تھیں، اُس سے ایک روز پہلے میں ان سے انٹرویو کے لیے ان کی رہائش گاہ گئی۔ وطن واپسی کے فیصلے پر بات کرنے کے بعد جب میں نے کشمیر کا ذکر چھیڑا اور ان کے موقف کے بارے میں پوچھنے لگی تو وہ فوراً کہنے لگیں: ’ابھی مجھے پاکستان سنبھالنے دیں پھر کشمیر کی باری آئے گی۔‘

بی بی سی کے ایک ساتھی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’پاکستان کے اکثر رہنماؤں سے بات کر کے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ جیسے کشمیر پاکستان کی شہ رگ نہیں بلکہ صرف فوجیوں کی شہ رگ ہے اور سول قیادت پر اس مسئلے کو تھوپ دیا گیا ہے۔‘

جب سے عمران خان کشمیریوں کے سفیر بنے ہیں، ظاہر ہے کہ کشمیریوں میں پھر سے ایک لاغر سی امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر کچھ نہیں پھر بھی ایک ملک ان کی پشت پر ہے اور جو ان پر ہو رہے ظلم کے خلاف دنیا کو خبردار کر رہا ہے۔ پہلی بار ایسا محسوس بھی ہوا کہ وہ کشمیریوں کا کرب سمجھتے ہیں اور بغیر کسی مفاد کے انہوں نے سچے دل سے ان کی طرف داری کی ہے۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب کشمیر کئی یو ٹرنز کے بعد پاکستانی قیادت اور فوج دونوں کے لیے پھر سے شہ رگ بن گیا ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشمیر میں اگر آبادی کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی حمایت نہیں کرتا مگر وہ پاکستان کے مخالف بھی نہیں ہیں اور نہ پاکستان کی مخالفت میں کچھ سننے کے عادی ہیں۔ بھارت سے بالکل بھی نہیں۔ حتیٰ کہ بھارت نواز کشمیری بھی پاکستان کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کرسکتے۔ یہ کس طرح کا رشتہ ہے یا کس قسم کے روحانی مراسم ہیں۔ محققین اور مورخین کے لیے ایک بڑا موضوع ضرور ہے۔

27 اکتوبر کا دن کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے جس روز مہاراجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ الحاق کے بعد پہلی بار بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی تھی۔ رواں برس پاکستانی کشمیر کے باشندے بھی اس احتجاج میں سرگرم عمل ہیں حالانکہ ان پر بھی اب ڈنڈے برسنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسی دوران جب یہ خبر آتی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس روز حکومت مخالف مارچ کر رہے ہیں تو عوام کے ایک بڑے طبقے نے پہلے اس پر یقین نہیں کیا۔ جب اس خبر کی تصدیق ہوئی کہ مولانا صاحب احتجاج کر کے عمران خان کی حکومت کو گرانے والے ہیں تو ظاہر ہے کہ بیشتر کشمیریوں کو یہ بے حد ناگوار گزرا اور اُس وقت تو سب کی نیند اڑ گئی جب انہوں نے اجیت دووال کے ساتھ مولانا کی تصویر وائرل ہوتی دیکھی۔ 80 لاکھ کی آبادی پر سکتہ طاری ہوا اور وہ ایک دوسرے سے دبے منہ سوال کرنے لگے کہ کیا مولانا بھی۔

تولہ مولہ کے گاؤں میں چند روز قبل ایک عوامی مجمعے میں کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال ہو رہا تھا۔ جب پاکستان میں مولانا کے احتجاج کا ذکر آیا تو کہتے ہیں ایک نوجوان نے پوچھا کہ کیا یہ وہی مولوی ہیں جو کئی برسوں تک پاکستان میں کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور کیا یہ تصویر اُن دنوں کی ہے؟ تو قریب بیٹھے ایک بزرگ نے کہا: ’ہاں جیسے بے نظیر جلاوطنی کو ختم کرنے اور پاکستان واپس آنے کے لیے بھارت کی راہداری حاصل کرتے کرتے رہ گئی یا نواز شریف کو مودی کی دوستی کا اسی طرح ہرجانہ دینا پڑ رہا ہے جیسے شیخ عبداللہ کو پنڈت نہرو کی دوستی کا ہرجانہ دینا پڑا ہے۔‘ نوجوان جواب سن کر اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوا اور بے ساختہ بول پڑا: ’یو ٹو مولانا۔۔۔۔‘ اور مجمعے میں کئی لوگوں نے بیک وقت کہا: ’ان مولاناؤں نے پاکستان بھی نہیں بننے دیا تھا کشمیر کی تو بات ہی نہیں۔‘

نہ جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا مگر بعض واقعات سے اُن معصوم اور جذباتی لوگوں کو ضرور دکھ پہنچتا ہے جو آنکھ بند کرکے دوسروں پر اعتبار کرنے لگتے ہیں اور جب اس غیر اعتباری کا موجب مولوی بنے تو اپنا وجود بھی متزلزل ہونے لگتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ