بیمار نواز، خاموش زرداری، تیز رفتار مولانا اور عمران

حکومتی لوگوں کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ کون سا اینکر کس کے پروگرام میں بیٹھا ہے اور حکومت کے بارے میں کیا رائے زنی کرتا ہے۔ گویا اینکرز کے منہ پر تالے لگوا دینے سے کاروبار اور معیشت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔

آزادی مارچ کے ساتھ ملتان پہنچنے پر مولانا فضل الرحمٰن اپنے حامیوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے(اے ایف پی)

بیمار نواز شریف ہیں مگر زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ رہی ہے۔ ضمانت کا وقتی ریلیف نواز شریف کو ملا ہے مگر سکھ کا سانس حکومت کا نکلا ہے کہ چلو عارضی ہی سہی مگر نواز شریف کی زندگی کا بوجھ ان کے کندھوں سے اترا تو۔

جوں جوں مولانا کا آزادی مارچ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے، توں توں حکومت کے لیے پریشانیوں اور خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کے احتجاج کو تو این آر او کا نام دے کر جی کو بہلانے والا خیال اچھا ہے مگر کیا کیجیے کہ ملک بھر کے دکاندار تاجر بھی دو دن سے کاروبار کو تالہ لگا کر بیٹھے ہیں کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ان کے وارے نہیں آ رہی ہیں۔

استاد الگ دھرنا دے کر بیٹھے رہے۔ ڈاکٹرز نے ہسپتال بند کر رکھے ہیں۔ کسان اپنی زرخیز زمینوں کی بنجر فصلوں کی دہائی الگ دے رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی اپنی رپورٹ نے زرعی ملک کی زراعت کی جو حالت دکھائی ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ صورت حال یہی رہی تو خاکم بدہن پاکستان کو اپنے بھوکے پیٹ پالنے کے لیے بھی گندم کے لالے پڑ جائیں گے۔ عوام کے یہ طبقات بلا کون سا این آر او مانگ رہے ہیں جو احتجاج پر ہیں۔

حکومتی لوگوں کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ کون سا اینکر کس کے پروگرام میں بیٹھا ہے اور حکومت کے بارے میں کیا رائے زنی کرتا ہے۔ گویا اینکرز کے منہ پر تالے لگوا دینے سے کاروبار اور معیشت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔ گویا اینکرز کے ہاتھ باندھ دینے سے ٹیکوں کے خزانوں کی بوریوں پر بندھی رسیاں کھل جائیں گی۔ گویا اینکرز کے نہ بولنے سے گڈ گورننس کے ساتوں سُر تال میں آ جائیں گے۔

ادھر مولانا فضل الرحمٰن کو دیکھیے تو سندھ سے پنجاب تک کا سفر جس تیزی سے انہوں نے طے کیا ہے اور جتنا ہجوم ان کے ساتھ ہے، یہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہو سکتی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جے یو آئی ف محض معاہدے میں طے کردہ مقام تک ہی محدود نہیں رہے گی اور پیش قدمی کرنے کا ارادہ ضرور رکھتی ہے۔ حکومت بھی ایسی صورت حال میں سخت ایکشن کا واضح پیغام دے چکی ہے۔

خدانخواستہ حالات تصادم کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ ایک دو اطلاعات مزید گوش گزار کر دی جائیں۔ پاکستان کی سیاست کے نازک موڑ میں (جو اکثروبیشتر ہی آتے رہتے ہیں) اہم کردار ادا کرنے والے ایک برادر ملک کے انتہائی اہم سفیر شخصیت کی جو ملاقات گذشتہ دنوں حکومتی اتحادیوں سے ہوئی، ان کا محور و مرکز مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ اور دھرنا ہی رہا۔ لیکن اس ملاقات میں کوئی خاص بات بن نہ پائی۔ وجوہات اس وقت لکھنا ممکن نہیں۔ ہو سکتا ہے تب تحریر کر دوں جب مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ راولپنڈی پہنچ جائے۔

اس اہم ملاقات کے بعد کچھ اہم ترین پیغامات بیک ڈور سے جے یو آئی ف کی مرکزی قیادت تک ایک بار پھر پہنچائے گئے جن میں کچھ حکومتی آفرز بھی شامل تھیں لیکن مولانا کی طرف سے فی الحال معذرت کرلی گئی کہ اب جو بھی بات ہوگی وہ 31 اکتوبر کے بعد کی جائے گی۔

دھیان رہے کہ بلاول بھٹو کی اپنے والد ’خطروں کے کھلاڑی‘ زرداری کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیر اعظم کے استعفے کے بارے میں پُریقین بیان بھی کچھ کہانی بیان کر رہا ہے۔ بیماری کے باوجود آصف زرداری کا تحمل اور حالات کا انتظار بڑا واضح اشارہ ہے۔ انتہائی خاموشی سے آصف زرداری بھی نئی سیاسی چال کے بدلتے پینترے کا حصہ ہیں۔ نواز شریف تو حکومت کے لیے سیاسی آسیب ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی طور پر اسے جتنا مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کا سایہ مزید گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔

بیمار نواز شریف ہیں مگر زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ رہی ہے۔ ایک طویل عرصے سے حکومت کا سب سے بڑا فریقِ مخالف خاموش ہے لیکن خود اپنی کوتاہ اندیشیوں سے اقتدار والوں نے آج ہر ایک کے منہ میں نواز شریف کی زبان ڈال دی ہے۔ ہم جیسے چند بے ضرر مخلص لوگ حکومت والوں اور اقتدار والوں کو لمبے عرصے سے مفت مشورے دے رہے تھے کہ سمت درست نہیں، ترجیحات درست نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ تبدیلی کا گھوڑا ایسا سرپٹ دوڑا کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ صحیح وقت پر لگام تھام لی جاتی اور سمت ٹھیک کر لی جاتی تو آج پے در پے مشکلات کے بھنور کا شکار نہ ہوتے لیکن کیا کیجیے کہ اقتدار کا ہما جب سر پر بیٹھتا ہے تو اپنے خوبصورت پروں سے مقتدر کے کانوں پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ سوائے اس ہما کی خوش الحان سروں میں خوشامد کے اور کچھ سنائی نہیں پڑتا، یہاں تک کہ احساس ہی نہ ہو کہ یہ اقتدار کا خوبصورت ہما سر پر بیٹھے بیٹھے کب سر ہی اڑا کر لے گیا۔

اسلام آباد کی دھیرے دھیرے سرد ہوتی ہوائیں تو ممکنہ قومی حکومت کے سربراہان کی پیش گوئیاں بھی کرنے لگی ہیں۔ کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا۔ کہیں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے وزیر کا جو ماضی میں صدر، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں تو کہیں دبی دبی آوازیں عمر رسیدہ مگر جہاں دیدہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں جو ماضی میں قومی اسمبلی کی امامت بھی کر چکے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں اور اتنے ہی آپشنز ۔۔۔۔۔ ایک بات تو کم از کم عیاں ہو رہی ہے کہ ’اگلا کون‘ پر بہرحال بات شروع ہو گئی ہے۔

یہ وہی ماحول ہے جس کی طرف مولانا بار بار اشارہ کر رہے ہیں کہ طبلِ جنگ بج چکا ہے۔ کسی نہ کسی کو تو واپسی کا راستہ لینا ہی ہے۔ مولانا تو اقتدار کے ایوانوں سے حکمرانوں کو نکالنے کا بہت بڑا اعلان اپنے مارچ کے پنجاب میں قیام کے دوران ہی کر چکے اور اس کے لیے جو روٹ انہوں نے منتخب کیا وہ اسلام آباد براستہ راولپنڈی ہے۔

کالم کے آخر میں آخری عرضیہ کی تحریر لکھتے لکھتے خبر آئی کہ لبنان میں بھرپور عوامی مظاہروں کے آگے پسپائی اختیار کرتے وزیر اعظم سعد حریری نے استعفیٰ دے دیا۔ وزیر اعظم کا استعفیٰ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ تھا۔ مظاہرین کا احتجاج صرف 13 دن تک قائم رہا اور مکمل پرامن رہا۔ دو ہفتوں کے احتجاج میں البتہ لبنان بھر میں سکول، دفاتر، کاروبار، بینک بند رہے۔ ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے بعد ازاں خراب معاشی صورت حال اور بیڈ گورننس کے بارے میں عوامی اشتعال کو بھی ہوا دی۔

خدا کرے کہ پاکستان میں ایسی صورت حال نہ بنے۔۔۔۔۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ